Tuesday, 12 Nov, 1.52 pm صدا ٹوڈے

ہندستان
عورت اور اس پربے قاعدگی وجود کا الزام

صدیوں سے عورت عصمت دری، دھوکے، توہین، تذلیل اور زد و کوب ہونے کی شکار ہے- مرد کی جابرانہ ثقافت کے تحت یہ عورت کے کچھ افسوس ناک احوال ہیں- آمرانہ ثقافت جس نے عورت کی حیثیت کو زہر اور اسے ادنیٰ اور حقیر درجہ دے دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ زمانے نے اُسے ہمیشہ ناچیز اور کمزورسمجھا ہے اور ہمیشہ مرد کی تابعداری اور اس کی رضامندی کے لئے اُسےاس کا وجود سماج میں کمتر دکھا کر پیش کیا جاتا ہے-

عام طور پرسماج میں عورت کی زندگی اور اُس کی سوچ کی آزادی پر پابندی عائد ہوتی ہے- اس کی اندرونی جوہر کے کھلنے پر روک لگادیتی ہے-عورت کا ہمیشہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ میری حیثیت کیا ہے؟! اس ابدی سوال نے معاشرے اور داناؤں کا ہمیشہ سامنا کیا-

اس دنیا کے بعض فلسفیوں اور مفکروں نے عورت کی حیثیت کو اپنے اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے- کسی نے اس کے حقوق کی حمایت کی ہے توکسی نے اس کی عزت کا مذاق اڑایا ہے- افلاطون اس سوچ کی طرف مائل تھا کہ عورت سب سے اعلیٰ عہدے پر ہونی چاہیے یا اس کا مرتبہ بلند ہونا چاہیے۔ وہیں ارسطو نے یقین دلایا کہ فلسفہ اور سیاست میں عورتوں کی کوئی کنجائش اور مقام نہیں ہے- روسو نے بھی انسانی مساوات کے نظریے کو مانا تھا لیکن ارسطو سے متفق تھا کہ ممالک اور تاریخ کے متعلق انسانی امور در اصل مردوں کا کام ہے- فرائڈ مانتا تھا کہ ذہنی طور پر عورت مرد سے کم ہے-

اب تک عورت کی حیثیت کے بارے میں یہ سوال زیر بحث ہے- اگرچہ آج کے نئے دور میں عورت پیشہ ورانہ زندگی تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اب بھی ظلم وستم، اذیت ، سماجی رسم و رواج ، خاندانی وقاراور مرد کے تسلط کی ثقافت، اب بھی ہر سماج میں عورت کا پیچھا کر رہی ہے-

تاریخی طور پر اور ورثے میں ہزاروں کہانیاں ایسی پائی جاتی ہیں جو عورت کی ایسی تصویر پیش کرتی ہیں ۔جس میں دکھایا جاتا ہے کہ عورت مکاری، دھوکے اور فریب کی علامت ہے- قرآن کریم میں سورہء یوسف میں ذکر کیا گیا ہے کہ "ان کیدھن عظیم" یعنی ان کی مکاری مضبوط ہے- ہم نے اس بات کو محسوس کيا ہے کہ ہمیشہ مرد کہا کرتا ہے کہ وضاحت کرے تاکہ عورت کو نہ صرف مکاری کی بلکہ مضبوط مکاری کا الزام لگ سکے۔

یہ جملہ نہ ہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور نہ ہی اللہ سے ایک عام الزام تمام عورتوں پر ہے- در اصل یہ قول یوسف علیہ السلام کے آقا "عزیز مصر" کا ہے- جب انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ یوسف علیہ السلام کا واقعہ دیکھا اور سنا- عزیز مصر کی بیوی " زلیخہ" کی نظریں اور چاہت یوسف علیہ السلام پر تھیں- یوسف علیہ السلام نے اپنے آقا کی بیوی سے جنسی تعلقات قائم کرنے سے انکار کیا اور اس سے جان چھڑا کر بھاگ گئے- اور جب عزیز مصر نے یوسف علیہ السلام کا ثبوت اور زلیخہ کا دھوکا دیکھا تو انہوں نے یہ قول کیا-

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرد ہمیشہ اس قول کا استعمال کرتا ہے اور یہ بات کسی قسم کی گہری خواہش اور مرد کے بارے میں دنیا کی عکاسی کرتی ہے جو عورت کو ہمیشہ نشانہ بناتی ہے-

ساتھ ہی عورت پر الزام لگانے کے خیالات بھی اسی طرح ہے جیسے پہلے گناہ کی ذمّہ داری حوا پر لگانا ہے ۔ یعنی گناہ کی شروعات تو عورت نے ہی کی ہے۔جس طرح حوا نے اپنی مکاری سے آدم علیہ السلام کو بہکایا اور اس کی وجہ سے انہوں نے خدا کا حکم نہ مانا پھر وہ دونوں آسمان سے زمین پر گر گئے- اس طرح آج کی عورت کرتی ہے- وہ مرد کی زندگی کو خراب کرتی ہے اور پھر بدنام ہوتی ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام بیان کرتا ہے کہ آدم علیہ السلام اور حوا نے خدا کی طرف سے عائدہ کردہ پابندی کی نافرمانی کی تھی۔ کیونکہ شیطان نے ان دونوں کو بہکایا تھا اور اس طرح غلطی صرف حوا پر عائد نہیں ہوتی بلکہ دونوں پر اس کی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے- پھر تو دونوں قصور وار تھے- جو عورت کے بارے میں سماجی سوچ کے ڈھانچے کو دکھاتا ہے- جس سے آج بھی عورت سماج میں ایک کمزور اور بے بس سمجھی جاتی ہے۔

اس معاملے میں ہمیں تعلیم یافتہ لوگوں کی رائے کی ضرورت ہے- ثقافتی نظام میں جدت پیدا کرنا چاہیے- عورت کے بارے میں ایسے تصورات تبدیل کرنی چاہیے- وہیں عورت کو بھی اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہیے اور ایک معتبر خاتون بننے کے لئے اپنی قدر کو بڑھانا چاہیے ۔

میرا خیال ہے کہ سماج میں ان غلط تصورات کا مقابلہ کرنے کی ایک کنجی، یہ ہے کہ اچھی تعلیم اور حقیقی علم کو ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ عورت کو ماں، بیوی اور ایک کامیاب خاتون بننے کے لیے اورذمّہ داریاں نبھا نے کے لئے اس کا پہلا قدم تعلیم حاصل کرنا ہے-

اگر ماں اپنی ذمہ داری پوری کرے تو اگلی نسل اور کامیاب ہوگی- اگر عورت شروعات سے اپنے سماج کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے اپنے بچوں کی تیاری کرے، ان کو محض قدرتی پیدوار سے تعلیم یافتہ مخلوقات نہ بنا ئے، ان کو اچھی تعلیم دے، ان میں الہی شریعت اور علم واخلاق میں رفعت پیدا کرے تبھی ان کے بچے آگے چل کر صاحبِ علم اور کامیاب انسان بن پائیں گے- اور اس طرح مردوں کے دل ودماغ میں عورت کو احترام کرنے کا ہنر پیدا ہوگا۔ اور یہ مرد عورت کو محدود نہیں کر کے یا پابندی نہیں لگا کر،سماجی سرگرمیوں سے الگ تھلگ نہیں کریں گے- اُسے نہ روایتی پیشوں میں قید رکھیں گے، نہ اس کی زندگی پر کوئی سختی مسلط کریں گے اور نہ ہی عورت کی کمزوری کا فائدہ اٹھائے گیں ۔

یہاں میں اس بات کی طرف ذہن کو متوجہ کرنا چاہتی ہوں کہ عورت اب اتنا ظلم وجبر کب تک اور کیوں برداشت کرتی رہے گی- آخر اس کا قصور کیا ہے- اگرچہ اب عورت مرد کے شانہ بہ شانہ سرگرم عمل ہے اور اپنے حقوق حاصل کرنے میں اور سماج میں اپنی تشخص قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے- پھر بھی مرد کی ذہنیت میں احساسِ کمتری ،دھوکے اور کے الزام تراشی عام طور پر پایا جاتا ہے- کیوں زمانہ عورت کے اندر چھپی ہوئی تخلیقیت کو سمجھنے کے بجائے اسے بہ حیثیت کمزور فرد سمجھا ہے-

مختصر یہ کہ اس کائنات میں اگر خوبصورتی ہے تو وجودِ عورت سے ہے-جس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔

عورت نصفِ انسانیت ہے- اگر مرد کے لئے اس کی مردانگی باعث شرف ہے تو عورت کے لئے اس کی نسوانیت باعث عار نہیں ہے- اس لئے عورت کو احساسِ کمتری سے نجات ملے، اس میں بھی احساسِ برتری کا احساس ہو۔ اس کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر ہونا کا موقعہ دیا جائے۔ تاکہ وہ خود کو ایک کامیاب انسان بنا سکے اور بلا خوف سماج میں عزت کی زندگی سکون سے گزارے- اس میں حالات سے مقابلہ کر نے کی ہمت ہو تا کہ وہ ایک نیا اعتماد اور نئے چیلنج کے ساتھ غلط تصورات کے خلاف اپنی آواز بلند کرے-

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی

لکچرر اردو ڈپارٹمنٹفیکلٹی آف آرٹسعین شمس یونیورسٹی

قاہرہ -مصر

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: SADA TODAY
Top