

رتلام، 17 مئی (ہ س)۔ کیرالہ کے ترواننت پورم سے حضرت نظام الدین (دہلی) جا رہی راجدھانی ایکسپریس میں اتوار کی صبح سویرے اچانک آگ لگنے سے افراتفری مچ گئی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع کے آلوٹ علاقے میں لونی ریچھا اور وکرم گڑھ آلوٹ اسٹیشن کے درمیان پیش آیا۔ آگ ٹرین کے اے سی کوچ بی-1 میں لگی، جس میں اس وقت 68 مسافر سوار تھے۔
یہ واقعہ صبح تقریباً 5.15 سے 5.30 بجے کے درمیان کا بتایا جا رہا ہے۔ ٹرین نمبر 12431 تریویندرم-حضرت نظام الدین راجدھانی ایکسپریس رتلام جنکشن سے رات تقریباً 3.45 بجے روانہ ہوئی تھی اور اس کا اگلا پڑاو کوٹا جنکشن تھا، لیکن راجستھان میں داخل ہونے سے پہلے ہی ٹرین حادثے کا شکار ہو گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق، سب سے پہلے ٹرین کے گارڈ نے بی-1 کوچ سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے۔ انہوں نے فوری طور پر لوکو پائلٹ کو اطلاع دی، جس کے بعد ایمرجنسی بریک لگا کر ٹرین کو فوراً روکا گیا۔ اس کے بعد ریلوے ملازمین اور عملے نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 15 منٹ کے اندر تمام مسافروں کو محفوظ باہر نکال لیا۔ مسافروں کو دوسرے ڈبوں میں منتقل کیا گیا۔ وقت رہتے ریسکیو ہونے کی وجہ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن آگ کی زد میں آنے سے کوچ کو بھاری نقصان پہنچا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دو ڈبے متاثر ہوئے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی ریلوے انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں سرگرم ہو گئیں۔ رتلام کنٹرول روم کو صبح 5.20 بجے کوٹا کنٹرول سے حادثے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد رتلام سے ایکسیڈنٹ ریلیف ٹرین (اے آر ٹی)، میڈیکل ریلیف یونٹ (اے آر ایم ای) اور ٹاور ویگن کو فوری طور پر جائے وقوعہ کے لیے روانہ کیا گیا۔ رتلام ریل ڈویژن کے ڈی آر ایم اشونی کمار بھی سینئر افسران کے ساتھ موقع کے لیے روانہ ہو گئے۔ امدادی اور بچاو کارروائی کے دوران ریلوے ملازمین نے متاثرہ کوچ کا بجلی کا کنکشن کاٹ دیا اور اسے ٹرین سے علیحدہ کر دیا، تاکہ آگ دیگر ڈبوں تک نہ پھیل سکے۔ اس کا اثر ملک کے مصروف ترین ریل راستوں میں شامل دہلی-ممبئی ٹریک پر بھی پڑا۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر کچھ وقت کے لیے ریل آمد و رفت روکنی پڑی، جس سے کئی ٹرینوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ ممبئی سینٹرل-جے پور سپر فاسٹ ایکسپریس سمیت کئی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روکا گیا۔ ریلوے انتظامیہ نے بتایا کہ ٹریک کو جلد بحال کرنے کی کوشش کی گئی اور صورتحال معمول پر لانے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
ریلوے انتظامیہ نے متاثرہ مسافروں کے لیے فوری امدادی انتظامات بھی شروع کیے۔ بی-1 کوچ میں سفر کر رہے مسافروں کے لیے ناشتے اور پینے کے پانی کا انتظام کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مسافروں کو دوسرے کوچز میں منتقل کر کے کوٹا تک پہنچایا جائے گا۔ وہاں سے ایک اضافی کوچ جوڑ کر مسافروں کو آگے دہلی تک بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ریلوے نے مسافروں کی حفاظت اور سہولت کو ترجیح دینے کی بات کہی ہے۔
حادثے کی وجوہات کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن ریلوے حکام نے ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ سینئر ڈی سی ایم سوربھ جین نے بتایا کہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال تکنیکی ٹیم یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ آگ الیکٹریکل فالٹ کی وجہ سے لگی یا کسی اور وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ریلوے انتظامیہ نے متاثرہ کوچ اور اس میں رکھے سامان کے نقصان کا تخمینہ لگانا بھی شروع کر دیا ہے۔
ٹرین میں موجود مسافروں کے درمیان کچھ دیر کے لیے دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ اچانک دھواں بھرنے لگا اور لوگ گھبرا کر باہر نکلنے لگے۔ تاہم ریلوے اسٹاف کی مستعدی کی وجہ سے صورتحال جلد قابو میں آ گئی۔ مسافروں نے ریلوے ملازمین کی چوکسی اور ریسکیو ٹیم کی تیزی کی ستائش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چند منٹ کی بھی تاخیر ہوتی تو بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔
رتلام ریل ڈویژن کے پبلک ریلیشن آفیسر مکیش کمار نے بتایا کہ ٹرین نمبر 12431 کے بی-1 کوچ میں آگ لگنے کی اطلاع صبح 5:20 بجے موصول ہوئی تھی۔ یہ واقعہ لونی ریچھا اور وکرم گڑھ آلوٹ اسٹیشن کے درمیان ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ امدادی اور بچاؤ کارروائی وقت پر شروع کر دی گئی تھی اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ وہیں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی آگ لگنے کی اصل وجوہات کا انکشاف ہو سکے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

