
مکة المکرمہ ،24مئی (ہ س)۔حج 1447 ہجری کے دوران صحت کے نظام نے 3 ہزار سے زائد مختلف اقسام کی ایمبولینس گاڑیاں اور 11 فضائی ایمبولینس طیارے تعینات کیے ہیں، جو شدید نوعیت کے مریضوں کے لیے فضائی امدادی نظام کا حصہ ہیں۔یہ تمام اقدامات جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات سے لیس ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل اور بہتر طبی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی جب وزیرِ صحت فہد الجلاجل نے فیلڈ دورہ کیا اور حج کے لیے مختص صحت کے نظام کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران انہوں نے خدمات کے معیار اور کارکردگی کا مشاہدہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نظام صحت، صحت کے شعبے کی تبدیلی کے پروگرام اور ''خدمتِ ضیوف الرحمن'' کے اہداف کے مطابق کام کر رہا ہے، جو سعودی وڑن 2030 کا حصہ ہیں۔
صحت کے نظام کے تحت مختلف اداروں نے اس عملی جائزے اور تیاریوں میں شرکت کی، جن میں نیشنل یونائیفائیڈ پروکیورمنٹ کمپنی برائے ادویات، طبی آلات اور سامان (نوبکو) بھی شامل تھی۔کمپنی نے جدید اختراعات پیش کیں، جن میں طبی سامان کی تیز تر ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔اسی طرح جنرل اتھارٹی برائے خوراک و ادویات نے اپنی جدید نگرانی اور معائنہ کے نظام کی نمائش کی، جو خصوصی ریفریجریٹرز، باڈی کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں۔یہ نظام حج سیزن کے دوران فیلڈ سطح پر نگرانی اور کنٹرول کے عمل کو مزید مو ¿ثر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ہیلتھ ہولڈنگ کمپنی نے ایمبولینس فلیٹ کے انتظام اور طبی اسکریننگ سے متعلق متعدد جدید تکنیکی نظام پیش کیے۔ اس کے ساتھ الیکٹرک اسکوٹرز اور برقی ایمبولینس بائیکس بھی شامل تھیں، جو طبی عملے کی نقل و حرکت کو تیز کرنے اور ہنگامی مریضوں تک فوری رسائی کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔اس نمائش میں سعودی ہلال احمر کے آپریشنل منصوبے کو بھی شامل کیا گیا، جس کے تحت مختلف اقسام کی ایمبولینس گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ان میں تیز رفتار رسپانس گاڑیاں، الیکٹرک گالف کارٹس، موٹر سائیکلیں، بائیسکلز، اسکوٹرز اور فضائی ایمبولینس سروس شامل ہے، جو شدید نوعیت کے مریضوں کی فوری مدد کے لیے مختص ہیں۔نمائش میں پیش کی جانے والی اہم ٹیکنالوجیز میں ایئرکنڈیشنڈ برقی گالف گاڑیاں شامل تھیں، جو بھیڑ والے مقامات اور پیدل راستوں میں ہنگامی طبی حالات سے نمٹنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ برقی ایمبولینس کرسیاں ''رفیدہ'' بھی متعارف کرائی گئیں، جو زیادہ رش والے راستوں میں تیزی سے مریضوں تک پہنچنے اور فوری طبی امداد فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔یہ تمام اقدامات وزیرِ صحت کے مسلسل فیلڈ دوروں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حج کے لیے صحت کے نظام کی تیاری کا جائزہ لینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حجاج کو بہترین معیار، مو ¿ثر کارکردگی اور مکمل سہولت کے ساتھ خدمات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ اپنے مناسک سکون اور صحت کے ساتھ ادا کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

