
بیجنگ، 23 مئی (ہ س)۔ چین کے صوبے شانزی میں لیوشینیو کوئلے کی کان میں جمعہ کی رات ہونے والے زبردست دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی ہے، کئی مزدور ابھی تک لاپتہ ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کے بہترین ممکنہ علاج کا حکم دیا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ دھماکہ شام 7 بج کر 29 منٹ پر ہوا۔ بیجنگ کے جنوب مغرب میں تقریباً 520 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ شانزی کی کنیوان کاو ¿نٹی میں جمعہ کو حادثے سے قبل کان میں کاربن مونو آکسائیڈ کا الرٹ جاری کر دیا گیا تھا اور کچھ ہی دیر بعد ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے وقت کان میں 247 مزدور کام کر رہے تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگ اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔
کاو ¿نٹی کے ایمرجنسی مینجمنٹ بیورو کے مطابق کوئلے کی کان کے حادثے میں 82 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ 9 دیگر لاپتہ ہیں۔ دھماکے کے وقت کان میں 200 سے زائد افراد موجود تھے۔ کل 123 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے، جب کہ 119 کو معمولی زخم آئے ہیں۔بیورو کے مطابق راحت اور بچاو ¿ ٹیموں اور طبی عملے سمیت 755 افراد کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے۔ ایمرجنسی منیجمنٹ کی وزارت نے کہا کہ اس نے چھ قومی ہنگامی ریسکیو ٹیمیں بھیجی ہیں، جن میں کل 345 افراد ہیں۔کنیوان کاو ¿نٹی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور لچینگ کاو ¿نٹی کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں صبح 4 بجے آرڈر موصول ہوا اور وہ فوری طور پر آلات اور ادویات کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ وہ اس وقت دیگر طبی اور امدادی ٹیموں کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔مقامی حکام نے بتایا کہ کان کے حادثے میں ملوث کمپنی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق حراست میں لے لیا گیا ہے۔چین کی ریاستی کونسل کی طرف سے بھیجی گئی ایک تحقیقاتی ٹیم نے اس حادثے کی مکمل اور سختی سے تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

