Taasir Urdu Daily
Taasir Urdu Daily

'آشرم-3' شوٹنگ سے قبل ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا لازمی

'آشرم-3' شوٹنگ سے قبل ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا لازمی
  • 38d
  • 0 views
  • 0 shares

بھوپال،۲۸؍اکتوبر- ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں جاری ویب سیریز 'آشرم-3' کی شوٹنگ کے اسکرپٹ کے حوالے سے ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت حرکت میں آ گئی۔ حکومت شوٹنگ کے بارے میں نئی گائیڈلائن جاری کرے گی اور فلم کی شوٹنگ سے قبل ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا ہوگا۔ فلمساز و ہدایت کار پرکاش جھا کی ویب سیریز آشرم-3 کی شوٹنگ کے بعد ریاست کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ آشرم-3 کی شوٹنگ کے تنازع کے بعد ہم ایک مستقل گائیڈ لائن جاری کرنے والے ہیں۔ اگر قابل اعتراض کوئی سین ہے، کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مناظر ہیں، تو وہ اسٹوری پہلے ایڈمنسٹریشن کو دیں۔نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ اب شوٹنگ سے پہلے ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا ہوگااور اس پر اجازت ملنے کے بعد ہی شوٹنگ کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے میڈیا سیل کے ریاستی انچارج لوکیندر پراشر نے ٹوئٹ کر فلم کی اسکرپٹ اور نام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاتون کے استحصال کی جگہ کا نام 'آشرم' ہی کیوں؟ افغانستان کیوں نہیں؟قابل ذکر ہے کہ 'آشرم' ویب سیریز کے بارے میںبی جے پی کے کئی لیڈروں نے تلخ رد عمل پہلے بھی ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی رامیشور شرما نے ٹوئٹ کر کہا کہ آشرم پر ویب سیریز بنانے والے کیا کبھی مدارس پر ویب سیریز بنانے کی اوقات رکھتے ہیں؟واضح رہے کہ ویب سیریز آشرم-3 کا اسکرپٹ اور کچھ مناظر کے حوالے سے اتوارکو بھوپال میں ہنگامہ ہوا۔ بجرنگ دل کارکنوں نے پرانی جیل میں جاری شوٹنگ کی نہ صرف مخالفت کی تھی، بلکہ توڑ پھوڑ اور پتھر اؤ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد سے ویب سیریز کے بارے میں تنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

متھرا میں تناؤ، انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کئے

متھرا میں تناؤ، انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کئے
  • 18m
  • 0 views
  • 0 shares

کئی سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے دیئے گئے الٹیمیٹم کے بعد متھرا کی مقامی انتظامیہ نے کٹرا کیشو دیو علاقہ میں تین لیئر کی سیکورٹی کا انتظام کیا ہے۔ واضح رہے یہ وہی علاقہ ہے جہا ں متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کو لے کر ہندو تنطیموں نے تنازعہ کھڑا کیا ہوا ہے۔

بابری مسجد شہادت کی 29ویں برسی، مظلومین کو ابھی بھی انصاف کا انتظار

واضح رہے رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازعہ کے دور میں بھی متھرا میں کبھی حالات نہیں بگڑے لیکن اس مرتبہ سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے شہر میں تناؤ ہے۔ سخت گیر ہندو تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہندو روایات کے مطابق اس جگہ پر پوجا کریں گے۔

واضح رہے شہر کو جوڑنے والے ہر نیشنل ہائی وے پر پولیس بیریکیڈنگ کر دی گئی ہے اور مندر-مسجد کے پیچھے سے گزرنے والے ریلوے ٹریک کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور متھرا ورنداون آنے والی دو ٹرینیں بھی یارڈ میں رکیں گی۔ یہاں پر دفعہ 144 کو لگا دیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی و ڈرون کے ذریعہ نگرانی کی جا رہی ہے۔

متھرا میں چار سخت گیر ہندو تنظیمیں جن میں کل ہند ہندو مہاسبھا، شری کرشن جنم بھومی نرمان نیاس، نرائنی سینا اور شری کرشن مکتی دل شامل ہیں، انہوں نے ابھی کچھ دن پہلے یہاں پر ہندو ریتی رواجوں کے مطابق لڈو گوپال کی مورتی قائم کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ ان تنظیموں کا دعوی ہے کہ جس جگہ پر مسجد ہے وہیں پر شری کرشن کی پیدائش ہوئی تھی۔

مہاراشٹر میں 7 مزید اومیکرون کیسز رپورٹ ہوئے، راجستھان میں 9 کا پتہ چلا

پولیس نے احتیاط کے طور ہر چار دسمبر کو ہندو مہاسبھا کی ضلع صدر چھایا ورما اور رہنما رشی بھاردواج کو گرفتار کر لیا تھا۔ شائع خبروں کے مطابق نرائنی سینا نے اپنے کارکنان کو نظر بند کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر سلامتی دستوں کی بڑی تعداد میں تعیناتی کے باوجود علاقہ کے مسلمانوں کو تشویش ہے۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس معاملہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شاہی عید گاہ میں آنے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection