سوشل میڈیا پر 22 سیکنڈ کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک بڑے صنعتی ڈھانچے کو شدید آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں بلند شعلے اور گھنا سیاہ دھواں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مناظر اسرائیل کے تل ابیب میں موجود توانائی تنصیبات پر ایران کی جانب سے کئے گئے حالیہ حملے کے ہیں۔
Fact Check/Verification
ایران کے تل ابیب میں واقع توانائی تنصیبات پر حملے کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں اسی واقعے کی طویل ویڈیو 6 اگست 2020 کو وائرل نیپال نامی فیس بک پیج پر ملی۔ ویڈیو کے 32ویں سیکنڈ پر وہی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جو وائرل کلپ میں موجود ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ آتشزدگی دبئی کی ریاست عجمان میں پیش آنے والے ایک واقعے کی ہے۔

اس کے بعد ہم نے فیس بک کی ایڈوانس سرچ کے ذریعے "حریق، عجمان، سوق" کیورڈز تلاش کئے، جس کے نتیجے میں ہمیں اس واقعے سے متعلق اگست 2020 میں شیئر شدہ مزید پوسٹس اور ویڈیوز ملیں۔ نیوز ایجنسی السوريون في الإمارات کے مطابق عجمان کے عوامی بازار میں لگنے والی آگ کی ہے۔
اس کے بعد ہم نے گوگل پر "حريق في سوق شعبي بعجمان" کے کیورڈز تلاش کئے، جس کے نتیجے میں ہمیں 5 اگست 2020 کو عجمان پولس کے آفیشل فیس بک پیج پر شائع ہونے والی ایک پوسٹ ملی۔ اس پوسٹ میں عجمان کے عوامی بازار (سوق) میں لگنے والی آگ کے واقعے کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ پولس کے مطابق اس حادثے میں کسی بھی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا، کروناوائرس کی وجہ سے یہ مال کافی دنوں سے بند تھا۔
پھر ہم نے گوگل میپس پر مذکورہ کیورڈز تلاش کئے، جہاں ہمیں وہی مقام ملا جو وائرل ویڈیو میں دکھائی دے رہا تھا۔ مزید تصدیق کے لئے ہم نے وائرل ویڈیو، 2020 کی پرانی ویڈیوز اور گوگل اسٹریٹ ویو تصاویر کا باہمی موازنہ کیا۔ اس دوران آگ سے متاثرہ عمارت کے قریب واقع سفید رنگ کی ایک چھوٹی عمارت اور سڑک کے کنارے نصب اسٹریٹ لائٹس تمام مناظر میں یکساں نظر آئیں، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا مقام شیخ زاید اسٹیٹ، عجمان میں واقع ایرانی سوق ہے۔


Conclusion
اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو کا تعلق تل ابیب میں توانائی کی تنصیبات پر ایران کے حالیہ حملے سے نہیں ہے، بلکہ یہ 2020 میں متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان کے عوامی بازار میں لگنے والی آگ کے واقعے کی ویڈیو ہے۔
Our Sources
Facebook posts by Viral Nepal, syriansinuae and Ajman Police GHQ Aug 2020
Self Analysis
Google Street View

