Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
جنرل اوپیندر دویدی کا اروناچل پردیش کو چین کے حوالے کرنے والا بیان فرضی نکلا

جنرل اوپیندر دویدی کا اروناچل پردیش کو چین کے حوالے کرنے والا بیان فرضی نکلا

Newschecker اردو 10 months ago

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی کی 54 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جنرل دویدی نے اپنی تقریر میں پاکستان کو روکنے اور چین سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے اروناچل پردیش چین کے حوالے کرنے سے متعلق بیان دیا ہے۔

صارفین نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے “چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے پاکستان کو روکنے اور چین کو اپنی طرف کرنے کے لئے اروناچل پردیش چین کو دینے کی تجویز دے دی”۔

Courtesy: Facebook/PAKvisionaries

آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/Verification

نیوز چیکر نے اس بیان سے متعلق معتبر رپورٹس، سرکاری دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کی تلاش کی، لیکن ایسی کوئی خبر، بیان یا ریکارڈ موجود نہیں ملا جس سے شبہ ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہو سکتا ہے۔

ریورس امیج سرچ کے دوران ہمیں 24 نومبر 2025 کو دی ٹریبیون کے آفیشل یوٹیوب چینل پر جنرل دویدی کی اصل تقریر کا بائٹ ملا۔ اس خطاب میں انہوں نے صرف بھارت کی بحری صلاحیتوں، جدید اینٹی سبمرین وارفیئر پلیٹ فارمز کی اہمیت اور خطے میں سمندری سلامتی سے متعلق نکات پر گفتگو کی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے کہیں بھی چین، پاکستان یا اروناچل پردیش کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔

اسی تقریب کی ویڈیو بھارتی بحریہ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی دستیاب ہوئی۔ اس ویڈیو میں بھی جنرل دویدی کا متنازع بیان موجود نہیں ہے۔ یہاں سے شبہ مزید گہرا ہوا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

نیوز چیکر نے وائرل ویڈیو اور اصل خطاب کا تقابلی تجزیہ کیا، جس میں واضح تضادات سامنے آئے۔ اصل ویڈیو میں جنرل دویدی جملوں کے درمیان وقفہ لیتے ہیں، جبکہ وائرل کلپ میں ان کی گفتگو غیر معمولی طور پر مسلسل اور بغیر ٹھہراؤ کے سنائی دیتی ہے۔ ہونٹوں کی حرکات، ٹھوڑی کا رنگ بقیہ چہرے کے رنگ سے مختلف نظر آرہا ہے، آواز کا بہاؤ اور لہجے میں بھی ایسی تبدیلیاں دکھائی دیں جو عام طور پر مصنوعی تبدیلی کے باعث سامنے آتی ہیں۔

 Screengrab of viral post

مزید تلاش کے دوران ہمیں پریس انفارمیشن بیورو کے فیکٹ چیک یونٹ کے

ہینڈل پر اسی وائرل ویڈیو کے بارے میں ایک وضاحتی پوسٹ ملی۔ اس میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 Courtesy: X @PIBFactCheck

آڈیو کی نوعیت جانچنے کے لیے نیوز چیکر نے دو معتبر اے آئی ڈی ٹیکٹر ٹولز کی مدد لی۔ ہی یا ڈیپ فیک وائس ڈیٹیکٹر نے ویڈیو میں استعمال شدہ آواز کو محض 1 از 100 کا درجہ دیا، جو واضح کرتا ہے کہ آواز میں بڑی حد تک مصنوعی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ اسی طرح یو بی میڈیا فورینزک لیب کے تیار کردہ ڈیپ فیک او میٹر نے بھی آڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے 99.98 فیصد اور 100 فیصد امکان کے ساتھ مصنوعی ثابت کیا۔

: جنرل انیل چوہان کی مودی حکومت پر تنقید والی ویڈیو ڈیپ فیک نکلی

Conclusion

نیوز چیکر کی جامع تحقیق سے یہ بات پوری طرح ثابت ہوئی ہے کہ جنرل اوپیندر دویدی نے اپنی تقریر میں چین، پاکستان یا اروناچل پردیش سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں شامل آواز مصنوعی ذہانت کے ذریعے بدلی گئی ہے۔

FAQs

سوال: کیا جنرل اوپیندر دویدی نے واقعی اروناچل پردیش چین کو دینے کی بات کی ہے؟
جواب: نہیں۔ نیوز چیکر کی جانچ میں ثابت ہوا کہ جنرل دویدی نے اپنی تقریر میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ نہ چین، نہ پاکستان اور نہ ہی اروناچل پردیش کا کوئی ذکر موجود ہے۔

سوال: وائرل ویڈیو کہاں سے آئی؟
جواب: یہ ویڈیو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، جس میں اصل تقریر کا آڈیو تبدیل کرکے ایک نیا، جعلی بیان شامل کیا گیا۔

سوال: اصل ویڈیو میں جنرل اوپیندر دویدی نے کیا کہا تھا؟
جواب: اصل خطاب میں وہ صرف بھارت کی بحری صلاحیتوں، اینٹی سبمرین وارفیئر پلیٹ فارمز اور سمندری سلامتی سے متعلق امور پر بات کر رہے تھے۔

سوال: نیوز چیکر نے ویڈیو کو جعلی کیسے قرار دیا؟
جواب: تقریر کے اصل بائٹ، سرکاری چینلز پر دستیاب ویڈیوز اور دونوں کا تقابلی تجزیہ کرنے کے بعد واضح تضادات سامنے آئے۔ آواز، ہونٹوں کی حرکات اور بولنے کے انداز میں مطابقت نہیں تھی۔

Sources
Video published by YouTube channels The Tribune and Indian Navy on 24 Nov 2025
Hiya Deepfake Voice Detector Analysis
DeepFake-O-Meter, UB Media Forensics Lab
X Post by , November 27, 2025

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu