qindeel
qindeel

جامعہ نے تحریکِ آزادی ہی نہیں بلکہ تصورِ قومیت کو بھی ابھارا: پروفیسر انور پاشا

جامعہ نے تحریکِ آزادی ہی نہیں بلکہ تصورِ قومیت کو بھی ابھارا: پروفیسر انور پاشا
  • 37d
  • 0 views
  • 0 shares

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلایہ کے زیر اہتمام آزادی کے امرت مہوتسو کے موقعے پر آن لائن مذاکرے کا انعقاد

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے نہ صرف تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے، بلکہ قومیت کے اس جدید تصور کو تقویت بخشی جس کے بنا پر ہندوستان کا شمار آج دنیا کی بڑی اور مستحکم جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریۂ ہندوستان اور تصور قومیت کو ٹھوس علمی بنیادیں فراہم کیں۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام آزادی کے مہوتسو کے موقعے پر ''تحریک آزادی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو'' کے زیر عنوان آن لائن مذاکرے میں جے این یو کے استاذ پروفیسر انور پاشا نے کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ معروف محقق اور نقاد پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے کہا کہ آزادی کے تصور کا جو خمیر ہے، اس کو ہم جامعہ میں چلتی پھرتی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ جامعہ نے تعلیم کے میدان میں جس طرح ذہن سازی کی ہے اصل میں جامعہ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے۔ صدر شعبہ پروفیسر شہزاد انجم نے صدارتی خطاب میں کہا کہ آزادی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو ایک ایسا مثلث ہے جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔تحریک حریت اور جامعہ ملیہ دونوں کو اردو زبان و ادب میں قوت و استحکام عطا کیا۔ صدر شعبۂ اردو، اودے پور پروفیسر حدیث انصاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ بہت سی پریشانیوں سے گزرا، لیکن آج ہر میدان میں اپنی شناخت قائم کرچکا ہے۔ بانیان جامعہ ماہرین تعلیم ہی نہیں بلکہ مجاہدین آزدی بھی تھے۔ شعبۂ اردو ، دہلی یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر ابوبکر عباد نے مذاکرے میں گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستان کے دو ادارے جن کا براہ راست تعلق تحریک آزادی اور اردو سے رہا ہے دارلعلوم دیوبند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ہیں۔ جامعہ کے تمام بانیان صاحب تصنیف تھے اور ان کے بغیر اردو کی تاریخ ناقص ہے۔ صدر شعبۂ اردو ، مولانا آزاد کالج کولکاتا ڈاکٹر دبیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ میں جامعہ نے جو کردار ادا کیا ہے اگر ہم چند ابتدائی ناموں پر غور کریں تو ان سب کا تعلق بنیادی طور پر کہیں نہ کہیں اردو سے ہی ہے۔ مذاکرے کی نظامت کے فرائض کنوینر پروگرام ڈاکٹر شاہ عالم نے انجام دیے۔ جلسے کا آغاز شعبے کے طالب علم حافظ عبدالرحمن کی تلاوت اور اختتام شعبے کے استاد ڈاکٹر مشیر احمد کے اظہار تشکر پر ہوا۔ مذاکرے میں پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر محمدمقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاویدحسن، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر ثاقب عمران ، ڈاکٹر روبینہ شاہین زبیری اور ڈاکٹر آس محمد صدیقی کے علاوہ بڑی تعداد میں شعبے کے ریسرچ اسکالر اور طلبا و طالبات شریک ہوئے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Taasir Urdu Daily
Taasir Urdu Daily

ایم پی میں 10 نئے کورونا کیس ملے، سب سے زیادہ بھوپال میں 5 کیس

ایم پی میں 10 نئے کورونا کیس ملے، سب سے زیادہ بھوپال میں 5 کیس
  • 19m
  • 0 views
  • 0 shares

بھوپال، 5 دسمبر۔ مدھیہ پردیش میں کورونا کے کیس مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں دس نئے پازیٹو ملے ہیں۔ مسلسل 8ویں دن سب سے زیادہ 5 کورونا کیس بھوپال میں سامنے ا?ئے ہیں۔ اندور، جبلپور، انوپ پور، کٹنی، شہڈول میں 1-1 پازیٹو ملا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ریاست میں ایک دن میں 18 مریض شفایاب ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فعال مریضوں کی تعداد گھٹ کر 134 ہوگئی ہے۔

ریاست میں 17 دن میں 255 کورونا پازیٹو مل چکے ہیں۔ روزانہ اوسط 15 مریض مل رہے ہیں۔ ان 16 دنوں میں سب سے زیادہ مثبت بھوپال میں 115 ا?ئے ہیں۔ یہاں روز اوسطاً سات کیس ا?رہے ہیں۔ جمعہ کو بھوپال میں 12 کیس ا?ئے تھے۔ وہیں اندور میں 17 دن میں 86 متاثرین مل چکے ہیں۔ ریاست میں اب تک 7 لاکھ 93 ہزار 233 مثبت مل چکے ہیں۔ ان میں سے 7 لاکھ 82 ہزار 571 مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اب تک 10 ہزار 528 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جمعہ کو 18 مریض شفایاب ہوئے۔ ریاست میں ریکوری شرح 98 فیصد سے زیادہ ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection