
جگدل پور ،19مئی (ہ س )۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں آج نگل کو جگدل پور میں وسطی علاقائی کونسل کی 26ویں اعلیٰ سطحی میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس میں چھتیس گڑھ سمیت چار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں۔ پہلی بار بستر میں منعقد ہونے والی اس اہم میٹنگ کو سیکورٹی، ترقی اور ریاستوں کے درمیان تال میل کے لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس موقع پر انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ جگدل پور شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی کے ساتھ میٹنگ میں شریک ہوئے۔ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دریں اثنا، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ منگل کی صبح جگدل پور پہنچے۔ وزیر اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کی آمد کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے ہوائی اڈے سے جلسہ گاہ تک سخت نگرانی رکھی ہوئی ہے۔
میٹنگ میں کئی اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں بین ریاستی تال میل، داخلی سلامتی، نکسل سے متاثرہ علاقوں کی ترقی، تعلیم اور صحت خدمات، غذائیت کی اسکیمیں، بجلی اور شہری ترقی، تعاون اور انتظامی تعاون شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔ اس ملاقات کو سیاسی اور انتظامی نقطہ نظر سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ کونسل کے اجلاس کے بعد، وسطی علاقے بشمول بستر میں ترقیاتی منصوبوں کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ نکسل سے متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی اور مربوط کارروائی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ بھی تیار کیے جانے کی امید ہے۔
بستر، جو کبھی نکسلائیٹ واقعات کی وجہ سے خبروں میں رہتا تھا، اب تیزی سے ترقی اور امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ قومی سطح کے اس بڑے اجلاس کے انعقاد کو بستر کی بدلتی ہوئی شناخت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی وشنو دیو سائے نے کہا کہ بستر میں اس طرح کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد پورے خطے کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بستر اب امن، اعتماد اور ترقی کی نئی علامت بن رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

