Taasir Urdu Daily
Taasir Urdu Daily

ماسک ہی کووڈ سے تحفظ کا واحد ذریعہ: تحقیق

ماسک ہی کووڈ سے تحفظ کا واحد ذریعہ: تحقیق
  • 92d
  • 1 shares

لندن،28اکتوبر۔ گھر سے باہر فیس ماسک یا چہرے کو ڈھانپ کر رہنے والے افراد میں کووڈ۔19 کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے چاہے وہ زیادہ خطرے والی جگہیں ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ یہ بات تو پہلے سے معلوم ہوچکی ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا دیگر افراد کو کووڈ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مگر آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیورہیولم سینٹر فار ڈیموگرافک سائنس کی اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تحقیق میں فیس ماسک کا استعمال کرنے اور گھر سے باہر بیماری کے خطرے میں کمی کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا گیا۔ اس تحقیق کے لیے کووڈ انفیکشن اسٹڈی (سی آئی ایس) کو استعمال کیا گیا جس میں شامل افراد سے مختصر سوالنامے بھروائے گئے اور ان کے مسلسل کووڈ ٹیسٹ بھی ہوئے۔ ان لوگوں سے معلوم کیا گیا کہ وہ گھر سے باہر کتنے وقت تک کام کرتے ہیں، دفاتر میں لوگوں سے سماجی دوری کو برقرار رکھنا کتنا آسان ہوتا ہے، کیا وہ پبلک ٹرانسپورٹ سے دفتر جاتے ہیں اور روزمرہ کی بنیاد پر دیگر سے براہ راست بات چیت ہوتی ہے یا نہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں دسمبر 2020 کے وسط میں گھر سے باہر فیس ماسک کا استعمال کووڈ سے متاثر ہونے کے خطرے میں نمایاں کمی کا باعث دریافت ہوا۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں کووڈ کی شرح زیادہ تھی جو کووڈ- 19 سے تحفظ فراہم کرنے والی احتیاطی تدابیر بشمول فیس ماسک کے استعمال پر عمل نہیں کرتے تھے۔محققین نے بتایا کہ کووڈ سے تحفظ فراہم کرنے والے اقدامات پر عمل نہ کرنا اکثر ذاتی رویوں یا انتخاب کا نتیجہ ہوتا ہے، مگر بہت زیادہ افراد ایسے ہیں جو گھر یا دفتری صورتحال کے باعث احتیاطی تدابیر جیسے سماجی دوری سے عمل نہیں کرپاتے، تو ان میں کووڈ سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر اقدامات پر عمل نہ کرنے والے اگر فیس ماسک کا استعمال کریں تو اس خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ گھر سے باہر چہرے کو ڈھانپنے والے افراد میں کووڈ سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے اوپن میں شائع ہوئے۔

مزید پڑھیں
qindeel
qindeel

یوپی الیکشن ؛ مخالفین کے دوستوں سے ہوشیار!-ڈاکٹر عابد الرحمن

یوپی الیکشن ؛ مخالفین کے دوستوں سے ہوشیار!-ڈاکٹر عابد الرحمن
  • 3m
  • 00

شرجیل امام پر الزامات طے کئے جا چکے ہیں ۔شرجیل کو ۲۰۲۰ میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں میں مختلف جگہوں پر بھڑکاؤ بھاشن دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق پولس نے ان پر الزامات عائد کئے ہیں کہ ا نہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعہ ایک مخصوص مذہبی گروہ کو ریاست کے نظریات اور قومی کردار کے خلاف کھڑا کرنا چاہا ، نیز ہائی ویز کو بلاک کرنے کے لئے چکا جام ، سرکاری اور نجی پراپرٹی کو نقصان پہچانے، عام آدمی کو ایذا پہنچانے ، غذا ، پانی اور ضروری سرویسس میں خلل اندازی یا انہیں روکنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور اس پر خوش بھی تھے ۔یہ بھی الزام ہے کہ ان کی تقاریر کی وجہ سے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شمال مغربی دہلی میں تشدد کی وارداتیں ہوئیں ۔ دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کی درخواست ضمانت اور اس کیس سے ڈسچارج کئے جانے کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے پولس کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف ملک سے غداری ، غیر قانونی حرکات روک تھام قانون اور لوگوں میں مذہب کی بنیاد پر پھوٹ ڈالنے کی دفعات کے تحت مقدمہ چلانا طے کیا ہے۔ حالانکہ اسی مقدمہ کی ایک کڑی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریر کے معاملے میں یوپی میں ان پر دائر کئے گئے دیش دروہ کے مقدمہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ پہلے ہی انہیں یہ کہتے ہوئے ضمانت دے چکی ہے کہ انہوں نے تشدد کے لئے بھڑکایااور نہ ہی کسی کو ہتھیار اٹھانے کے لئے کہا ہے ۔ حالانکہ ملک میں اشتعال انگیز تقاریرکوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ پچھلے کچھ سالوں میں تو اتنی اشتعال انگیزتقاریر ہو چکی ہیںجن میں گولی مارو سے لے کر نسل کشی تک کی باتیں ہوئی ہیں لیکن ان اشتعال انگیز تقاریر کے معاملات میں ملک سے غداری کے مقدمات تو کیا کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی شاذ ونادر ہی ہوئی ہے ۔ وجہ یہ رہی کہ اس طرح کی تقاریر مسلمانوں کے خلاف ہوئی ہیں ۔لیکن قانونی کارروائیوں میں مسلم اور غیر مسلم کے نام ہونے والی تفریق اس مضمون کا موضوع نہیں ہے ۔ بلکہ ہم یہاں یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں انہی لوگوں کے خلاف قانون کارروائیاں ہو رہی ہیں جو برسر اقتدار پارٹی کے خلاف ہیں ۔

بر سر اقتدار پارٹی کو جن کی سیاست سے ، جن کی تحریر و تقریر سے خطرہ لاحق ہے یا جو حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملا رہے اور مان کر نہیں دے رہے ہیں یا جنہیں سبق سکھانا ہے یا جن کی ہمت توڑنی ہے، پھر چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں بر سر اقتدار پارٹی کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں، فلمی ستاروں ، سماجی مصلحین ، دانشوروں اور صحافیوں پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیاں بہت بڑھی ہیں ۔ حال ہی میں یوپی میں بی جے پی کے ایم ایل اے اور کابینی وزیر رہے سوامی پرساد موریہ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہوا ہے یہ وارنٹ ان کے خلاف فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے ایک۷ سال پرانے کیس میں جاری کیا گیا ہے ، پچھلے۵ سالوں کے دوران اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ وہ بی جے پی کے ممبراور صوبائی کابینہ میں وزیر تھے لیکن جیسے ہی انہوں نے بی جے پی چھوڑی اگلے دن وارنٹ جاری کردیا گیا ۔ مطلب یہ ہے کہ قانون کا استعمال بر سر اقتدار پارٹی کے مخالفین پر خاص طور سے کیا جا رہا ہے ۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مماثل واقعات میں جن لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جارہی ہے یا اس میں ٹال مٹول ہو رہی ہے یا کوئی ڈھیلی ٖڈھالی یا برائے نام کارروائی ہو رہی ہے تواگر وہ لوگ باقائدہ برسر اقتدار پار ٹی میں شامل نہیں ہیں تو اس کے دوست یا اس کے لئے کام کرنے والے اس کے دانستہ یا نا دانستہ آلۂ کار ، اس کے ایجنٹ یا کسی نہ کسی طور اس کے لئے فائدہ مند ضرور ہیںپھر چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان ۔ ہمیں مسلمانوں پر خاص نظر رکھنی چاہئے کہ ہم میں کے کون ایسے ہیں جو ہماری ہمدردی کے نام سخت ،جارحانہ بلکہ اشتعال انگیز باتیں کرتے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارے کونسے سیاسی اور سماجی لیڈران ہیں کہ جو ہر معاملے میں بر سر اقتدار پارٹی کی پرزور مخالفت کرتے ہیں لیکن دیگر مخالفین کی طرح ان کے خلاف ای ڈی یا انکم ٹیکس کی کوئی ریڈ نہیں ہوتی ۔ ایسے لیڈران کو بھی ہم نے انتہائی باریک بینی سے جانچنا چاہئے کہ جنہیں ہر جگہ جانے اور تقاریر و جلسے کرنے کی اجازت مل جاتی ہے خاص طور سے ایسے وقت میں کہ جب دوسروں کو اس طرح کی اجازت نہیں مل رہی ہو۔ 'یوپی میں مسلمان کسے ووٹ دیں 'کے ضمن میں ہمیں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ کون ہماری ہمدرد ی و مسیحائی کا ڈھونگ رچا کر دراصل ہمارے مخالفین کے لئے کام کررہا ہے یا کس کی وجہ سے ہمارے مخالفین کا کام آسان ہوا جارہا ہے۔ جو لوگ دانستہ ایسا کررہے ہیں انہیں پہلی فرست میں سیاسی سماجی اور مذہبی ہر سطح پر پوری قوت سے مسترد کردینا منزل کی سمت ہمارا پہلا قدم ہونا چاہئے کہ جب تک یہ لوگ مسترد نہیں کئے جاتے سمجھئے ہم جہاں کے تہاں ہی رہیں گے ہمارا سفر شروع ہی نہیں ہوسکے گا۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم میں کے کچھ لوگ خلوص نیت کے ساتھ کام کررہے ہوں لیکن اس کی وجہ سے نا دانستہ طور پر ہمارے مخالفین کا فائدہ ہو رہا ہوتو ایسے لوگوں کو مسترد کئے بغیر بھی ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ جن حلقوں میں ہم فیصلہ کن حالت میں ہیں وہاں ان باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے خاص طور سے ان لوگوں سے تھوڑی بھی غفلت نہیں برتنی چاہئے جو نادانستہ ہی سہی ہمارے ووٹوں کی تقسیم کا باعث ہو سکتے ہوں تاکہ ہماری اکثریت والے علاقوں کی نمائندگی ہمارے مخالفین کے پاس نہ چلی جائے لیکن جن علاقوں میں ہم فیصلہ کن حالت میں نہیں ہیں وہاںان باتوں کا دھیان رکھنا اور بھی زیادہ ضروری ہے تاکہ ہمارا ووٹ متحد طور پر ہمارے کسی منظور نظر کو یا ہمارے کسی مخالف امیدوار یا مخالف پارٹی کے خلاف جائے ۔ یوپی اسمبلی انتخابات میں ہمارا رول نہ صرف وہاں کی نئی حکومت میں ہماری حالت کے متعلق فیصلہ کرے گا بلکہ قومی سیاست کے لئے اپنا رخ متعین کرنے کا سبب بھی بنے گا۔

مزید پڑھیں
Awaz The Voice
Awaz The Voice

بچھڑے بھائی سےملاقات کے لیے سکا خان کو ملا پاکستان کا ویزہ

بچھڑے بھائی سےملاقات کے لیے سکا خان کو ملا پاکستان کا ویزہ
  • 10m
  • 00

بچھڑے بھائی سےملاقات کے لیے سکا خان کو ملا پاکستان کا ویزہ

نئی دہلی : ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے محمد حبیب عرف سکا خان کو بھائی اور اہل خانہ سے ملاقات کے لیے ویزہ جاری کردیا ہے۔یاد رہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تناو نے باہمی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔مگر یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پاکستان کو ایک بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ سکہ خان اور محمد صدیق دونوں سگے بھائی ہیں جو تقسیم برصغیر کے موقع پر 1947 میں بچھڑ گئے تھے۔ دونوں بھائی کچھ عرصہ قبل کرتارپور میں ملے تو ان کی گذشتہ ملاقات کو 74 برس کا طویل عرصہ بیت چکا تھا۔

نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ویزے کا اجرا جمعہ کو کیا گیا ہے۔اس کا مقصد یہی ہے کہ دونوں بھائی برسوں بلکہ دہائیوں کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ سکون سے وقت گزار سکیں۔جن کے کرتار پور میں گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے تصاویر نے دونوں ممالک میں کروڑوں افراد کو جذباتی کردیا تھا۔

پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے سکہ خان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں وہ ویزہ جاری ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں سکہ خان کہہ رہے ہیں کہ 'ویزہ مل گیا، میں بہت خوش ہوں۔ جا کر ملوں گا، شکریہ کہتا ہوں سب کو۔ اس کا شکریہ جس نے مجھے بھائیوں کے پاس بھیج دیا ہے۔

اس سے قبل سکہ خان نے عرب نیوز کو دیے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے میرا گاؤں ہی میرا خاندان ہے۔ اب میں پاکستان جانا چاہتا ہوں اور اپنے بھائی کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان حکومت مجھے ویزہ جاری کر دے گی۔

سکہ خان 1947 میں اپنے والد اور بڑے بھائی سے اس وقت بچھڑ گئے تھے جب ان کے والد اور بھائی کو پھولے والا گاؤں جو بھارت کا حصہ بن گیا تھا کو چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ اس وقت سکہ خان کی عمر صرف دو برس تھی جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے تھے۔ بعد میں ان کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی سکہ خان کے والد کی موت کا سن کر خودکشی کر لی تھی۔

مزید پڑھیں : کیسے ملے دو بچھڑے ہوئے بھائی کرتار پور میں

ہائی کمیشن کے مطابق ویزہ جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سکہ خان اپنے بھائی محمد صدیق اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات کے لیے پاکستان آسکیں۔

مزید پڑھیں

No Internet connection