سوشل میڈیا پر آئی سی یو کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اسپتال میں بستر مرض پر لیٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جبکہ ایک شخص ان کے ساتھ سیلفی ویڈیو بنا رہا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمران خان کی موجودہ صورتحال کی تازہ ویڈیو ہے۔
Fact Check/Verification
ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ساتھ کئے گئے دعوے سے متعلق کیورڈ تلاش کیا، تاہم ہمیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی جس میں مذکورہ ویڈیو یا عمران خان کے اسپتال میں داخل ہونے سے متعلق کوئی خبر موجود ہو۔ البتہ تلاش کے دوران کئی میڈیا رپورٹس ملیں، جن میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے انتقال سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خبریں یہاں، یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔
پھر ہم نے وائرل ویڈیو کے الگ الگ کیفریم کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ جہاں ہمیں چہروں کی غیر فطری بناوٹ، پس منظر میں موجود طبی آلات کی ساخت، مانیٹرز پر مسخ شدہ تحریریں اور روشنی میں عدم مطابقت جیسے نقائص نظر آئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویڈیو کو ڈیجیٹل طریقے سے تیار یا تبدیل کیا گیا ہے۔


اسی بنیاد پر ہم نے وائرل ویڈیو کے مختلف فریموں کو الگ الگ اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کی مدد سے جانچا۔ اَن کوو اے آئی ٹول نے آواز کو سوفیصد اصل اور ویڈیو کو 70 فیصد اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا ہے، جبکہ ڈیپ اے آئی ٹول کے تجزیے میں وائرل ویڈیو کے ایک فریم کے 87 فیصد اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔


ڈیپ فیک اینالیسس یونٹ (ڈی اے یو) کے دستی تجزیے میں چند فریموں میں مانیٹر کی تحریر مسخ پائی گئی، تاہم ویڈیو کے کمپریشن اور کوالٹی کے باعث اے آئی سے پیدا ہونے والے نقائص میں واضح فرق کرنا مشکل بتایا گیا۔

اس کے علاوہ ڈی اے یو نے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز (سائٹ انجن اور امیج وہسپر) کے تجزیاتی نتائج بھی فراہم کئے، جن میں ویڈیو کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔


Conclusion
نیوز چیکر کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسپتال میں موجودہ صورتحال کے دعوے کے ساتھ وائرل کی جانے والی ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
Our Sources
Self analysis
Deep AI tool
Uncov AI tool
DAU analysis

