
نئی دہلی، 4 جولائی(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ریکھا گپتا حکومت کے 650 کروڑ روپے کے مبینہ دوائی گھوٹالے پر ہر طرف چھائی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت نے 650 کروڑ روپے کا دوائی گھوٹالہ کیا، اس کے باوجود ہر طرف مردہ خاموشی کیوں ہے؟ لیکن جب عام آدمی پارٹی کی حکومت کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا تو استعفوں سے لے کر پھانسی تک کی بحثیں ہوئیں، حالانکہ عدالت نے سبھی کو باعزت بری کر دیا۔ ایسے میں کیا ریکھا گپتا حکومت کے اس مبینہ گھوٹالے پر بحث نہیں ہونی چاہیے؟ آخر سب لوگ غزنی موڈ میں کیوں چلے گئے ہیں؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ چار انجن والی بی جے پی حکومت نے 15 ہزار بستروں کے لیے 16 لاکھ چادریں خریدیں، یعنی ایک بستر کے لیے 111 چادریں۔ دہلی والوں کو پلانے کے لیے 2.50 روپے والا او آر ایس پیکٹ 15 روپے میں خریدا گیا اور مجموعی طور پر 7.5 کروڑ روپے کے او آر ایس پیکٹ خریدے گئے۔ سب سے بڑا گھوٹالہ دوائیوں کی خریداری میں ہوا، جہاں 400 کروڑ روپے کی دوائیاں مقامی کیمسٹوں سے خریدی گئیں اور اس میں 300 کروڑ روپے کی کمیشن خوری ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کے وقت پولیس ایف آئی آر درج کرتی تھی تو فوراً ای ڈی پہنچ جاتی تھی، لیکن اب ان کا بھی کہیں پتہ نہیں ہے۔ بی جے پی کے تمام انجن بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، مگر نہ کسی وزیر کی گرفتاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی استعفیٰ دے رہا ہے۔
ہفتہ کے روز عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ دہلی میں ریکھا گپتا حکومت کے دوران محکمہ صحت میں 650 کروڑ روپے کا ایک بہت بڑا مبینہ صحت گھوٹالہ سامنے آیا ہے، جہاں ڈاکٹر پنکج سنگھ وزیر صحت ہیں۔ یہ گھوٹالہ دوائیوں، او آر ایس پیکٹ، ایکس رے مشینوں، ریڈیالوجی آلات، بیڈ شیٹس کی خریداری اور اسپتالوں میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی ادویات میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے مبینہ گھوٹالے کے باوجود ہر طرف خاموشی ہے۔ نہ حکومت سے کوئی سوال پوچھ رہا ہے، نہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت پر بات ہو رہی ہے، نہ ریکھا گپتا حکومت یا ان کے وزیر صحت کا نام لیا جا رہا ہے۔ جب بھی بی جے پی پر بدعنوانی کے الزامات لگتے ہیں تو سسٹم کو قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ کم از کم ریکھا گپتا حکومت، وزیر صحت اور ذمہ دار افراد کا نام لینے کی ہمت تو ہونی چاہیے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ اس کے بعد بیڈ شیٹ گھوٹالہ ہوا۔ حکم جاری کیا گیا کہ اسپتالوں کے لیے ہر دن مختلف رنگ کی چادریں خریدی جائیں تاکہ تعداد بڑھائی جا سکے۔ اگر 15 یا 30 رنگوں کی چادریں خرید کر دھو کر بار بار استعمال کی جاتیں تو بھی کام چل جاتا، لیکن ریکھا گپتا حکومت نے ایک بستر کے لیے 111 چادریں خریدیں۔ تین دن تک نئی چادر بچھانے، پھر اسے پھاڑ کر پھینکنے اور نئی چادر بچھانے کی بات کہی گئی۔ وزیر اعلیٰ او آر ایس پلانے کی مہم چلا رہی تھیں، لیکن 2 سے 2.50 روپے والا پیکٹ 15 روپے میں خرید کر 7.5 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور ہر پیکٹ میں مبینہ بے ضابطگی کی گئی۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ اصل کھیل دوائیوں کی خریداری میں ہوا۔ پہلے ہنگامی حالات میں مقامی کیمسٹ سے چند کروڑ روپے کی دوائیاں خریدی جاتی تھیں، لیکن تھوک میں کمپنیوں سے خریدنے پر یہی دوائیاں 70 سے 80 فیصد کم قیمت پر ملتی ہیں۔ اس کے باوجود ریکھا گپتا حکومت نے 400 کروڑ روپے کی دوائیاں مقامی کیمسٹوں سے خریدیں۔ ان کے مطابق اے سی بی کے دستاویزات میں درج ہے کہ اس میں راجیو رنگیلا نے 300 کروڑ روپے کی دلالی حاصل کی۔ مجموعی طور پر یہ تقریباً 650 کروڑ روپے کا مبینہ گھوٹالہ بنتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ اروند کیجریوال حکومت کے خلاف مبینہ شراب گھوٹالہ بنایا گیا تھا، جس میں عدالت نے کہا کہ مقدمہ چلانے کے لیے بھی خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں ہیں اور تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔ اس وقت میڈیا میں دن رات بحثیں ہوتی رہیں، استعفوں اور گرفتاریوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا، لیکن آج 650 کروڑ روپے کے مبینہ صحت گھوٹالے پر مکمل خاموشی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais

