Lagatar
Lagatar

پاکستان کے خلاف شکست کے بعد جڈیجہ کوہلی سے ناراض ہوگئے، جانیں کیا ہے معاملہ؟

پاکستان کے خلاف شکست کے بعد جڈیجہ کوہلی سے ناراض ہوگئے، جانیں کیا ہے معاملہ؟
  • 34d
  • 0 views
  • 7 shares

Lagatar urdu news sport desk

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کا پہلا میچ 24 اکتوبر کو پاکستان کے خلاف کھیلا گیا۔ پاکستان نے یہ میچ آسانی سے جیت لیا۔ کوہلی کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم نے میچ میں ایسا کھیل دکھایا جیسے کوئی وارم اپ میچ ہو رہا ہو۔ بھارتی ٹیم کو بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں 10 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ اس میچ میں پہلے شاہین شاہ آفریدی نے بھارتی بلے بازوں کی کمر توڑ دی، پھر بابر اور ان کے اوپننگ پارٹنر محمد رضوان نے بھارتی باؤلرز کو ایک وکٹ بھی حاصل نہ ہونے دی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ میچ ختم ہونے کے بعد کوہلی نے پاکستانی ٹیم کی تعریف کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے بھارتی ٹیم کو یک طرفہ انداز میں شکست دی۔ ہندوستانی ٹیم کی جانب سے اس میچ میں سب سے زیادہ رنز ویراٹ کوہلی نے بنائے۔ اس میچ میں کوہلی کے بلے سے 57 رنز نکلے۔ کوہلی کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔ میچ کے بعد کوہلی نے ٹیم انڈیا کے بارے میں ایسی بات کہی تھی جسے ہندوستان کے سابق بلے باز اجے جڈیجہ پسند نہیں کر رہے ہیں۔ اجے جڈیجہ کوہلی کا بیان سن کر مایوس ہیں۔

اجے جڈیجہ نے کوہلی کے بیان پر کہا کہ میں نے اس دن ویراٹ کوہلی کا بیان سنا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب ہم نے دو وکٹیں گنوائیں تو ہم پاکستان کے خلاف میچ میں پیچھے تھے۔ جڈیجہ نے کہا کہ انہیں کوہلی کی بات پسند نہیں آئی۔جڈیجہ نے کہا کہ جب ویراٹ کوہلی جیسا بلے باز کھیل رہا ہو تو یہ نہیں ہو سکتا کہ میچ ختم ہو جائے۔ اس نے دو گیندیں نہیں کھیلی تھیں، وہ اسی طرح سوچ رہا تھا۔ یہ ہندوستان کی سوچ کے بارے میں بتاتا ہے۔

پاکستانی ٹیم سے عبرتناک شکست کے بعد اب بھارتی ٹیم کا اگلا میچ 31 اکتوبر کو نیوزی لینڈ سے ہونا ہے۔ ہندوستان کو اس میچ میں ہر طرح سے جیتنا ضروری ہے۔ اگر ہندوستانی ٹیم ایسا نہیں کر پائی تو سیمی فائنل میں اس کا راستہ بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی نیٹ رینریٹ کا مسئلہ بھی پھنس سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے بعد بھارت کو افغانستان، سکاٹ لینڈ نمیبیا کے خلاف میچ کھیلنا ہے۔ ان سب میں اسے جیتنا ہو گا۔ اسی دوران نیوزی لینڈ کو بھی پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے لیے آگے کا راستہ بھی آسان نہیں ہے۔بھارت سے ہارنے سے اس کے لیے سیمی فائنل میں جانا بھی مشکل ہو جائے گا۔

سمیر وانکھیڑے کی مشکلات میں اضافہ: سابق اہلیہ کے والد نے کہا - وہ آج بھی مسلم رسم و رواج کی پیروی کرتے ہیں، نماز اور روزہ بھی رکھتے ہیں

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

بی جے پی کا واحد متبادل کانگریس: نانا پٹولے

بی جے پی کا واحد متبادل کانگریس: نانا پٹولے
  • 22m
  • 0 views
  • 2 shares

مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے بدھ کو کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک کے آئین اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی مسلسل بی جے پی کے آمرانہ رویے کے خلاف لڑ رہی ہے۔

ایک ریاست تک محدود سیاسی جماعت بی جے پی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کانگریس ہی بی جے پی کے لیے واحد قابل عمل سیاسی متبادل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک انفرادی عزائم سے زیادہ اہم ہے اور بی جے پی کے خلاف گھمنڈ کو الگ رکھ کر متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اقتدار، پیسے اور تمام خود مختار اداروں کا غلط استعمال کرکے ملک کی جمہوریت اور آئین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس بی جے پی کے آمرانہ رویہ کے خلاف مسلسل جد و جہد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے تحویل اراضی قانون اور تین کالے زرعی قوانین کے معاملے پر کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو کر مودی حکومت کے خلاف جنگ لڑی۔ کانگریس بی جے پی کی تقسیم کرنے والی پالیسیوں، مہنگائی، بے روزگاری، کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف مسلسل لڑ رہی ہے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اب وقت آگیا ہے کہ تمام ہم خیال سیاسی جماعتیں انفرادی عزائم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اکٹھے ہو کر قومی مفاد، جمہوریت اور آئین کے لیے جدوجہد کریں۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

ٹویٹر کا نیا قانون: رضامندی کے بغیر تصویر شیئر کرنے پر پابندی

ٹویٹر کا نیا قانون: رضامندی کے بغیر تصویر شیئر کرنے پر پابندی
  • 53m
  • 0 views
  • 0 shares

دنیا کی معروف مائیکرو بلاگنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ سروس ٹویٹر نے منگل کے روز اپنے صارفین کے لیے نئے ضابطوں کا اعلان کیا۔ اس کے تحت عوامی شخصیات کو چھوڑ کر صارفین کو کسی کی تصویریا ویڈیو اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اپنے نیٹ ورک پالیسیوں کو سخت کرتے ہوئے ٹوئٹر نے یہ قدم بھارتی نژاد نئے سی ای او کی تقرری کے ایک روز بعد اٹھایا ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق کوئی شخص ٹویٹر کو ایسی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتا ہے جو اس کی مرضی کے بغیر پوسٹ کی گئی ہوں۔

ٹویٹر نے ایک بلا گ پوسٹ میں کہا،'' جب بھی ہمیں کسی فرد یا اس کے مقررہ نمائندے کی طرف سے یہ اطلاع دی جائے گی کہ اس کی ذاتی تصویر یا ویڈیو کو اس کی اجازت کے بغیر شیئر کیا گیا ہے تو ہم اسے ہٹا دیں گے۔''

کمپنی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تصویروں کو شیئر کرنے کے حوالے سے ٹو یٹر کی اس پالیسی کا اطلاق ''عوامی شخصیات یا ان افراد پر نہیں ہوگا جنہیں عوامی مفاد میں ٹوئٹ کے متن کے ساتھ شیئر کیا گیا ہو یا جس سے پبلک ڈسکورس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہو۔''

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی اس پس منظر کا تجزیہ کرنے کی ہمیشہ کوشش کرے گی جس میں مواد کو شیئر کیا گیا ہے اور اس طرح کے کیسز میں ہم '' اپنی سروس میں تصاویر یا ویڈیوز کو رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔''

تصاویر کی اشاعت بحث کا موضوع

کسی فرد کی تصویر یا اس کے متعلق اعدادو شمار کی کسی تیسرے فریق کی طرف سے بالخصوص بدنیتی سے سوشل میڈیا پر اشاعت برسوں سے موضوع بحث رہاہے۔ ٹویٹر نے پرائیویسی پالیسی کے تحت پہلے سے ہی دوسرے افراد کے ذاتی معلومات مثلاً فون نمبر، پتے یا شناختی نمبر وغیرہ شیئر کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

ٹویٹر کا تاہم کہنا ہے کہ افراد کی شناخت عام کرنے، انہیں ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لیے مواد کے استعمال کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی نے '' اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ خواتین، کارکنوں، ناقدین اور اقلیتی فرقوں کے افراد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔''

دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیم اسٹریمنگ سائیٹ' ٹوئچ' پر بڑے پیمانے پر نسلی، جنسی اور ہم جنس پرستی کے نام پر استحصال جیسے آن لائن ہراسانی کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ تاہم اس طرح کے ہراسانی کے علاوہ متاثرین کو توہین آمیز رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور آن لائن پلیٹ فارموں پر غیر قانونی طریقے سے شائع کی گئی تصویروں کو ہٹوانے کے لیے انہیں طویل قانونی چارہ جوئی کرنا پڑتی ہے۔

نئے ضابطوں کی وضاحت کا مطالبہ

ٹویٹر کے بعض صارفین نے تاہم کمپنی سے کہا کہ وہ یہ واضح کرے کہ اس کی یہ سخت پالیسی کس طرح کام کرے گی۔

سٹی یونیورسٹی آف نیویارک میں صحافت کے پروفیسر جیف جارویز نے ایک ٹویٹ میں پوچھا ہے،'' کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی تصویر اتارتا ہوں، مثلاً سینٹرل پارک میں کسی کنسرٹ کی تصویر، تو کیا مجھے اس میں نظر آنے والے ہر شخص سے اجازت لینا ہوگی؟ ''

خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے کمپنی چھوڑنے اور سی ای او کی ذمہ داریاں بھارتی نژاد پراگ اگروال کے سپرد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection