سوشل میڈیا پر اس ہفتے مغربی بنگال انتخابات، تمل ناڈو کی سیاست اور فرقہ وارانہ واقعات سے متعلق کئی ویڈیوز اور تصاویر مختلف گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ ان میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے مسلمانوں پر مبینہ تشدد، مساجد میں ہراسانی، پی ایم مودی کی مبینہ معافی، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کی پرانی ویڈیوز، اور نواز شریف کے ساتھ ان کی مصنوعی تصویر شامل ہیں۔ جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ مواد یا تو دوسرے ممالک جیسے بنگلہ دیش سے متعلق ہے، یا پرانا و غیر متعلقہ ہے، جبکہ بعض تصاویر مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہیں۔ ان سبھی موضوع پر مختصر فیکٹ چیک درج ذیل میں پڑھیں۔
کیا وائرل تصویر تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک تصویر اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی کی پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ 2023 میں ملاقات ہوئی تھی۔ تاہم جانچ سے پتا چلا کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ زیرِ گردش تصویر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد کولکاتا کی مسجد میں مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے کی ہے؟
ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا گیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد کولکاتا کی ایک مسجد میں موسیقی بجا کر مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا۔ تاہم جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ زیرِ گردش ویڈیو مغربی بنگال کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے چٹگاؤں میں موجود ایک صوفی درگاہ کی ہے۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا وزیر اعظم نریندر مودی نے "آپریشن سندور" کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مغربی بنگال میں معافی مانگی؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے "آپریشن سندور" کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مغربی بنگال میں عوام کے سامنے جھک کر معافی مانگی۔ تاہم پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو دراصل مغربی بنگال میں سویندھو ادھیکاری کی حلف برداری تقریب کے دوران کا ہے، جہاں وزیر اعظم مودی نے عوام کا شکریہ ادا کیا تھا۔ یہاں مکمل فیکٹ چیک پڑھیں۔

کیا تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کا مسجد جا کر مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کی یہ ویڈیو حالیہ ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تھلاپتی وجے مسجد گئے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو پرانی ہے اور اس کا حالیہ سیاسی صورتحال یا عہدہ سنبھالنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا وائرل ویڈیو مغربی بنگال میں بی جے پی کارکن کے ہاتھوں ایک مسلمان خاتون پر سرِعام تشدد کی ہے؟
ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ مغربی بنگال میں ایک مسلمان خاتون پر بی جے پی کارکن نے سرِعام تشدد کیا۔ تاہم جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو مغربی بنگال کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی ہے۔ یہاں پڑھیں پورا فیکٹ چیک۔

