
امراوتی، 27 اگست (ہ س): امراوتی کے ضلع خواتین اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں پیر کی صبح پیش آنے والی آتشزدگی کے بعد 36 نومولود بچوں کو حفاظتی اقدام کے طور پر دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں 3 نومولود بچوں کی موت ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد ریاستی وزیر برائے محصولات اور امراوتی کے سرپرست وزیر چندرشیکھر باونکولے نے صبح 4 بجے سے متعلقہ تمام محکموں سے رابطہ کرکے فوری اقدامات کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔
بتایا گیا ہے کہ ضلع خواتین اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ابتدائی طور پر وینٹی لیٹر میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 3 نومولود بچوں کے اہل خانہ کے لیے حکومت کی جانب سے فی خاندان 5 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرپرست وزیر چندرشیکھر باونکولے کی ہدایات پر حفاظتی نقطہ نظر سے مجموعی طور پر 36 نومولود بچوں کو علاج کے لیے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ان میں سے 29 نومولود بچوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کا مفت علاج جاری ہے۔ ان میں ڈاکٹر پنجاب راؤ دیشمکھ میڈیکل کالج اور اسپتال میں 19، مڑکے اسپتال میں 8 اور پاریجات اسپتال میں 2 نومولود بچے شامل ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہوپ اسپتال میں بھی 8 نومولود بچوں کو داخل کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، 7 نومولود بچے اپنی ماؤں کے ساتھ ضلع خواتین اسپتال، امراوتی میں طبی نگرانی میں محفوظ ہیں۔ دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیے گئے نومولود بچوں کے علاج کے اخراجات سرپرست وزیر چندرشیکھر باونکولے کی ہدایات کے مطابق مفت کیے گئے ہیں۔
واقعے کا وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے بھی فوری نوٹس لیا۔ ان کی ہدایت پر وزیر صحت پرکاش آبٹیکر اور محکمہ صحت کے سیکریٹری کو جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ دونوں نے اسپتال پہنچ کر جائے وقوعہ کا جائزہ لیا اور صورتحال کا معائنہ کیا۔ واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کے لیے صحت کمشنر کی سربراہی میں 10 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کرکے 7 دن کے اندر حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تحقیقات کے ذریعے آگ لگنے کی وجوہات اور واقعے سے متعلق دیگر ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دریں اثنا، سرپرست وزیر چندرشیکھر باونکولے کی ہدایات پر امراوتی ضلع کی تمام بڑی تنصیبات اور اداروں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آگ سے بچاؤ کی مشق بھی ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ بڑے اداروں میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ اور حفاظتی مشقوں کے ذریعے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے

