
جگدل پور، 17 مئی (ہ س)۔ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں سرکاری اسکولوں کی خراب حالت تشویش کا باعث ہے۔ ضلع میں پرائمری اور مڈل اسکولوں کی ساٹھ عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ محکمہ تعلیم نے ان عمارتوں کو خطرناک قرار دیا ہے اس کے باوجود ان کی مرمت کے لیے محکمہ کے پاس بجٹ کی کمی ہے۔ جون سے شروع ہونے والے نئے سیشن میں بھی معصوم بچے ان خطرناک چھتوں کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بستر کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت قابل رحم ہے۔ مون سون کی آمد کے ساتھ ہی چھتوں کا ٹپکنا معمول بن گیا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو بچے اپنی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں اور کلاس رومز میں خشک جگہ ڈھونڈتے ہیں۔ اساتذہ بھی اس صورت حالسے پریشان ہیں۔ ٹپکتی ہوئی چھتوں اور دیواروں میں شگاف پڑنے سے والدین شدید پریشان ہیں، بارش شروع ہونے پر کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے۔ اس خوف کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کررہے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈونگری گوڈا کے تیلی مرینگا گاو¿ں میں پرائمری اسکول کی عمارت 1961 میں تعمیر کی گئی تھی، اب یہ مکمل طور پر کھنڈر بن گیاہے۔ اسکول کے ریکارڈ میں 113 بچوں کی فہرست ہے۔ پرانی عمارت ناقابل استعمال ہے، اس لیے یہ تمام بچے قریبی آنگن واڑی سنٹر میں جا رہے ہیں۔ جہاں چھوٹے سے کمرے میں صرف 20 بچے بیٹھ سکتے ہیں۔ اسی طرح توکاپال بلاک کے باروپاٹاگاو¿ں میں 56 سال پرانی اسکول کی عمارت اب انتہائی خطرناک حالت میں ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسے اپنی فائلوں میں انتہائی خستہ حال قرار دیا ہے لیکن بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی بہتری نہیں لائی گئی۔ وہاں پڑھنے والے 29 بچےخوف کے سائے میںپڑھائی کرتے ہیں۔ توکاپال بلاک کے سوریپاٹا گاو¿ں کے پرائمری اسکول میں بھی 19 بچے ہیں۔ سڑک کی تعمیر سے اسکول نیچے ہو گیا ہے جس سے بارش کا پانی اسکول میں داخل ہو جاتاہے۔ بچوں کی تعلیم کو درہم برہم ہونے سے روکنے کے لیے انہیں قریبی گاو¿ں ڈیمراپال کے پرائمری اسکول میں منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بی آر بگھیل کا کہنا ہے کہ ضلع بستر میں 60 انتہائی خستہ حال پرائمری اور مڈل اسکولوں کی فہرست کے ساتھ ڈی پی آئی کو ایک تجویز بھیجی گئی ہے۔ اسکول کی مرمت کے لیے ابھی تک فنڈز منظور نہیں ہوئے ہیں، لیکن انہیں امید ہے کہ جلد منظوری مل جائے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

