Thursday, 21 Jan, 11.10 pm Qaumi Awaz

صفحہ اول
کسان تحریک: 22 جنوری کی میٹنگ سے قبل نریندر تومر کی امت شاہ سے ہوئی ملاقات بہت اہم

22 جنوری کی میٹنگ سے قبل نریندر تومر کی امت شاہ سے ہوئی ملاقات بہت اہم

جیسے ہی سنیوکت کسان مورچہ نے مودی حکومت کے ذریعہ قانون پر عارضی روک سے متعلق پیش کردہ تجویز کو مسترد کیا، مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے ان کی رہائش پر پہنچ گئے۔ چونکہ 22 جنوری کو مرکزی وزراء کی کسان لیڈروں کے ساتھ میٹنگ ہونی ہے، اس لیے تومر اور امت شاہ کی ملاقات کو بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

امت شاہ سے ملاقات کرنے پہنچے مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر

ایک طرف کسان لیڈروں نے آپس میں میٹنگ کر کے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ قانون پر عارضی روک کی تجویز کو منظور نہیں کریں گے، وہیں دوسری طرف مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر بوقت شب امت شاہ سے ملاقات کرنے ان کی رہائش پہنچ گئے ہیں۔

کسانوں نے مودی حکومت کو دیا جھٹکا، زرعی قوانین پر ڈیڑھ سال کی روک نامنظور!

نئے زرعی قوانین کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کی تجویز کو کسان تنظیموں نے آج دیر شام خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مودی حکومت کے لیے زبردست جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اس بات کو لے کر پرامید تھے کہ کسان تنظیمیں مثبت فیصلہ لیں گی۔ سنیوکت کسان مورچہ نے کسان تنظیموں کی ہوئی میٹنگ کے بعد دیر شام بیان جاری کیا جس میں کہا کہ تینوں زرعی قوانین پوری طرح سے رد کیے جانے چاہئیں۔ سنیوکت کسان مورچہ کے ذریعہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجویز کو خارج کرتے ہوئے تینوں قوانین کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ ایم ایس پی پر قانون بنانے کے مطالبہ کو بھی دہرایا گیا۔ ساتھ ہی کسان مورچہ نے اعلان بھی کر دیا کہ 26 جنوری کو رِنگ روڈ پر ہی ٹریکٹر پریڈ کریں گے۔

پی ایم مودی کسانوں کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں: جینت چودھری

آر ایل ڈی لیڈر جینت چودھری نے آج زرعی قوانین سے متعلق مودی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ''مودی حکومت کسانوں کے خلاف سازش تیار کر رہی ہے۔ پی ایم مودی کسانوں کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسان تحریک کے 58 دن ہو چکے ہیں اور 75-70 کسانوں کے شہید ہونے کے بعد بھی زرعی قوانین پر حکومت کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔''

روز نئے جملے اور ظلم بند کرو، سیدھے سیدھے زراعت مخالف قانون رد کرو: راہل

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو زرعی قوانین سے متعلق تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے بار بار کسانوں کی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہونے اور نئی تاریخ دیے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے آج ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ''روز نئے جملے اور ظلم بند کرو، سیدھے سیدھے زراعت مخالف قانون رد کرو۔'' اس ٹوئٹ کے ساتھ ایک خبر بھی انھوں نے لنک کیا ہے جس میں 20 جنوری کو مودی حکومت اور کسان لیڈروں کے درمیان ہوئی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہونے اور آئندہ میٹنگ 22 جنوری کو طے کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی کمیٹی اور 10 کسان تنظیموں کے درمیان میٹنگ ختم

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے زرعی اصلاحاتی قوانین کی بابت تشکیل کمیٹی کی جمعرات کے روز یہاں میٹنگ ہوئی جس میں 10 کسان تنظیموں نے حصہ لیا اور قوانین کے بہتر ڈھنگ سے عمل درآمد کے لیے اپنے مشورے دیے۔ میٹنگ میں کمیٹی کے رکن انل گھنوت، اشوک گلاٹی اور پرمود جوشی نے حصہ لیا۔ کمیٹی کے چوتھے رکن بھوپیندر سنگھ مان پہلے ہی اس کمیٹی سے خود کو الگ کر چکے ہیں۔ کمیٹی کی پریس ریلیز کے مطابق مذاکرے میں کرناٹک، کیرالا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ، تلنگانہ، تملناڈو اور اترپردیش کی کسان تنظیموں نے حصہ لیا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ جن کسان تنظیموں کے ساتھ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، ان میں وہ کسان تنظیمیں شامل نہیں ہیں جو دہلی کی سرحدوں پر قانون واپسی اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔

اتراکھنڈ کے ایک گاؤں میں بی جے پی لیڈران و کارکنان کا داخلہ ممنوع، کسانوں نے لگایا بورڈ

زرعی قوانین کی مخالفت پورے ملک میں تیز ہوتی جا رہی ہے اور بی جے پی وزراء و لیڈران کے خلاف کسانوں کا غصہ بھی دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ اتراکھنڈ کے ملپوری گاؤں میں کسانوں کا غصہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ انھوں نے گاؤں میں بی جے پی لیڈروں کا داخلہ ہی ممنوع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کسانوں نے گاؤں کے باہر ایک بورڈ بھی لگایا ہے جس میں لکھا ہے''کسان مخالف بی جے پی کارکنان و لیڈران کا اس گاؤں میں آنا سخت منع ہے۔ اگر گاؤں میں آتے ہیں تو اپنی حفاظت کے لیے خود ذمہ دار ہوں گے۔'' بورڈ میں نیچے لکھا گیا ہے ''بحکم: ملپوری گرام پنچایت منورتھ پور پرتھم''۔

کسانوں اور پولیس کے مابین ملاقات ختم، نہیں ملی ٹریکٹر مارچ کی اجازت

یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس اور کسانوں کے مابین چل رہی ملاقات ختم ہوگئی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں دہلی میں داخل ہونے سے انکار کردیا ہے، جبکہ کسان دہلی میں ریلی نکالنا چاہتے ہیں۔ پولیس نے کے ایم پی ایکسپریس وے پر ایک چھوٹی سی ریلی نکالنے کے لئے کسانوں کو متبادل پیش کیا تھا جسے کسانوں نے مسترد کردیا۔

دہلی پولیس اور کسانوں کے مابین میٹنگ جاری

یومِ جمہوریہ پر ٹریکٹر ریلی نکانے کے حوالہ سے کسان لیڈران اور دہلی پولیس کے مابین میٹنگ شرع ہو گئی ہے۔ گزشتہ دو میٹنگوں میں کوئی راستہ نہیں نکل پایا تھا، امید ہے کہ اس مرتبہ کوئی حل ضرور نکل جائے گا۔

یومِ جمہوریہ کی کسان ریلی، کسانوں اور دہلی پولیس کے درمیان میٹنگ

یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی مجوزہ ٹریکٹر ریلی پر دہلی پولیس اور کسانوں کی میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ کسان باہری رنگ روڈ پر ریلی نکالنا چاہتے ہیں لیکن پولیس ٹریفک کا حوالہ دے کر اسے روکنا چاہتی ہے۔ دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر ایس ایس یادو سنگھو بارڈر کے پاس واقع ایک ریزارڈ میں کسانوں سے بات چیت کے لئے پہنچ چکے ہیں۔

زرعی قوانین معطل کرنے کی تجویز اور ٹریکٹر ریلی پر حتمی فیصلہ آج متوقع

تینوں زرعی قوانین پر مرکزی حکومت نے بدھ کے روز اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھایا۔ دسویں دور کی میٹنگ کے دوران حکومت نے زرعی قوانین کو ڈیڑھ سال تک معطل رکھنے کی تجویز پیش کی۔ اس پر کسان لیڈران نے غور و خوض کر کے فیصلہ لینے کا کہا۔ 22 جنوری کو ہونے والی بات چیت کے دوران کسان لیڈران حکومت کو اپنے روخ سے آگاہ کریں گے۔ وزیر زراعت نریندر تومر کو امید ہے کہ اگلی میٹنگ میں کوئی حل ضرور نکل جائے گا۔

دریں اثنا، کسانوں نے کہا ہے کہ وہ 26 جنوری کو ٹریکٹر ریلی ضرور نکالیں گے۔ اس کے خلاف مرکزی حکومت کی جانب سے دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی تھی۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹریکٹر ریلی یا کسی طرح کے مظاہرے کے خلاف حکومت کی عرضی پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس پر پولیس کو فیصلہ لینے دیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Qaumiawaz urdu
Top