22 سیکنڈ کی ایک ویڈیو جس میں یونیفارم میں ملبوس فوجی اہلکار ایک ہجوم پر لاٹھی چارج کرتے نظر آرہے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی اس ویڈیو کو حالیہ مغربی بنگال انتخابات 2026 کے دوران ہونے والے تشدد کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کو ووٹر لسٹوں سے نکال دیا گیا ہے اور جن لوگوں نے احتجاج کیا یا ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھ پر گئے تو انہیں فوجی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
Fact Check/Verification
وائرل ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر بنگالی اعداد درج تھے، جبکہ بھارت میں گاڑیوں کی رجسٹریشن پلیٹوں پر انگریزی (رومن) حروف استعمال ہوتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فوٹیج مغربی بنگال کی ہونے کا امکان کم ہے۔
ویڈیو میں دیواروں پر بنگالی زبان میں کئی پوسٹرز اور تحریریں بھی نظر آئیں۔ خاص طور پر ایک جگہ ”بنگلہ بلوکاڑے” لکھا ہوا نظر آیا، جو بنگلہ دیش میں جولائی 2024 کے دوران طلبہ کے احتجاج سے جڑی اصطلاح ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش سول سروسز کے امتحانات کی تیاری سے متعلق اشتہارات بھی دکھائی دیے، جو واضح طور پر اس ویڈیو کے بنگلہ دیش سے ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید تحقیق کے دوران ہمیں یہی ویڈیو 15 فروری 2026 کو بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے ”لا ٹی وی” کے فیس بک اکاؤنٹ پر اپلوڈ شدہ ملی، یہ ویڈیو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے پہلے کی ہے۔
وائرل کلپ میں ‘لا ٹی وی’ کا لوگو بھی موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو اسی پلیٹ فارم سے لی گئی ہے۔
Screengrab from Facebook post by Law TV Newsبھارتی الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا نظامِ اوقات 15 مارچ 2026 کو جاری کیا تھا۔ پولنگ دو مراحل میں ہوئی، جو 23 اپریل اور 29 اپریل 2026 کو منعقد کی گئی۔
Conclusion
اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے دوران سیکیورٹی فورسز کے مسلمان ووٹروں پر لاٹھی چارج کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ آن لائن ملے شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ کلپ دراصل بنگلہ دیش کا ہے اور انتخابات سے پہلے کا ہے۔
Our Sources
Facebook Post By Law TV, Dated February 15, 2026
Self Analysis
(اس آرٹیکل کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)

