Dailyhunt
مدھیہ پردیش میں تجارتی بہبود بورڈ قائم ہوگا، ترقیاتی کاموں کے لیے 38,555 کروڑ روپے منظور

مدھیہ پردیش میں تجارتی بہبود بورڈ قائم ہوگا، ترقیاتی کاموں کے لیے 38,555 کروڑ روپے منظور

مدھیہ پردیش میں تجارتی بہبود بورڈ قائم ہوگا، ترقیاتی کاموں کے لیے 38,555 کروڑ روپے منظور

۔ مدھیہ پردیش کابینہ نے ''دالوں میں خود کفالت مشن'' کے لیے 2442.04 کروڑ روپے کی منظوری دی

بھوپال، 05 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو وزارت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں مدھیہ پردیش تجارتی بہبود بورڈ (ویاپار کلیان بورڈ) کی تشکیل کا فیصلہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 38,555 کروڑ روپے کی منظوری دی، جبکہ دالوں میں خود کفالت مشن کے لیے 2442 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری دی گئی۔

ریاست کے ایم ایس ایم ای وزیر چیتنیا کمار کاشیپ نے کابینہ میں لیے گئے فیصلوں کی معلومات دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست کی تجارتی برادری کے مفادات کے تحفظ، ان کی ہمہ جہت ترقی اور مسائل کے فوری حل کے لیے 'ریاستی تاجر بہبود بورڈ' اور ضلع سطح کی کمیٹیوں کی تشکیل کی منظوری دی ہے۔ حکومت ہند کے ذریعے قائم کردہ قومی تاجر بہبود بورڈ کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اٹھائے گئے اس قدم کا بنیادی مقصد ریاست کے تاجروں اور حکومت کے درمیان براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنا ہے، تاکہ تجارتی شعبے کی رکاوٹوں کو دور کر کے ریاست کی معیشت کو رفتار دی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ریاستی تاجر بہبود بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔ صنعتی پالیسی و سرمایہ کاری کی ترغیب اور ایم ایس ایم ای کے وزراء اس کے ارکان ہوں گے۔ انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے خزانہ، زراعت، صحت، توانائی، معدنیات، سائنس و ٹیکنالوجی، تکنیکی تعلیم اور سیاحت جیسے اہم محکموں کے سینئر افسران کے ساتھ ریاستی پالیسی کمیشن، ریزرو بینک آف انڈیا، نابارڈ، این ایچ اے آئی اور ایف ایس ایس اے آئی جیسے بڑے قومی اداروں کے سربراہوں کو بھی بورڈ کا آفیشل ممبر بنایا گیا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی گورننس انسٹی ٹیوٹ اور آر سی پی وی نورونہا اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کو بطور عہدہ ممبر شامل کیا گیا ہے۔ بورڈ میں ملک کی ممتاز تجارتی تنظیموں جیسے سی آئی آئی، فکی، ڈکی، فیو اور لگھو ادیوگ بھارتی کے ریاستی سربراہان کو بورڈ میں بطور آفیشیو ممبران شامل کیا گیا ہے۔ علاقائی اتھارٹی ڈی جی ایف ٹی کو ممبر اور مدھیہ پردیش انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ممبر سکریٹری کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ریاستی تاجر بہبود بورڈ میں ضرورت کے مطابق ترمیم چیئرمین کی اجازت سے کی جا سکے گی۔ ضلع سطح کی کمیٹی کی تشکیل اور دائرہ کار کا تعین ممبر سکریٹری کے ذریعے کیا جائے گا۔ ریاستی تاجر بہبود بورڈ کا اجلاس کیلنڈر سال میں چار بار یعنی ہر 3 ماہ میں ایک بار اور ضلع سطح کی کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ میں ایک بار منعقد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست میں ''دالوں میں خود کفالت مشن'' کو آئندہ 5 برسوں (01 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک) جاری رکھنے کے لیے 2442 کروڑ 04 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اسکیم کے نفاذ کے حوالے سے ضروری قواعد و ضوابط جاری کرنے کے لیے محکمہ کسان بہبود اور زرعی ترقی کو بااختیار بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے دالوں کی فصلوں میں خود کفیل بننے کے لیے قومی فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن مشن میں سے دالوں کی فصل کو الگ کر کے ''دالوں میں خود کفالت مشن'' 11 اکتوبر 2025 کو شروع کیا گیا تھا۔ حکومت ہند نے مرکز کے زیرِ انتظام اسکیم کے طور پر نئے مشن ''دالوں میں خود کفالت مشن'' کو منظوری دی ہے۔ مشن کا مقصد دالوں کی پیداوار میں اضافہ اور رقبے کی توسیع کرنا، کسانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق بہتر بیجوں کی پیداوار اور دستیابی بڑھانا، اور کٹائی کے بعد کی پروسیسنگ، اسٹوریج اور مینجمنٹ کی تکنیکوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ریاست میں اس مشن کے نفاذ سے بریڈر سیڈ، بیجوں کی پیداوار، تقسیم، مظاہرے اور تربیت ہوگی۔ ساتھ ہی کٹائی کے بعد کے انفراسٹرکچر (پروسیسنگ اور پیکیجنگ یونٹ) کی ترقی سے کسان مستفید ہوں گے اور دالوں کی فصلوں کے رقبے میں توسیع کو فروغ ملے گا اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی اور عوامی بہبود کے لیے مختلف محکموں کی 38 ہزار 555 کروڑ روپے کی اہم مالی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے محکمہ تعمیرات عامہ کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور مکانات کی دیکھ بھال کے لیے 32,405 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ منظوری کے مطابق سڑکوں اور پلوں کی دیکھ بھال سے متعلق اسکیم کو 16 ویں مالیاتی کمیشن کی مدت (1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک) کے دوران جاری رکھنے کے لیے 6150 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح 'ایف' ٹائپ اور اس سے نیچے کے زمرے کے سرکاری مکانات کی دیکھ بھال کے لیے 1345 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ دیہی سڑکوں اور دیگر ضلع شاہراہوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے لیے 24 ہزار 300 کروڑ روپے کی منظوری سمیت سڑکوں کے تحفظ سے متعلق کاموں کے لیے 16 ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے لیے 610 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔

وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کے تحت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کاموں کو جاری رکھنے کے لیے 1295 کروڑ 52 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ منظوری کے مطابق آر سی بی سی، ڈی ای جی ایس اور این آئی سی وغیرہ مراکز کو آئندہ پانچ برسوں (1 مارچ 2026 سے 31 مارچ 2031 تک) چلانے کے لیے 244 کروڑ 20 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ کابینہ نے 16 ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے لیے ریاست میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز کے قیام کے لیے 225 کروڑ 32 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اس کے تحت بھوپال کے بانڈیکھڑی میں 209.47 ایکڑ رقبے پر کلسٹر قائم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری کی ترغیب سے متعلق اسکیم کو جاری رکھنے کے لیے 300 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔ کابینہ نے ریاست میں اسٹیٹ وائیڈ ایریا نیٹ ورک کے قیام اور آپریشن کو 01 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کے لیے 526 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

کابینہ نے خواتین اور بچوں کی ترقی کے تحت نئے، زیر تعمیر نامکمل اور شروع نہ ہونے والے آنگن واڑی مراکز کی تعمیر اور مربوط بچوں کے تحفظ کی اسکیم کے لیے تقریباً 2 ہزار 412 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ منظوری کے مطابق آنگن واڑی مراکز کے لیے عمارتوں کی تعمیر کے تحت 1500 نئے آنگن واڑی مراکز کی تعمیر سے متعلق اسکیم کو مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک نافذ کرنے کے لیے 1800 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ ساتھ ہی اسی مدت میں حکومت ہند کی منظور شدہ مربوط بچوں کے تحفظ کی اسکیم 'مشن واتسلیہ' کے لیے 606 کروڑ 68 لاکھ اور سوچھتا ایکشن پلان کے لیے 5 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu