Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Weekly Wrap: مسلمان لڑکی کے اغوا کرنے و وزیر اعظم مودی سے متعلق 5 مختصر فیکٹ چیک یہاں پڑھیں

Weekly Wrap: مسلمان لڑکی کے اغوا کرنے و وزیر اعظم مودی سے متعلق 5 مختصر فیکٹ چیک یہاں پڑھیں

سوشل میڈیا پر اس ہفتے بھارت، بنگلہ دیش اور مذہبی معاملات سے متعلق کئی ویڈیوز مختلف گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ ان میں بھارتی وزیر اعظم مودی سے منسوبایک ترمیم شدہ ویڈیو، مذہبی رنگ دے کر پھیلایا گیا مبینہ اغوا کا واقعہ، بھارتی ایئرپورٹ پر چوری کے دعوے اور ایک سرکاری افسر سے منسوب گمراہ کن کلپ شامل ہیں۔ لہٰذا ان سبھی موضوع پر 5 مختصر فیکٹ چیک ملاحضہ کریں۔

کیا وائرل ویڈیو واقعی بھارتی ایئرپورٹ پر مسافروں کے بیگ پھاڑ کر سامان چوری کئے جانے کی ہے؟

انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ بھارتی ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے بیگ پھاڑ کر اُن کی محنت کی کمائی چوری کرلی گئی۔ تاہم جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو بھارت کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ہے۔ یہاں پورا فیکٹ چیک پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو ہندو افراد کی جانب سے پولس کی موجودگی میں مسلمان لڑکی کے اغوا کی ہے؟

ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے پولس کی موجودگی میں ایک مسلمان لڑکی کو اغوا کر لیا تھا۔ جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ دراصل لڑکی کا تعلق برہمن خاندان سے ہے اور اس کا نام رنکو شرما ہے۔ پورا فیکٹ چیک پڑھنے کے لئے یہاں لنک کلک کریں۔

کیا دبئی میں عرب رہنما کے جوتے صاف کرتے وزیر اعظم مودی کی یہ ویڈیو اصلی ہے؟

ایک ویڈیو کو شوشل میڈیا پر شیئر کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی دبئی میں ایک عرب رہنما کے جوتے صاف کر رہے ہیں۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ترمیم کیا گیا ہے۔ یہاں پڑھیں پورا فیکٹ چیک۔

کیا یہ ویڈیو ایک بھارتی سرکاری افسر کے مندر میں اے سی یونٹس کے ساتھ داخل ہونے کی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ ایک بھارتی سرکاری افسر مندر میں اپنے ساتھ اے سی یونٹس لے کر داخل ہوا۔ جبکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص کوئی سرکاری افسر نہیں بلکہ سنت رامپال ہے۔ پورا فیکٹ یہاں پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد قصائیوں کے پکڑے جانے کی ہے؟

ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد قربانی کے لئے غیر قانونی طریقے سے گائے فروخت کرنے آئے قصائیوں کو پکڑ کر پولس کے حوالے کیا گیا۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ تقریباً ایک سال پرانی ہے، جسے موجودہ سیاسی حالات سے جوڑ کر گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu