
حیدرآباد ، 24 مئی (ہ س) ۔بینکوں میں 500کے کرنسی نوٹوں کی قلت اور بدعنوان عہدیداروں کے مکانات میں دھاوے کے دوران کروڑہا روپئے کے 500 کے کرنسی نوٹوں کی برآمد گی کے سلسلہ نے عوام اور بینک کاری نظام سے جڑے ہوئے عہدیداروں کو تشویش میں مبتلاء کرنا شروع کردیا ہے ۔ دونوں شہروں میں موجود مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم میں 500 کے کرنسی نوٹوں کی عدم موجود گی اور ان کی جگہ 200 اور100 کے کرنسی نوٹوں کی اجرائی عمل میں لائی جار ہی ہے اور بینکوں میں 500 روپئے کے کرنسی نوٹ زیادہ مقدار میں جاری کرنے سے گریز کئے جانے کے سبب عوام میں شبہات پائی جانے لگے ہیں۔ ملک کے مختلف مقامات پر بدعنوان عہدیداروں کے پاس کئے جانے والے دھاوؤں کے دوران 1 تا 5 کروڑ کے نقد کرنسی جو کہ بیشتر 500 کے کرنسی نوٹوں کی شکل میں دستیاب ہورہی ہے یہ معمول کی بات بن چکی ہے لیکن ہندستانی شہریوں کو بینک کے ذریعہ 500 کے کرنسی نوٹ جاری کرنے سے کئے جانے والے گریز سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی سے زیادہ عوام کو مشکلات میں مبتلاء کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ دونوں شہروں کے اے ٹی ایم مراکزمیں 500 کے کرنسی نوٹوں کی قلت کے سلسلہ میں بینکوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق کرنسی کے چلن اور بازار میں موجود کرنسی نوٹوں کی تعداد کے مطابق کرنسی نوٹوں کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ عوام میں شبہات پائے جارہے ہیں اور اب جبکہ عید الاضحی کے قریب عوام اپنے بینک کھاتوں سے رقومات منہاء کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو بینک انہیں 500 کے کرنسی نوٹوں کے بجائے 200 یا 100 کے کرنسی نوٹ جاری کر رہے ہیں اس کے علاوہ اے ٹی ایم سے بھی 100 اور200 کے کرنسی نوٹ جاری کئے جانے سے عوام تشویش میں مبتلاء ہونے لگے ہیں ۔ ہندوستھان
سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق

