
نئی دہلی، 16 مئی (ہ س)۔ راؤز ایونیو سیشن کورٹ میں 1980 میں ووٹر لسٹ میں سونیا گاندھی کا نام مبینہ طور پر شامل کرنے کے بارے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر آج سماعت سونیا گاندھی کے وکیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملتوی کردی گئی۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے کیس کی اگلی سماعت 4 جولائی کو کرنے کا حکم دیا۔
درخواست گزار کی جانب سے الیکشن کمیشن کی رپورٹ ہفتہ کو دائر کی گئی۔ اس سے قبل عدالت نے دونوں فریقین کو 18 اپریل کو تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت دی تھی۔ 18 اپریل کو درخواست گزار کے دلائل مکمل ہوئے۔ درخواست وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی تھی۔ ترپاٹھی نے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کو خارج کرنے کے مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ 9 دسمبر 2025 کو عدالت نے سونیا گاندھی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔
اس سے پہلے 11 ستمبر کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں 1980 میں ہی شامل کیا گیا تھا، جب کہ وہ 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں۔درخواست میں کہا گیا کہ سونیا کا نام 1980 میں ہی دہلی کے نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جب کہ وہ اس وقت ہندوستانی شہری بھی نہیں تھیں۔ اس درمیان سونیا کا نام 1982 میں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں 1983 میں ان کا نام دوبارہ شامل کیا گیا۔ سونیا گاندھی 1983 میں ہندوستانی شہری بن گئیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی نے اپریل 1983 میں بھارتی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔درخواست میںدلیل دی گئی ہے کہ جب سے سونیا گاندھی 1983 میں بھارتی شہری بنی ہیں، تو 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کرائی ہوں گی ، جو قابلِ سزا جرم ہے۔ اس لیے عدالت سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے۔ مجسٹریٹ کورٹ نے اس معاملے میں سونیا گاندھی یا دہلی پولیس کو نوٹس جاری نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

