Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
کیا ایرانی صدر پزشکیان نے پنڈت کے پاؤں چھو کر آشیرواد لیا؟ حقیقت یہاں پڑھیں

کیا ایرانی صدر پزشکیان نے پنڈت کے پاؤں چھو کر آشیرواد لیا؟ حقیقت یہاں پڑھیں

ان دنوں ایرانی صدر پزشکیان 2026 کی برکس سمٹ میں شرکت کے لئے بھارت کے دورے پر ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں وہ ایک ہندو مذہبی رہنما کے سامنے جھکتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان پنڈت کے پاؤں چھو کر آشیرواد لے رہے ہیں۔

Courtesy:Facebook/Firdous جمال

آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔

Fact Check/Verification

ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ایک فریم گوگل لینس کی مدد سے تلاش کیا۔ اس دوران ہمیں اسی واقعے کی دوسرے اینگل سے فلمائی گئی 55 سیکنڈ کی ایک ویڈیو عصمت ٹی وی کے فیس بک پیج پر ملی۔ جس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ہندو مذہبی رہنما دونوں کو جھکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وائرل ویڈیو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان پجاری کے پاؤں چھونے کے لئے نہیں بلکہ زمین پر گرے ہوئے قلم کو اٹھانے کے لئے جھکے تھے۔

 Courtesy:Facebook/IsmatTV

عصمت ٹی وی کے فیس بک پیج پر موجود نمبر پر ہم نے رابطہ کیا، جہاں اس پروگرام کو کور کرنے والے صحافی حسین مہدی سے فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے وائرل ویڈیو سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو مولانا یعسوب عباس اور اچاریہ لوکیش منی کچھ دستاویزات دے رہے تھے، جو زمین پر گر گئے تھے، جسے ایران کے صدر نے شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھک کر اٹھایا تھا۔

صحافی حسین مہدی نے اسی پروگرام کی ایک طویل ویڈیو ہمیں واٹس ایپ کے ذریعے فراہم کی۔ ویڈیو میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو مولانا یعسوب عباس اور گھونگریلے بالوں والے سفید لباس میں ملبوس ایک شخص سے دستاویز لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ آگے ویڈیو میں ایرانی صدر اور جگت گرو سوامی ستیشاچاریہ مہاراج دونوں زمین سے کچھ اٹھانے کے لئے جھکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مزید تصدیق کےلئے ہم نے اچاریہ لوکیش منی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کھنگالے۔ جہاں اچاریہ لوکیش منی کے فیس بک پیج پر تصاویر ملیں، جن میں وہ ایران کے صدر کو دستاویز پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں یہ واضح ہوا کہ اس پروگرام میں اچاریہ لوکیش منی بھی شامل تھے۔

 Courtesy:Facebook/Acharyalokeshji

پھر ہم نے اچاریہ لوکیش منی سے فون پر رابطہ کیا اور ان سے وائرل ویڈیو سے متعلق سوالات کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کے ساتھ کیا جانے والا دعویٰ فرضی ہے۔ وہ اس تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے صدر نے کسی کے پاؤں نہیں چھوئے تھے۔ ان کے مطابق جب ان کے ذریعے ایران کے صدر کو آہوان میگزین اور کچھ دستاویزات دی جا رہی تھیں تو ان میں سے ایک زمین پر گر گئی، جسے اٹھانے کے لئے ایرانی صدر احتراماً جھکے تھے۔

مزید تصدیق کے لئے نیوز چیکر ٹیم نے جگت گرو سوامی ستیشاچاریہ مہاراج سے رابطہ کیا ہے، جواب ملتے ہی اس آرٹیکل کو اپڈیٹ کردیا جائے گا۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کو تحقیق کے دوران ملے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا جانے والا دعویٰ غلط ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان جگت گرو سوامی ستیشاچاریہ مہاراج کے پاؤں چھو کر آشیرواد لینے کے لئے نہیں بلکہ زمین پر گرے ہوئے دستاویز اٹھانے کے لئے جھکے تھے۔

Our Sources
Facebook post by Ismat TV on 13 Sept 2026
Facebook post by Acharyalokeshji on 12 Sept 2026
Telephonic Conversation with Ismat TV Journalist Hussain Mehdi
Telephonic Conversation with Acharya Lokesh ji

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu