Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
بنگلہ دیش کی چھینا جھپٹی کی ویڈیو کو بھارت میں مسلم شخص پر تشدد کا بتا کر کیا گیا شیئر

بنگلہ دیش کی چھینا جھپٹی کی ویڈیو کو بھارت میں مسلم شخص پر تشدد کا بتا کر کیا گیا شیئر

سوشل میڈیا پر 10 سیکنڈ کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ جس میں دو نوجوان لڑکے ایک شخص پر دھار دار ہتھیار سے حملہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارت میں مسلم شخص پر دھار دار ہتھیار سے سرِعام سڑک پر کئے گئے حملے کی فوٹیج ہے۔

ویڈیو کے ساتھ ایکس

نے لکھا ہے "انڈیا میں مسلمانوں کو سرعام راہ چلتے مارا جا رہا ہے یہ مودی کا اصل چہرہ ہے اس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہتی ہیں"۔

Courtesy: X@MahroshPervaiz1

آرکائیو لنک اور

دستیاب ہیں۔

Fact Check/Verification

ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں بنگلہ دیش کی مقامی نیوز آؤٹ لیٹ کے فیس بک پیجز پر رواں ماہ کی 12 سے 14 تاریخ کے بیچ شیئر شدہ یہی ویڈیو ملی۔ ان سبھی پوسٹ کے مطابق یہ واقعہ محمدپور نبی نگر ہاؤسنگ علاقے میں راہ گیر کے ساتھ چھینا جھپٹی کا ہے۔ پوسٹس یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

 Courtesy: Facebook/ Dhaka Today

ہم نے مذکورہ کیورڈز تلاش کئے لیکن وائرل ویڈیو سے متعلق کوئی مستند میڈیا رپورٹس موصول نہیں ہوئیں۔ تب ہم نے فیس بک ایڈوانس سرچ کی مدد سے مذکورہ کیورڈز تلاش کئے۔ اس دوران ہمیں کئی پوسٹس وائرل ویڈیو سے متعلق ملی۔ لیکن ایک پنکجناتھ سوریا نامی صارف کی جانب سے 13 ستمبر 2026 کو شیئر کی گئی اسی ویڈیو کا طویل ورژن ملا، پنکج کے پروفائل پر دی گئی جانکاری کے مطابق اس کا تعلق بنگلہ دیش کے چٹگاؤں کے نواکھالی سے ہے، لیکن پنکج ڈھاکہ میں رہتے ہیں۔

پنکج سوریا نے اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ 7 ستمبر کو محمدپور نبی نگر ہاؤسنگ علاقے میں دو 18 سے 20 سال کی عمر کے لڑکوں نے ہتھیار کے زور پر ان کا موبائل فون اور کچھ رقم چھین لی۔ واقعے کے بعد انہوں نے محمدپور تھانے میں شکایت درج کرائی، جس کے ایک روز بعد پولس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔

  Courtesy: Facebook/pankaznath.surya

مزید تصدیق کے لئے نیوز چیکر بنگلہ دیش ٹیم کے صحافی رفعت محمود نے فیس بک کے ذریعے پنکج سے رابطہ کیا۔ اس دوران پنکج نے تصدیق کی کہ وہ خود اس واقعے سے متاثر ہوئے ہیں، تاہم اس میں کوئی فرقہ وارانہ پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک عام چھینا جھپٹی کا واقعہ ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وائرل ویڈیو بھارت میں کسی مسلم شخص پر دھار دار ہتھیار سے حملے کی نہیں، بلکہ بنگلہ دیش کے محمدپور نبی نگر ہاؤسنگ علاقے میں پیش آئے چھینا جھپٹی کے واقعے کی ہے۔ اس معاملے کا مذہب یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Sources
Facebook posts by Maasranga News, bbm.news, Dhaka Today and Daily Bangladesh on Sept 2026
Facebook post by pankaznath.surya on 13 Sept 2026
Conversation with Pankaj Surya

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu