Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

سابرمتی آشرم تنازعہ: باپو کے نواسہ تشار گاندھی کی عرضی پر عدالت میں سماعت جلد ممکن

سابرمتی آشرم تنازعہ: باپو کے نواسہ تشار گاندھی کی عرضی پر عدالت میں سماعت جلد ممکن
  • 86d
  • 0 views
  • 0 shares

احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ یہاں رن نیپ علاقہ میں واقع تاریخی سابرمتی آشرم کی مبینہ طور پر شکل و صورت تبدیل کرنے کے ریاستی حکومت کے منصوبہ کے خلاف درج مہاتما گاندھی کے نواسہ تشار گاندھی کی مفا دعامہ کی عرضی پر آئندہ دنوں میں سماعت کرسکتی ہے۔ باپو 1917 سے لے کر 1930 میں نمک ستیہ گرہ والی دنیا کی مشہور ڈانڈی یاترا تک سابر متی ندی کے کنارے پر واقع اس آشرم میں رہے تھے اور ان دنوں میں یہ جدوجہد آزادی کی حکمت عملی کا اہم مرکز تھا۔

ڈرگس کیس: بالآخر آرین خان کو مل گئی ضمانت، 26 دن بعد آئیں گے جیل سے باہر

مہاتما گاندھی کے تیسرے بیٹے آنجہانی منی لال گاندھی کے نواسہ تشار گاندھی نے عدالت میں بدھ کو مفاد عامہ کی عرضی دائر کی جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے آشرم کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور موجودہ وقت میں اس پر ایک ہزار کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کرنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کے اندازہ 1200 کروڑ روپے کی لاگت والے گاندھی آشرم میموریل اور پریسنکٹ ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت آشرم اور اس کے آس پاس کی 48 ورثہ کی یادگاروں کو جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ کانگریس پارٹی اور کئی گاندھیائی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اگر سمیر وانکھیڈے ہندو ہوتے تو ان سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرتا، سمیر کے پہلے سسر کا بیان

تشار گاندھی کی دلیل ہے کہ یہ پروجیکٹ باپو کے درشن کے خلاف ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے علاوہ آشرم اور گاندھیائی سرگرمیوں کا آپریشن کرنے والے نصف درجن سے زیادہ ٹرسٹوں اور احمد آباد میونسپل کاپوریشن کو بھی مدعا علیہ بنایا ہے۔ ان کی یہ بھی دلیل ہے کہ حکومت کو آشرم کی سرگرمیوں میں دخل نہیں دینا چاہئے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

انتخابات کے وقت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کو رشوت قرار دیا جائے

انتخابات کے وقت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کو رشوت قرار دیا جائے
  • 1hr
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی :کسی بھی انتخاب سے پہلے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے امیدواروں کے ذریعہ مفت تحائف کی تقسیم یا پھر تحائف کے لیے وعدہ کرنا عام بات ہے۔ لیکن ایک ایسی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے جس میں مفت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کرنے پر سیاسی پارٹیوں کی مسئلہ حیثیت ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ درخواست گذار نے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں سرکاری فنڈ کا استعمال کر کے انتخاب سے قبل ووٹروں کو تحفے دیتے ہیں یا تحفہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کو متاثر کرتا ہے۔سپریم کورٹ میں درخواست گذار اشونی اپادھیائے نے عرضی داخل کر کے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فریق بنایا ہے اور عرضی میں کہا گیا ہے کہ عوامی فنڈ سے انتخاب سے قبل ووٹروں کو لبھانے کے لیے مفت تحائف دینے کا وعدہ کرنا یا مفت تحائف کی تقسیم مناسب نہیں۔ اس سے انتخابی عمل آلودہ ہو جاتا ہے۔ درخواست گذار نے یہ بھی کہا کہ اس سے انتخابی میدان میں یکساں مواقع کے اصول بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ مفت تحائف کی تقسیم یا تقسیم کرنے کا وعدہ ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش ہے اور یہ ایک طرح کی رشوت ہے۔ درخواست گذار نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کچھ مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں شرومنی اکالی دل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 18 سال سے اوپر کی خواتین کو 2000 روپے فی ماہ دے گی، وہیں عام آدمی پارٹی نے ایک ہزار روپے فی ماہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کانگریس نے خواتین کو 2000 روپے فی ماہ دینے کے ساتھ ساتھ سال میں 8 سلنڈر بھی گھریلو خواتین کو دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ 12ویں پاس لڑکی کو 20 ہزار روپے، 10ویں پاس لڑکی کو 10 ہزار روپے دیئے جائیں گے اور کالج جانے والی لڑکی کو اسکوٹی دی جائے گی۔ علاوہ ازیں یوپی میں کانگریس نے وعدہ کیا ہے کہ 12ویں میں پڑھنے والی لڑکیوں کو اسمارٹ فون اور کالج جانے والی لڑکیوں کو اسکوٹی دی جائے گی۔ سماجوادی پارٹی نے وعدہ کیا کہ خواتین کو 1500 روپے پنشن اور ہر خاندان کو 300 یونٹ ماہانہ بجلی مفت دی جائے گی۔ درخواست گذار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح سے کیے گئے مفت تحائف کے وعدے کو رشوت کے درجہ میں تصور کیا جائے کیونکہ اس سے ووٹر متاثر ہوتے ہیں۔ انتخابی کمیشن کو ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سیاسی پارٹیاں اس طرح کے مفت تحائف کے وعدے نہ کریں یا مفت تحائف تقسیم نہ کریں۔ درخواست گذار نے سپریم کورٹ سے گزارش کی ہے کہ مفت تحائف تقسیم کیے جانے کو شق۔14 کی خلاف ورزی مانا جائے۔ اسے رشوت قرار دیا جائے اور تعزیرات ہند کی دفعہ 171 بی اور سی کے تحت جرم مانا جائے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

مودی سرکار شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت میں ناکام

مودی سرکار شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت میں ناکام
  • 1hr
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی ۔ مودی سرکار اپنے شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت بھی نہ کر سکی اور ہزاروں ہندوستانی شہریوں کا ڈیٹا آن لائن لیک ہو گیا۔ ڈیٹا میں مریضوں کے کے نام، موبائل نمبر، پتے اور کورونا ٹسٹ کے نتیجے شامل ہیں۔لیک ہونے والے ڈیٹا کو ریڈ فورمز کی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے رکھا گیا ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection