Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مدھیہ پردیش میں سورج کی تپش سے درجہ حرارت 47 ڈگری پہنچا، ریاست کے کئی اضلاع میں شدید لو کی وارننگ

مدھیہ پردیش میں سورج کی تپش سے درجہ حرارت 47 ڈگری پہنچا، ریاست کے کئی اضلاع میں شدید لو کی وارننگ

بھوپال، 19 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اس وقت شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ کی زد میں ہے۔ ریاست میں چھترپور ضلع کا کھجوراہو شہر سب سے زیادہ تپ رہا ہے۔ یہاں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ 46.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ ریاست کے 22 بڑے شہروں میں بھی زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 44 ڈگری یا اس سے زیادہ درج کیا گیا ہے۔ منگل کو بھی صبح سے ہی تیز دھوپ کی وجہ سے لوگ بے حال ہیں۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے آج کے لیے بھی ریاست میں ''شدید لو'' کا اورینج الرٹ جاری کیا ہے۔

ہندوستانی محکمۂ موسمیات کے مطابق، کھجوراہو شہر کی تاریخ میں پیر کا دن دوسرا سب سے گرم دن رہا۔ اس سے پہلے 29 اپریل 1993 کو یہاں سب سے زیادہ 46.9 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت درج کیا گیا تھا۔ وہیں، چھترپور ضلع کے ہی نوگاوں میں بھی پارہ 46 ڈگری سیلسیس پر پہنچ گیا۔ اس سیزن میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب ریاست کے 22 بڑے شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 44 ڈگری یا اس سے زیادہ درج کیا گیا ہے۔ راجدھانی بھوپال میں بھی پارہ 44 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں تیز تپش کے باعث ڈامر کی سڑکیں تک پگھلتی ہوئی نظر آئیں۔ منگل کو بھی ریاست میں شدید گرمی کا قہر جاری ہے، جہاں ریاست کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 44 ڈگری کے آس پاس درج کیا گیا ہے۔

اس بار کی گرمی نے پچھلے کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پیر کو اندور میں 44.3 ڈگری، جبل پور میں 44.2 ڈگری، اجین میں 44 ڈگری اور گوالیار میں 43.7 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت درج کیا گیا۔ بھوپال، اندور، اجین اور جبل پور جیسے بڑے شہروں میں پچھلے سال کے مقابلے اس بار کہیں زیادہ گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔

ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ اس شدید گرمی اور حبس کی اہم وجہ جنوب مغربی ہوائیں ہیں، جنہوں نے ماحول میں تپش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ لگاتار چلنے والی گرم ہواوں (لو) اور حبس کی وجہ سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوپہر کے وقت شہروں کی اہم سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا چھایا رہتا ہے۔ لوگ صرف بیحد ضروری کام ہونے پر ہی گھروں سے باہر نکل رہے ہیں اور جو لوگ باہر آ بھی رہے ہیں، وہ لو کے تھپیڑوں سے بچنے کے لیے اپنے سر اور چہرے کو کپڑوں سے پوری طرح ڈھانپ کر سفر کر رہے ہیں۔

درجۂ حرارت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو چھترپور کے دونوں شہروں کے علاوہ راج گڑھ میں 45.5 ڈگری، رتلام میں 45.4 ڈگری، کھنڈوا میں 45.1 ڈگری، جبکہ شاجاپور، شیوپور اور مرینا میں پارہ 45 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ دموہ و ستنا میں 44.8 ڈگری، ساگر میں 44.7 ڈگری، گنا و ریوا میں 44.5 ڈگری، رائسین میں 44.4 ڈگری، کھرگون میں 44.2 ڈگری، دھار میں 44.1 ڈگری نیز ٹیکم گڑھ اور منڈلا میں درجۂ حرارت 44 ڈگری سیلسیس رہا۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے کہا ہے کہ ابھی راحت کی کوئی امید نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت میں 2 سے 3 ڈگری سیلسیس کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے منگل کے لیے بھی ریاست میں ''شدید لو'' کا اورینج الرٹ جاری کیا ہے۔ خصوصاً بھنڈ، دتیا، نیواڑی، ٹیکم گڑھ اور چھترپور اضلاع میں انتہائی گرم ہوائیں چلنے کا خدشہ ہے، جہاں پارہ 45 ڈگری یا اس سے پار جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھوپال، اندور، گوالیار، اجین، رتلام، دھار، کھرگون، کھنڈوا، ساگر اور دموہ سمیت 28 سے زائد اضلاع میں بھی ہیٹ ویو (لو) کی وارننگ دی گئی ہے۔ وہیں، جبل پور، ریوا، ستنا اور شہدول سمیت دیگر مشرقی اضلاع میں اگرچہ لو کا الرٹ نہیں ہے، لیکن وہاں بھی حبس بھری تیز گرمی لوگوں کو پریشان کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu