Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل پر مبینہ ایرانی حملے کی وائرل تصاویر اے آئی سے تیار کردہ نکلیں

ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل پر مبینہ ایرانی حملے کی وائرل تصاویر اے آئی سے تیار کردہ نکلیں

ہفتے کے روز ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کاروائیوں کے ردعمل میں تہران نے خلیجی خطے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے اندر موجود مختلف مقامات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اب اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر دو مختلف تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سعودی عرب کے ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل پر ہونے والے مبینہ ایرانی حملے کا ہے۔

Courtesy: Facebook/qazi.wajid

Fact Check/Verification

ہم نے ابتدائی مرحلے میں گوگل پر عربی زبان میں "هجمات إيرانية على فندق حياة ريجنسي في الرياض" کے الفاظ تلاش کئے، تاہم ایسی کوئی مستند رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل پر ایرانی حملے کی تصدیق کی گئی ہو۔ البتہ عرب خبر رساں اداروں کی رپورٹس ضرور ملیں جن میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ خبریں یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔

اس کے بعد ہم نے وائرل تصاویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس عمل کے دوران ایک فیس بک پوسٹ سامنے آئی، جس کے تبصروں میں ایک صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تصاویر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔ تاہم جب ہم نے تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا جس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہو سکے کہ یہ وائرل تصاویر اے آئی سے تیار کی گئی ہیں۔

 Courtesy: Facebook/almaakha

مزید تصدیق کے لئے ہم نے اوپن اے آئی پر مبنی جدید تجزیاتی ٹولز کی مدد لی۔ واز اٹ اے آئی کے مطابق تصویر یا اس کے نمایاں حصے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کئے گئے ہیں۔

سائٹ انجن نے اپنے تجزیے میں پہلی تصویر کے بارے میں 99 فیصد اور دوسری تصویر کے حوالے سے 96 فیصد امکان ظاہر کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کی گئی ہیں۔

از اٹ اے آئی کے تجزیے کے مطابق ایک تصویر کے بارے میں 96 فیصد جبکہ دوسری کے بارے میں 99 فیصد امکان ظاہر کیا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ہیں۔

ہائیو ماڈریشن نے بھی پہلی تصویر کو 99.1 فیصد امکان کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تخلیق شدہ یا ڈیپ فیک بتایا ہے، جبکہ دوسری تصویر کے لئے یہ شرح 84 فیصد بتائی گئی۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔ جیسے ہی ان کی جانب سے جواب موصول ہوگا، ہم اس مضمون کو اپڈیٹ کر دیں گے۔

Conclusion

چنانچہ نیوز چیکر کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ریاض کے حیات ریجنسی ہوٹل پر ایرانی حملے کے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر دراصل مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔

Sources
Reports published by Al Arabiya, Saudi Gazette and Khaleej Times on 28 Feb 2026
Self Analysis
Hive Moderation AI tool
Sight Engine AI tool
Is It AI tool
Was It AI tool

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu