ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی ایف-15ای طیارہ مار گرایا اور لاپتا اہلکار کو پکڑنے کے لئے عوامی مدد اور انعام تک کا اعلان کیا، جس سے امریکی پائلٹ کی گرفتاری کا تاثر پھیلا۔ تاہم بعد میں مستند بین الاقوامیرپورٹس سے واضح ہوا کہ اہلکار ایرانی حراست میں نہیں آیا بلکہ تقریباً دو دن تک گرفتاری سے بچتے ہوئے پہاڑی علاقے میں چھپا رہا، جس کے بعد امریکی اسپیشل فورسز نے ایک ہائی رسک ریسکیو آپریشن کے ذریعے اسے بحفاظت نکال لیا۔ اسی تناظر میں ایران میں امریکی پائلٹ کی گرفتاری کا بتاکر ایک تصویر خوب شیئر کی گئی۔
تصویر کے ساتھ ایک فیس بک صارف نے لکھا ہے “ایران نے امریکی پائلٹ پکڑ کر تصویر جاری کردی”۔
Courtesy: Facebook/PTI World TodayFact Check/Verification
ہم نے سب سے پہلے وائرل تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں 26 جولائی 2025 کو چینی ویب سائٹ دی کَور پر وائرل تصویر سے ملتی جلتی ایک تصویر ملی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تصویر قتل کے ایک چینی مجرم کی ہے، جسے ایک پرانے قتل کیس کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ہم نے وائرل تصویر اور اصل تصویر کا باہمی موازنہ کیا تو کمرے میں موجود کئی اشیا، پس منظر کی ترتیب اور تفتیشی ماحول چینی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اصل تصویر سے کافی حد تک مماثل تھا۔ خاص طور پر دیواروں کی ساخت، میز اور کرسیوں کی ترتیب، اور زیرِ حراست شخص کے بیٹھنے کے انداز جیسی تفصیلات دونوں تصاویر میں ایک جیسی نظر آئیں، جس سے واضح ہوا کہ وائرل تصویر اصل تصویر کو بنیاد بنا کر ڈیجیٹل طور پر تیار یا تبدیل کی گئی ہے۔

مزید تصدیق کے لیے ہم نے وائرل تصویر کا جائزہ اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کی مدد سے لیا۔ ہائیو ماڈریشن نے 99.8 فیصد یقین کے ساتھ اس تصویر کو اے آئی جنریٹڈ یا ڈیپ فیک قرار دیا، جبکہ زیرو جی پی ٹی کے تجزیے میں بھی یہ تصویر 92 فیصد امکان کے ساتھ اے آئی سے تیار شدہ پائی گئی۔ یہ نتائج اس دعوے کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ وائرل تصویر حقیقی نہیں بلکہ ڈیجیٹل طور پر تخلیق یا تبدیل کی گئی ہے۔


Conclusion
اس طرح نیوز چیکر کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ایران میں امریکی پائلٹ کو حراست میں لئے جانے کا بتاکر شیئر کی جا رہی تصویر ڈیجیٹل طور پر تخلیق یا تبدیل کی گئی ہے۔
Sources
Report published by The Cover on 26 July 2025
Self Analysis
Hivemoderation AI tool
ZeroGPt AI Tool

