Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مغربی بنگال میں قربانی کے لئے غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو پکڑے جانے کی یہ ویڈیو پرانی ہے

مغربی بنگال میں قربانی کے لئے غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو پکڑے جانے کی یہ ویڈیو پرانی ہے

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ہندی اور اردو متن کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد مغربی بنگال میں قربانی کے لئے غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو لوگوں نے پکڑ کر پولس کے حوالے کر دیا۔ ویڈیو میں ایک بھیڑ چند مسلم بزرگوں کو رسی سے باندھ کر زمین پر بٹھائے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ لوگ ان سے نام اور پتہ پوچھتے اور کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک لگوانے پر مجبور کرتے نظر آتے ہیں۔

Courtesy: X/AyushKu83719740 Courtesy: X/ZeshanDanishAdv

اس ویڈیو کو مغربی بنگال حکومت کی اس حالیہ ہدایت سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں عیدالاضحیٰ سے قبل بغیر ”ہیلتھ سرٹیفکیٹ” جانور ذبح کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ساتھ ہی کھلے مقامات پر جانوروں کے ذبح پر بھی روک لگانے اور خلاف ورزی کی صورت میں کاروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔

آرکائیو لنک

اور یہاں دستیاب ہیں۔

Fact Check/Verification

مغربی بنگال میں غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو لوگوں کے ذریعے پکڑے جانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو کی ہم نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے کیفریم کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا تو یہی ویڈیو کے ایکس اکاؤنٹ پر 3 اگست 2025 کو شیئر شدہ ملی۔ ویڈیو کے ساتھ فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ واقعہ مغربی بنگال کے درگاپور میں مسلم بچھڑا تاجروں کے ساتھ مارپیٹ کا ہے۔

اوپر ملی معلومات کی بنیاد پر کیورڈ سرچ کے دوران ہمیں انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ پر 2 اگست 2025 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ میں وائرل ویڈیو سے جڑے مناظر بطور فیچر امیج موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 31 جولائی 2025 کی شام پیش آیا تھا، جب مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ بانکورہ ضلع کی ایک مارکیٹ سے بچھڑے کو کھیتی باڑی کے کام کے لئے لے جا رہے تھے۔

اسی دوران درگاپور کے گیمن برج کے قریب بی جے پی یوتھ ونگ سے وابستہ افراد نے ان لوگوں کو روک لیا۔ بچھڑے لے جا رہے افراد کے ساتھ مارپیٹ بھی کی اور انہیں کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے پر مجبور کیا تھا۔ بعد میں درگاپور میں ترنمول کانگریس کے ضلعی صدر نے اس معاملے میں کوک اوون پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ درگاپور پولس نے اس کیس میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں ایک بی جے پی یوا مورچہ کا رکن بھی شامل تھا۔

2 اگست 2025 کو ہی دی ہندو کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق پولس نے اس معاملے میں بی جے پی سے وابستہ پاریجات گانگولی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاریجات گانگولی کی قیادت میں ہی ہجوم نے بچھڑا لے جا رہے مسلم افراد کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔

تحقیقات کے دوران ہمیں دی ٹیلی گراف کی ویب سائٹ پر 12 اگست 2025 کو شائع ایک رپورٹ ملی، جس کے مطابق درگاپور پولس نے اس معاملے میں بی جے پی سے وابستہ پاریجات گانگولی کو 10 اگست 2025 کو جھارکھنڈ کے دھنباد سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے اسے پانچ دن کی پولس حراست میں بھیج دیا تھا۔

Conclusion

ہماری تحقیقات میں ملنے والے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ حالیہ دنوں میں مغربی بنگال میں غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو لوگوں کے ذریعے پکڑے جانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو جولائی 2025 کا ہے۔ اس وقت مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی حکومت قائم تھی۔

Our Sources
X post by The Siyasat Daily on 3rd Aug 2025
Article Published by India Today on 2nd Aug 2025
Article Published by The Hindu on 2nd Aug 2025
Article Published by Telegraph on 12th Aug 2025

(اس آرٹیکل کو ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔)

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu