Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

'ہندوؤں کے بیچ نماز' سے لے کر 'فکسر کو سکسر' تک

'ہندوؤں کے بیچ نماز' سے لے کر 'فکسر کو سکسر' تک
  • 35d
  • 0 views
  • 2 shares

کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں پاکستانی قومی ٹیم نے بھارت کے بعد نیوزی لینڈ کو بھی شکست دے کر سیمی فائنل تک پہنچنے کی راہ تقریبا ہموار کر لی ہے۔ اگلے تین میچوں میں بظاہر صرف افغانستان ہی ایک مشکل حریف ثابت ہو سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ نے سیکورٹی وجوہات کو جواز بناتے ہوئے گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر گئی ہوئی اپنی ٹیم واپس بلا لی تھی۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی پاکستانی امیدوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ اور شائقین اسی وجہ سے نیوزی لینڈ کو بھی شکست دے کر 'بدلہ' لینا چاہتے تھے۔ میچ جیتنے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین کیوی ٹیم سے پوچھتے دکھائی دیے کہ کیا وہ 'اب خود کو محفوظ' سمجھ رہے ہیں؟

میچ کے دوران میدان میں بھی پاکستانی شائقین نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر 'سیکورٹی سیکورٹی' پکارتے دکھائی دیے۔ پاکستانی اداکار سہیل احمد نے ٹوئیٹ کیا، ''کتنے آدمی تھے؟ سردار پانچ۔ کیوں پچھلی مرتبہ تو دو تھے؟ کیوں کہ نیوزی لینڈ کو سیکورٹی کا مسئلہ تھا۔''

کرکٹ شائقین تو اپنی جگہ سیاست دان بھی طنز کے تیر برساتے دکھائی دیے۔ حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف نے ٹوئیٹ میں لکھا، ''نیوزی لینڈ، ہم نے میدان سے باہر آپ کو سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن میدان کے اندر آپ ہیں اور سبز شرٹ میں کھلاڑی۔''

اسی طرح پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''اصل غصہ ہی ہمیں نیوزی لینڈ پہ تھا، یہ انڈیا تو راستے میں آ گیا۔''

'ہندوؤں کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز'

وزیر اطلاعات کا بیان اپنی جگہ، لیکن پاک بھارت مقابلے کے بعد اب تک دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین اور کئی سابق کھلاڑی 'موقع موقع' ہی کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پاک بھارت میچ میں روایتی حریفوں کی قوم پرستی تو غالب دکھائی دیتی ہی رہتی ہے لیکن اس مرتبہ اس بحث کو 'ہندو مسلم' رنگ بھی دیا جاتا رہا۔ بھارت کی شکست کے بعد بھارتی ٹیم کے مسلمان کھلاڑی محمد شامی کو مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے ٹرول کیا گیا۔ کشمیر میں 'پاکستان کی جیت کا جشن' منانے والوں کو بھی سختی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری طرف پاکستان کے سابق کھلاڑی اور کوچ وقار یونس کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وقار یونس نے ایک لائیو پروگرام کے دوران کہا کہ ان کے لیے وہ لمحہ بہت اہم تھا جب 'رضوان نے گراؤنڈ میں ہندؤں کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی' تھی۔

اس بیان پر نہ صرف بھارتی صارفین ناراض ہوئے بلکہ کئی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی وقار یونس کے بیان پر تنقید کی۔ ارسلان حسن خان نے لکھا، ''وقار یونس کا بیان شرمناک ہے۔ بھارت میں بڑی مسلمان کمیونٹی ہے اور پاکستان میں بھی لاکھوں ہندو رہتے ہیں۔ کھیل کھیل ہوتا ہے، مذاہب کے مابین جنگ نہیں۔''

ہربھجن سنگھ اور محمد عامر کی نوک جھونک

اس صورت حال میں پاکستانی ٹیم کے سابق رکن محمد عامر اور سابق بھارتی کھلاڑی ہربھجن سنگھ کے مابین بھی ٹوئٹر پر تلخ کلامی ہوئی۔ محمد عامر نے ہربجھن کو چھیڑتے ہوئے ٹوئیٹ کر کے پوچھا کہ کہیں انہوں نے شکست کے بعد اپنا ٹی وی تو نہیں توڑ دیا تھا۔

عامر کا طنز ہربھجن کو نہ بھایا اور انہوں نے جواب میں عامر کو میچ فکسنگ کا طعنہ دیا۔ جواب در جواب میں بات تلخ کلامی تک آن پہنچی۔ اس بحث پر دونوں کھلاڑیوں کے حامی بھی ان کی حمایت میں آن پہنچے۔ لیکن دونوں طرف کئی افراد ایسے بھی تھے جو دونوں کھلاڑیوں کی 'نازیبا گفتگو' پر ان سے نالاں دکھائی دیے۔

ہربھجن سنگھ نے میچ سے قبل شعیب اختر کے ساتھ گفتگو میں بھارت کی جیت کو یقینی قرار دیا تھا لیکن شکست کے بعد انہوں نے کھل کر تسلیم کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم نے بہت اچھا کھیل پیش کیا۔

'نعمان نیاز معافی مانگو'

شعیب اختر اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر چھائے رہتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ وہ ایک مختلف طرح کے تنازعے میں گھرے دکھائی دیے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پر کرکٹ ورلڈ کپ پر مباحثے کے ایک پینل میں شعیب اختر ایکسپرٹ کے طور پر حصہ تھے اور اس کی میزبانی ڈاکٹر نعمان نیاز کر رہے تھے۔

اس پروگرام کے دوران نعمان نیاز شعیب اختر کی کسی بات پر نالاں ہوئے اور لائیو پروگرام میں انہیں شو سے چلے جانے کا کہہ دیا۔ اس دوران پروگرام میں وقفہ لے لیا گیا جس دوران معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔

نعمان نیاز نے بھی ایک ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا، ''مجھے حیرت ہے کہ یہ یاد دلانا کیوں ضروری ہے کہ شعیب اختر ایک اسٹار ہیں۔ وہ بہترین ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کہانی کا ایک ایک رخ ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔ بہرحال طویل مدتی دوست ہونے کے ناطے میں ہمیشہ اس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کروں گا۔''

Dailyhunt

مزید پڑھیں
بی بی سی اردو
بی بی سی اردو

اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دنیا کا مہنگا ترین اور شام کا دارالحکومت دمشق سستا ترین شہر قرار

اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دنیا کا مہنگا ترین اور شام کا دارالحکومت دمشق سستا ترین شہر قرار
  • 2hr
  • 0 views
  • 0 shares

Reuters اسرائیل کی کرنس کے مضبوط ہونے کی وجہ سے بھی ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے

دنیا بھر میں مال تجارت کی نقل و حمل میں تعطل اور عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے دوران تل ابیب کو دنیا کا مہنگا ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔

اکانومسٹ اٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے سالانہ سروے میں اس سال تل ابیب دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں پیرس کو پیچھے چھوڑتا ہوا گذشتہ سال کے سروے میں پانچوں نمبر سے اس سال پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ پیرس اور سنگاپور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

خانہ جنگی سے متاثرہ ملک شام کا دارالحکومت دمشق اس فہرست میں بدستور دنیا کا سب سے سستا ترین شہر ہونے کی وجہ سے آخری نمبر پر برقرار ہے۔

اس سروے میں دنیا کے 173 ملکوں میں روز مرّہ کی اشیاء کی قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کا ڈالر میں تخمینہ لگا کر ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

ای آئی یو نے اس سال اگست اور ستمبر کے مہینوں میں دنیا بھر کے 173 شہروں مقامی کرنسی میں قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کے اعداد و شمار حاصل کر کے کہا ہے کہ اوسط قیمتوں میں تین اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ گذشتہ پانچ برس میں افراط زر کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

ٹرانسپورٹ یا نقل و حمل پر ہونے والے اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ جن شہروں میں سروے کیا گیا وہاں پیٹرول کی قیمتیں اوسطاً 21 فیصد بڑھیں۔

تل ابیب ای آیی یو کی 'کوسٹ آف لیونگ' یعنی رہنے کے اخراجات کی فہرست میں اس لیے اوّل نمبر پر آ گیا کیونکہ اسرائیل کی کرنسی شیکل ڈالر میں مقابلے میں مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ کم از کم 10 فیصد اشیا، خاص طور پر روز مرّہ کے استعمال اور کھانے پینے کی چیزوں کی جن کا شمار گھروں کے سودوں میں ہوتا ہے مقامی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔

سروے میں تل ابیب شراب اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کے حساب سے دوسرے نمبر پر، ذاتی فلاح و بہود میں پانچویں نمبر پر اور تفریحی سہولیات کے نرخوں کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھیے

'جب نوٹ چھاپیں گے تو افراطِ زر تو بڑھے گا'

تل ابیب کے میئر نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو میں خبردار کیا کہ جائیداد یا گھروں کی قیمتیں جو ای آئی یو کے سروے میں شامل نہیں ہوتیں اس کے لحاظ سے تل ابیب انتہائی مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ اب 'پھٹنے کے قریب' ہے۔

'تل ابیب اور زیادہ مہنگا ہوتا جائے گا کیونکہ پورا ملک ہی مہنگا ہو رہا ہے۔'

اُنھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس متبادل شہر نہیں ہیں جیسا کہ امریکہ میں نیویارک ہے، شکاگو ہے، میامی ہے اور بہت سے شہر ہیں۔ اس طرح برطانیہ میں لندن کے علاوہ مانچسٹر ہے، لیورپول ہے۔ ان ملکوں میں آپ دوسرے شہروں میں نقل مکانی کر سکتے ہیں جہاں رہائشی اخراجات اتنے زیادہ ناقابل برداشت نہ ہوں۔

گذشتہ سال پیرس، زیورخ اور ہانگ کانگ اس فہرست میں اول نمبر پر آنے والے تین ملک تھے۔ زیورخ اور ہانگ کانگ اس سال بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں جس کے بعد نیویارک، جنیوا، کوپن ہیگن، لاس اینجلس اور اوساکا کا نمبر آتا ہے۔

تہران نے اس فہرست میں سب سے بڑی چھلانگ لگائی ہے اور وہ 79 ویں نمبر سے 29 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے درآمدات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں کورونا وائرس کی وجہ سے اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بہت سے ملک نکل رہے ہیں لیکن بڑے شہروں میں اچانک مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مال تجارت کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے جس سے قیمتوں میں عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

کورونا کی وبا سے طلب میں اتر چڑھاؤ رہتا ہے اور سرمایہ کار اور تاجر بھی تذبذب کا شکار رہتے ہیں جس سے نہ صرف قیمتوں پر اثر پڑتا ہے بلکہ کرنسی کی قدر بھی بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔

ای آیی یو کے اندازوں کے مطابق قیمتوں میں آنے والے مہینوں اور سال میں معتدل اضافہ ہو گا کیونکہ بہت سے ملکوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شرح سود میں آہستہ آہستہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

source: bbc.com/urdu

Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

بین الاقوامی پروازوں کے شروع کرنے کے فیصلے پر لگا بریک

بین الاقوامی پروازوں کے شروع کرنے کے فیصلے پر لگا بریک
  • 24m
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی: حکومت ہند نے رواں ماہ سے بین الاقوامی ہوائی خدمات شروع کرنے کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ وبا میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کے اثرات کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی پروازوں کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے بدھ کے روز ایک سرکلر میں بتایاکہ کورونا کے نئے ویریئنٹ سامنے آرہی ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے کے ساتھ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور کمرشیل بین الاقوامی پروازوں کے آغاز کی تاریخ کے حوالے سے مناسب وقت پر فیصلہ کیا جائے گا۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection