Sunday, 28 Feb, 1.09 pm Qaumi Awaz

صفحہ اول
گوہر رضا کی نظم کسانوں کے نام -حد بندی

آج کسانون کی جدوجہد کو دہلی کی سرحد پر تین مہینے پورے ہو گیے۔ اس بیچ انہوں نے پانی، بارش، سردی سب کچھ جھیلا ہے۔ دہلی خاموش رہی۔ یہ نظم 'حد بندی' دہلی کے ایک شہری کا میسج ہے دہلی والوں کے نام، حد بندی:

گھر میں چین سے سونے والو!

سنگھرشوں کی پتھریلی راہوں پر چلنا

بالکل بھی آسان نہیں ہے

یہ دہقاں، جو سڑکوں پر ہیں

ان کے لیے بھی

کھیتوں کو ، کھلیانوں کو

یا باغوں کو، چوپالوں کو

چھوڑ کے اپنے حق کی خاطر

دہلی کی سرحد تک آنا

بالکل بھی آسان نہیں تھا

کاش کہ ایسا ہوتا دہلی

تم نے باہیں کھولی ہوتیں

ان کو گلے لگایا ہوتا

زخموں پر کچھ مرہم رکھتے

ان کے دکھ کو ساجھا کرتے

اور کچھ اپنے زخم دکھاتے

ان کی کہانی ان سے سنتے

اپنی بھی روداد سناتے

کاش کہ ایسا ہوتا دہلی

تم ان کو مہمان سمجھتے

تم ان کو بھگوان سمجھتے

باہیں کھول کے سواگت کرتے

گر یہ نہیں تو، اتنا کرتے

تم ان کو انسان سمجھتے

کانٹوں کے یہ جال نہ بنتے

پتھر کی دیوار نہ چنتے

کیلوں کے بستر نہ بچھاتے

ان پر تم الزام نہ دھرتے

طرح طرح کے نام نہ دھرتے

کاش کہ ایسا ہوتا ہمدم

سنگھرشوں کے ان گیتوں میں

ایک نغمہ دہلی کا ہوتا

کاش کہ آزادی کی پہلی

جنگ کی یادیں تازہ ہوتیں

کاش کہ تم کو یاد یہ رہتا

میرٹھ کے جب باغی پہنچے

تم نے کیا سمان کیا تھا

دہقانوں کے ان بیٹوں پر

جان کو بھی قربان کیا تھا

کاش کبھی وہ وقت نہ آیے

جب یہ دہقاں لوٹ کے جائیں

گاؤں کی حد بندی کر لیں

کانٹوں کے کچھ جال بچھائیں

کیلوں کے بستر پھیلائیں

اور تم دیش کے راج سنگھاسن پر بیٹھے

تنہا رہ جاؤ

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Qaumiawaz urdu
Top