
واشنگٹن، 22 اگست (ہ س)۔
بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق معاملے کو حل کرنے کے لیے ٹک ٹاک اور اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکی محکمہ انصاف کو 400 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اس معاہدے کو بچوں اور ان کے والدین کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، ٹک ٹاک فوری طور پر محکمہ انصاف کو 300 ملین ڈالر ادا کرے گا۔ باقی 100 ملین ڈالر اس وقت ادا کیے جائیں گے جب عدالت ٹک ٹاک کے پرانے ورژن میوزیکل ڈاٹ لی سے متعلق سابقہ رضامندی کے حکم کو منسوخ کردے گی۔
امریکی محکمہ انصاف نے 2024 میں ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ الزام تھا کہ پلیٹ فارم نے بچوں کی آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ (کوپا) کی خلاف ورزی کی۔
اس معاملے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک نے 13 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی اور والدین کی درخواست کے باوجود ان کے اکاؤنٹس اور ذاتی ڈیٹا کو حذف کرنے میں ناکام رہا۔
امریکی محکمہ انصاف کے ایسوسی ایٹ اٹارنی جنرل اسٹینلے و±ڈورڈ جونیئر نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکی بچوں اور والدین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ترجیح بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنا اور کمپنیوں کو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے جواب دہ بنانا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق، مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد ٹک ٹاک نے اپنی ملکیت، انتظامی ڈھانچے، تعمیل کے نظام اور پرائیویسی سے متعلق طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
محکمہ نے بتایا کہ اب ٹک ٹاک کا امریکی کاروبار ٹک ٹاک یو ایس ڈی ایس مشترکہ منصوبے کے کنٹرول میں ہے، جس میں امریکی سرمایہ کاروں کی اکثریتی حصہ داری ہے۔
ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس طویل عرصے سے امریکہ میں قومی سلامتی اور ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے تحقیقات کے دائرے میں رہے ہیں۔ 2024 میں منظور کیے گئے ایک امریکی قانون کے تحت بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک میں اپنی حصہ داری فروخت کرنے یا امریکہ میں ایپ پر پابندی کا سامنا کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
امریکی حکام کی تشویش کی ایک بڑی وجہ بائٹ ڈانس کے چین سے تعلقات رہے ہیں۔ امریکی فریق کو خدشہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت تک پہنچ سکتا ہے۔ ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس نے ان الزامات کی مخالفت کی ہے۔
نئے معاہدے کے تحت 400 ملین ڈالر کی ادائیگی اور پرائیویسی سے متعلق اقدامات میں تبدیلی کو اس تنازعے کو حل کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

