یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اس
آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔
Fact Check/Verification
ہم نے سب سے پہلے تحقیقات کے آغاز میں دعوے سے متعلق معتبر خبروں کی تلاش کے لئے گوگل پر مختلف کیورڈ سرچ کئے، تاہم اس واقعے کی تصدیق کرنے والی کوئی مستند میڈیا رپورٹ نہیں ملی۔ اگر ایسا واقعہ منی پور میں حقیقت میں پیش آیا ہوتا تو اسے قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں کوریج ملتی۔
: کیا جنرل اوپیندر دویدی نے پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق بیان دیا ہے؟
تحقیقات کے اگلے مرحلے میں ہم نے ویڈیو کی تصدیق کے لئے اویسم اسکرین شارٹ ٹول کا استعمال کیا، جس کے ذریعے ویڈیو سے مختلف کیفریمز حاصل کئے۔ ان میں سے ایک فریم کو ہم نے گوگل لینز پر تلاش کیا۔ اس دوران 2 مئی 2026 کو انڈو-تبتی بارڈر پولس (آئی ٹی بی پی) کے آفیشل

تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو دراصل لیہہ کے چوگلمسر میں انڈس دریا کے کنارے لگنے والی جنگلاتی آگ کی ہے، آگ پر لیہہ میں تعینات انڈو-تبتی بارڈر پولس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکاروں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا تھا۔ اس واقعے کا منی پور یا آسام رائفلز کے کسی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کے مطابق اہلکاروں نے آگ بجھانے کے لئے فائر فائٹنگ آلات اور واٹر ٹینکرز کا استعمال کیا تھا، ساتھ ہی انسانی زنجیریں اور
حکومتِ ہند کے فیکٹ چیک ادارے

Conclusion
اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ منی پور میں کوکی علیحدگی پسندوں کے آسام رائفلز کے کیمپ پر حملے کے دعوے سے وائرل کی جانے والی ویڈیو فرضی ہے۔ یہ ویڈیو دراصل لیہہ کے علاقے چوگلمسر میں دریائے انڈس کے کنارے پیش آنے والے جنگلاتی آگ کے واقعے کی ہے۔
Our Sources
X post by @ on 02 May 2026
Video published by YouTube Channel ANI on 02 May 2026
X post by @ on 27 May 2026

