Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
سائبر فراڈ کے 4.09 کروڑ کے کھیل کا پردہ فاش، بین ریاستی گروہ کے پانچ ارکان گرفتار

سائبر فراڈ کے 4.09 کروڑ کے کھیل کا پردہ فاش، بین ریاستی گروہ کے پانچ ارکان گرفتار

گورکھپور، 09 اکتوبر (ہ س)۔

سائبر فراڈ کی رقم کو بینک کھاتوں کے جال میں کھپا کر نقدی نکالنے اور پھر کرپٹو کرنسی کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجنے والے مبینہ بین ریاستی گروہ کا گورکھپور پولیس نے پردہ فاش کیا ہے۔ سائبر کرائم سیل اور چلواتال پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں گروہ سے وابستہ 34 میول بینک کھاتوں کے ذریعے 4 کروڑ 9 لاکھ 11 ہزار 738 روپے کے سائبر فراڈ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 13 لاکھ 76 ہزار 700 روپے نقد سمیت بڑی مقدار میں الیکٹرانک آلات، بینکنگ دستاویزات اور گاڑیاں برآمد کی ہیں۔

پولیس لائن میں واقع وائٹ ہاوس آڈیٹوریم میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم) ایودھیا پرساد سنگھ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس / سی او کینٹ و کرائم ارون کمار سنگھ نے معاملے کا انکشاف کیا۔ افسران نے بتایا کہ یہ گروہ سائبر دھوکہ دہی اور آن لائن سرمایہ کاری و کاروبار کے نام پر لوگوں سے دھوکہ دہی کر کے حاصل کی گئی رقم کو مختلف بینک کھاتوں میں منگواتا تھا۔ اس کے بعد اے ٹی ایم کارڈ اور چیک کے ذریعے کھاتوں سے نقدی نکالی جاتی تھی۔ رقم میں سے کمیشن وضع کرنے کے بعد بقیہ رقم غیر ملکی ایجنٹوں کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے مخصوص ڈیجیٹل والٹس میں بھیج دی جاتی تھی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گروہ کے ارکان لوگوں کو بینک کھاتے فراہم کرنے کے عوض کمیشن کا لالچ دیتے تھے۔ اس کے بعد کھاتہ داروں کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک اپنے قبضے میں لے کر ان کھاتوں کا استعمال مبینہ طور پر سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کے لین دین میں کیا جاتا تھا۔ کھاتوں میں رقم پہنچتے ہی اسے نکالنے اور آگے بھیجنے کا عمل شروع کر دیا جاتا تھا۔

گروہ میں ارکان کے کردار الگ الگ طے شدہ تھے۔ کچھ لوگ بینک کھاتے فراہم کرنے اور نقدی نکلوانے کا کام کرتے تھے، جبکہ دیگر ارکان رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کروا کر ڈیجیٹل والٹ تک پہنچانے میں شامل بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس اب اس نیٹ ورک کے مالی لین دین، کھاتہ داروں کے کردار اور غیر ملکی ایجنٹوں سے رابطے کے طریقوں کی چھان بین کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت مہاراج گنج ضلع کے نوتنوا تھانہ علاقے کے وارڈ نمبر 14 میں واقع گوتم بدھ نگر کے رہائشی نونیت پانڈے عرف آدیش پانڈے، چندولی کے رہائشی آدرش سنگھ عرف تھائنوس، گورکھپور کے راج گھاٹ تھانہ علاقے میں بسنت پور رین بسیرہ کے پیچھے رہنے والے روی ورما، ایمس تھانہ علاقے کے کوڑھا گھاٹ میں واقع آواس وکاس کالونی کے رہائشی پرگیا رتن اور چلواتال تھانہ علاقے کے کریم نگر کے رہائشی مقصود عالم خان کے طور پر ہوئی ہے۔

جانچ کے دوران سامنے آنے والے 34 میول بینک کھاتوں سے متعلق شکایات ملک کی 14 ریاستوں سے وابستہ ہیں۔ ان میں بہار، گجرات، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، پنجاب، راجستھان، تلنگانہ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ اور اتر پردیش شامل ہیں۔ ان کھاتوں سے متعلق شکایات میں کل 4,09,11,738 روپے کے سائبر فراڈ کا ذکر ہے۔

پولیس یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ ان کھاتوں کے ذریعے درحقیقت کتنی رقم کا لین دین ہوا، کن لوگوں نے دانستہ طور پر اپنے بینک کھاتے فراہم کیے اور اس نیٹ ورک کے تانے بانے کن دیگر افراد اور غیر ملکی ایجنٹوں سے جڑے ہیں۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے پانچ موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ، 22 اے ٹی ایم کارڈ، تین چیک بکس، تین پاس بکس، دو جعلی مہریں، 13 لاکھ 76 ہزار 700 روپے ہندوستانی کرنسی، 4,710 روپے نیپالی کرنسی، ایک کیش کاونٹنگ مشین، ایک چار پہیہ گاڑی اور ایک موٹر سائیکل برآمد کی ہے۔ برآمد شدہ سامان کو جانچ میں اہم ثبوت مانا جا رہا ہے۔

اس معاملے میں چلواتال تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات (4)317، (5)317، 338 اور (3)336 نیز انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات 66 سی اور 66 ڈی کے تحت کارروائی کی ہے۔ پولیس نے کرشنا شرما (ساکن سورج کنڈ، تھانہ تیواری پور)، دیویانشو شیکھر شکلا (ساکن بشارت پور، تھانہ شاہ پور)، آدرش دویدی، ودت اور گووند ورما کو معاملے میں مطلوب قرار دیا ہے۔ پولیس ان کی تلاش کے ساتھ ساتھ گروہ کے دیگر ارکان اور غیر ملکی ایجنٹوں کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ افسران کے مطابق، سائبر فراڈ کی رقم کے اصل ماخذ، اس کے لین دین کی پوری کڑی اور آخری منزل کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

اس کارروائی میں انچارج انسپکٹر ساجد علی خان، چلواتال کے تھانہ صدر سورج سنگھ، سب انسپکٹر اوپیندر سنگھ، ششی کانت جیسوال سمیت سائبر کرائم سیل اور چلواتال پولیس ٹیم کے دیگر ارکان شامل رہے۔ پولیس افسران نے بتایا کہ معاملے کی باریکی سے جانچ کر کے گروہ سے وابستہ دیگر افراد تک پہنچنے اور سائبر جرائم سے حاصل شدہ رقم کے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu