Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات پر پرینکا گاندھی جلد کریں گی کچھ اعلانات

اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات پر پرینکا گاندھی جلد کریں گی کچھ اعلانات
  • 33d
  • 0 views
  • 1 shares

لکھنؤ: پرتگیا یاتراؤں کے ذریعہ عوام الناس سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش کر رہیں کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی وڈرا نے کہا کہ وہ ٹیچروں۔ملازمین کے مطالبات پر جلد ہی کچھ اعلان کریں گی۔

دہلی سے یہاں پہنچی پرینکا سے پرائمری ٹیچر یونین کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور کورونا بحران کے دوران الیکشن ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے اساتذہ کے حق کی آواز اٹھانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ وفد نے ملازمین، ٹیچروں، شکچھا متروں، آنگن باڑی اہلکاروں، آشا بہوؤں اور رسوئیوں کے مفادات کا مطالبہ پرینکا کے سامنے رکھا۔

2 جی اسپیکٹرم معاملہ: سابق سی اے جی ونود رائے نے کانگریس لیڈر سنجے نروپم سے مانگی بلاشرط معافی

پرینکا گاندھی نے وفد کو بتایا کہ ٹیچروں۔ملازمین کے کئی مطالبات پر جلد ہی وہ اعلانات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملازمین، ٹیچروں، شکچھا متروں، آنگن باڑی اہلکاروں، آشا بہوؤں اور رسوئیوں کے مفادات کے سلسلے میں پوری طرح سے کمر بستہ ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
معيشت
معيشت

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے
  • 1hr
  • 0 views
  • 3 shares

دانش ریاض، معیشت،ممبئی

یہ کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے۔ نوجوانوں کے ایک گروپ پر غلبہ دین کا سودا سمایا ہوا تھا۔وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے خود بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے جو اسلاف کہلاتے ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں اس کی تحریک چلائی اور ابلیسی ٹولوں میں کہرام مچادیا ۔اسی دوران کچھ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ کہیں یہ ملت کے اجارہ دار نہ بن جائیں لہذا رقیب بن کر تھانے میں رپٹ لکھوانا شروع کردیا اور یہ شکایت درج کروائی کہ اس دور میں بھی کچھ لوگ خدا کا نام لینا چاہتے ہیں لہذا ان پرکارروائی لازم ہے۔ابلیس کے نمائندے پہلے سےگھات لگائے بیٹھے تھے ،انہوں نے آناً فاناً ایسی کارروائی کی کہ سیکڑوں گھر آہ و بکا کا نظارہ پیش کرنے لگے۔جب ظلم کا ٹانڈو تھوڑا کم ہوا تو سیکڑوں نوجوان جو سلاخوں کے پیچھے بھیج دئے گئے تھے۔ ان کی ضمانتیں منظور ہونی شروع ہوئیں اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جس ملت کے نام پر وہ سنت یوسفی ادا کرنے گئے تھے وہی ملت ان کی ضمانت لینے کو تیار نہ تھی اور پھر غیر مسلموں نے ان کی ضمانتیں کروائیں اور پھر وہ رہائی کی دہلیز تک پہنچے۔
دوتین روز قبل جب میں نے مولانا عمر گوتم کی بیٹی کا دردچھلکتے دیکھا تو محسوس ہواکہ اس معصوم بہن نے بےجا ہی شکوہ کیا ہے یہ ملت توآرین خان کی ماں(Gauri Chhibber) گوری چھبر کا درد محسوس کرتی ہےاسے ملت کی اس بیٹی کا درد کیونکر محسوس ہوگا جو دین کے نام پر ظلم و ستم برداشت کررہی ہو ۔ اس ملت کے بزرگان تو اپنی امارت قائم کرنے میں کروڑوں روپیہ بریانی پر صرف کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات سے کیا خبر کہ کوئی دین کے نام پر سوکھی روٹی سے بھی محروم ہورہا ہے۔ اس ملت کے ذی ہوش تو جلسے جلوس،ویبی نار اور سیمینار پر لاکھوں روپیہ خرچ کرسکتے ہیں لیکن انہیں کسی ایسے جلسے کی کیا حاجت جہاں دین کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنے والوں کے خلاف لام بندی کی گئی ہو۔
ہاں دین کے نام پر ایک کاروبار میں برسوں سے دیکھ رہا ہوںوہ یہ کہ
مہاراشٹر کا مسلمان آسام اور تریپورہ میں ہورہے ظلم پر تومچل جاتا ہے لیکن مہاراشٹر میں ہی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کررہا ہو تو اس پر جوں تک نہیں رینگتی۔
بہار کا مسلمان دین و شریعت بچانے میں لاٹھی ڈنڈے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن جب اسی بہار میں کسی مسلمان کی ہندتوا وادی لنچنگ کردیتے ہیں تو اس کا خون جوش نہیں مارتا۔
اترپردیش کا مسلمان لال ٹوپی پہن کر سلامی مارنا تو فخر سمجھتا ہے لیکن جب کسی رامپوری ٹوپی کی عزت اترتی ہے تو خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
دراصل ہمارے لیڈران کشمیر میں امن کی بحالی کے لئے جنیوا تو چلے جاتے ہیں لیکن معصوم بلکتے بچوں کے قتل عام پر وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھی جمع ہونا توہین سمجھتے ہیں۔
ہمارے لیڈران چار مینار سے نکل کر قطب مینار پر دھرنا دینے تو چلے آتے ہیں لیکن مینار کے کونے میں روزبروز اٹھتی عمارت کو منہدم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ ملت کو لکھنوی بھول بھلیوں کےاندر تو لے جاتے ہیں جو ایک دروازے سے دوسرے دروازے کا سفر طے کراتا رہے لیکن اس راستے کی طرف رہنمائی نہیں کرتے جو قلعے سے باہر نکالتاہو۔
چونکہ اس وقت ہندوستان میںاسلام کاروباریوں کے حصار میں ایسا گرفتار ہوگیا ہےکہ اقراری اور انکاری دونوں اس سے مستفید ہورہے ہیں۔
اقراری جبہ و دستار کے حصار میں استفادہ کررہا ہے جبکہ انکاری جبہ ودستار کے اشتراک سے استفادہ کررہا ہے ۔
پریشان تو وہ لوگ ہیں جو اسلام کے پرستار ہیں لہذا انہیں نہ انکاری پسند کررہے ہیں اور نہ ہی اقراری ۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ،آپ اقراری بننا چاہتے ہیں یا انکاریوں کےساتھ صف بستہ ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ فائدہ دونوں جانب ہے۔
لیکن اگر غلطی سے آپ پرستاران مصطفیﷺ ہیں تو یاد رکھیں موجودہ دور میں آپ کا شکوہ کرنا بھی اقراری و انکاریوں کو پریشان کرسکتا ہے۔کیونکہ ان کے پاس علامہ اقبال کا بہترین شعر ہے
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

Dailyhunt

مزید پڑھیں
News18 اردو

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول
  • 1hr
  • 0 views
  • 1 shares

دوحہ : قطر میں فیفا عرب کپ 2021 کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جبکہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کو صرف ایک سال کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے ۔ فیفا عرب کپ کے ایک میچ میں قطر نے بحرین کو ایک صفر سے ہرادیا جبکہ ایک دوسرے میچ میں تیونیسا نے موریطانیہ کو پانچ ایک سے شکست دی ۔ وہیں ایک دیگر مقابلہ میں عراق اور عمان کے درمیان میچ ایک ایک سے ڈرا پر ختم ہوا ۔

ٹورنامنٹ میں کتنی ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ۔

فیفا عرب کپ 2021 میں کل سولہ ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ، جن کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

گروپ اے : قطر ، عراق ، عمان ، بحرین

گروپ بی : تیونیسیا ، متحدہ عرب امارات ، شام ، موریطانیہ

گروپ سی : مراقش ، سعودی عربیہ ، جورڈن اور فلسطین

گروپ ڈی : الجیریا ، مصرف ، لبنان اور سوڈان



ٹورنامنٹ کا فارمیٹ کیا ہے ؟

ہر ایک ٹیم تین گروپ میچیز کھیلے گی اور ہر گروپ سے ٹاپ کی دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جائیں گی ۔ کوارٹر فائنل کے میچیز دس اور گیارہ دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کوارٹر فائنل کی چار فاتح ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی ، جہاں سے دو ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی ۔ سیمی فائنل کے میچیز 18 دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کن کن اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے میچیز

ٹورنامنٹ کے سبھی میچیز ملک کے چھ اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے ۔ ان میں سے چار اسٹیڈیمس ایسے ہیں ، جہاں پہلے بھی فٹ بال کے میچ کھیلے جاچکے ہیں ۔ راس ابو عبید اسٹیڈیم اور البیت اسٹیڈیم میں افتتاحی میچ کھیلے گئے ۔


قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection