مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کے بعد ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے کہ کولکاتا کی ایک مسجد میں موسیقی بجا کر مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
9 مئی کو بی جے پی رہنما سویندھو ادھیکاری نے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کے ساتھ دلیپ گھوش، اگنی مترا پال، اشوک کیرتنیا، خودی رام ٹوڈو اور نشیتھ پرمانک نے بھی وزیر کے طور پر حلف لیا۔ 4 مئی کو جاری ہونے والے اسمبلی انتخابی نتائج کے مطابق بی جے پی نے 207 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ترنمول کانگریس کو صرف 87 نشستوں پر کامیاب ملی۔
ویڈیو میں ٹوپی، کرتا پاجاما پہنے ایک شخص قیام کی حالت میں کچھ دیر کھڑا رہتا ہے پھر دعاء کرتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اس کے پیچھے موجود کچھ افراد بینڈ باجے کے ساتھ موسیقی بجاتے نظر آ رہے ہیں۔
ویڈیو کے ساتھ صارفین نے لکھا ہے "یہ کولکاتا انڈیا ہے جہاں انتہا پسند ہندوؤں نے مسجد میں داخل ہو کر بینڈ باجا بجانا شروع کر دیا،جب مسلمان نماز ادا کر رہے تھے. انڈیا میں انتہا پسندی عروج پر ہے، اقلیتوں کے حقوق ختم ہیں. انڈیا اور اسرائیل دونوں کو، کسی اور دین کے لوگوں کا وجود بھی برداشت نہیں"۔
Courtesy: Facebook/PARAS Digital News Network
Courtesy: X @MuhammaddSuhailFact Check/Verification
کولکاتا میں مسجد میں موسیقی بجا کر مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو کی تحقیق کا آغاز ہم نے کیفریم کی مدد سے شروع کیا۔ اس دوران ہمیں "گاشی شاہی دربار شریف، بنگلہ دیش" نامی یوٹیوب چینل سے 20 جون 2025 کو اپلوڈ کی گئی ایک ویڈیو ملی، جس میں وائرل ویڈیو والے مناظر موجود تھے۔
Courtesy: YouTube/গশ্চি শাহী দরবার শরীফاس کے علاوہ ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق دیگر ویڈیوز بھی "گاشی شاہی دربار شریف، بنگلہ دیش" کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر جون 2025 میں اپلوڈ شدہ ملیں۔

مزید یہ کہ اس یوٹیوب چینل پر موجود دیگر ویڈیوز میں بھی اسی مقام پر لوگوں کو موسیقی بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو وائرل ویڈیو میں نظر آ رہا ہے۔

تحقیقات کے دوران ہمیں بنگلہ دیش کے چٹوگرام کے ایک مقامی میڈیا ادارے کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ بھی ملی۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقام چٹوگرام میں واقع ایک صوفی درگاہ ہے، جہاں ہر سال عرس منعقد کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ رپورٹ میں درگاہ کی جو تصویر موجود تھی وہ یوٹیوب پروفائل پر موجود تصویر سے بھی مطابقت رکھتی تھی۔

تحقیق کے دوران ہمیں یہ مقام گوگل میپس پر بھی ملا۔ گوگل میپس کے مطابق یہ جگہ چٹاگانگ کے راوزن کے قریب واقع ہے۔

Conclusion
آن لائن دستیاب شواہد سے واضح ہوا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد مسجد میں موسیقی بجا کر مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو دراصل بنگلہ دیش کے چٹاگانگ میں موجود ایک صوفی درگاہ کی ہے۔
Our Sources
Videos uploaded by gashchi shahi darbar sharif youtube account
Article Published by dainikchattogramerkhabor on 16th Nov 2024
(اس آرٹیکل کو ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔)

