اعتماد
اعتماد

حیدرآباد:ہیلمٹ کے بجائے خاتون نے پلاسٹک کور پہن لیا۔تصویر وائرل

حیدرآباد:ہیلمٹ کے بجائے خاتون نے پلاسٹک کور پہن لیا۔تصویر وائرل
  • 34d
  • 0 views
  • 5 shares

حیدرآباد28اکتوبر(یواین آئی) شہر حیدرآباد میں ٹووہیلر کی پچھلی نشست پر سوارایک خاتون نے ہیلمٹ کے متبادل کے طورپر پلاسٹک کے کور سے اپنے سر کو ڈھانک لیا۔

اس خاتون کی اس تصویر کو سائبرآباد ٹریفک پولیس نے اپنے ٹوئیٹر پر پوسٹ کیا۔

سائبرآباد ٹریفک پولیس نے ساتھ ہی لکھا'ہیلمٹ سے مکمل سر کو ڈھانکاجاناچاہئے تاہم کور، ہیلمٹ کے طورپر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Awaz The Voice
Awaz The Voice

ہم اگلے چناو میں 300سیٹیں جیتنے کا دعوی نہیں کرسکتے ۔ غلام نبی

  • 9m
  • 0 views
  • 0 shares

ہم اگلے چناو میں 300سیٹیں جیتنے کا دعوی نہیں کرسکتے ۔ غلام نبی

پونچھ : کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ کانگریس اگلے لوک سبھا انتخابات میں 300 سیٹیں جیت لے گی۔

آزاد نے کہا کہ سردیاں ختم ہونے کے فوراً بعد انتخابات ہو سکتے ہیں کیونکہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے علاوہ صرف بی جے پی زیرقیادت حکومت ہی اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے۔

تجربہ کار کانگریس لیڈر نے کہا کہ "میں عوام سے جھوٹے وعدے کرنا اچھا نہیں سمجھتا۔ ہم یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ ہم 300 سیٹوں کے ساتھ مرکز میں اگلی حکومت بنائیں گے اور یہ کریں گے (5 اگست 2019 کے فیصلے کو منسوخ کریں)۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو سردیوں کے اختتام کے فوراً بعد انتخابات کے لیے کھڑے ہونے اور دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مقبول حکومت ہی جموں و کشمیر کے لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کر سکتی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے آرٹیکل 370 پر اپنی خاموشی کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف سپریم کورٹ جہاں معاملہ زیر التوا ہے اور مرکز اسے بحال کر سکتا ہے۔ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا، اس لیے وہ اسے بحال نہیں کرے گی۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ میں اسے واپس لاؤں گا تو یہ جھوٹ ہے۔

انہوں نے تمام جماعتوں سے کہا کہ وہ متحد ہوکر حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ریاست کی بحالی کے بعد ایک ہفتہ کے اندر جموں و کشمیر میں کافی تاخیر سے ہونے والے اسمبلی انتخابات کا اعلان کرے۔

میرے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ اس وقت بے معنی ہے جب ہمارے پاس اپنی زمین اور ملازمتوں کی حفاظت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

آرٹیکل 370 کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کا فیصلہ کب آئے گا لیکن اس وقت تک ہم انتظار نہیں کر سکتے اور یہ نہیں دیکھ سکتے کہ ہماری نوکریاں اور زمین جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس جاتی ہے-

آزاد نے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہانہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ پہلے ہی جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں اور اس لیے حکومت کو اس کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل لانا چاہیے اور اس میں لوگوں کی زمینوں اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے آئینی تحفظات کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

آزاد نے کہا کہ سردیاں ختم ہونے کے فوراً بعد انتخابات ہو سکتے ہیں کیونکہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے علاوہ صرف بی جے پی زیرقیادت حکومت ہی اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے۔ "میں عوام سے جھوٹے وعدے کرنا اچھا نہیں سمجھتا۔ ہم یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ ہم 300 ایم پیز کے ساتھ مرکز میں اگلی حکومت بنائیں گے اور یہ کریں گے (5 اگست 2019 کے فیصلے کو منسوخ کریں)،" تجربہ کار کانگریس لیڈر نے کہا۔

#Tags


Dailyhunt

مزید پڑھیں
Qaumi Awaz
Qaumi Awaz

بہار: مظفرپور میں موتیابند کے آپریشن کے بعد 65 افراد بینائی سے محروم، 15 کی آنکھیں نکالنی پڑی

بہار: مظفرپور میں موتیابند کے آپریشن کے بعد 65 افراد بینائی سے محروم، 15 کی آنکھیں نکالنی پڑی
  • 12m
  • 0 views
  • 0 shares

مظفر پور: بہار کے مظفر پور میں لوگوں کی صحت کے ساتھ زبردست لاپروائی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہاں کے آئی اسپتال میں 22 نومبر کو 65 مریضوں کا موتیا بند کا آپریشن کیا گیا تھا، میڈیا رپورٹ کے مطابق تمام مریض بینائی سے محروم ہو گئے ہیں اور اب تک انفیکشن کے سبب 15 مریضوں میں کی آنکھیں نکالنی پڑیں۔ معاملہ کا انکشاف ہونے کے بعد بہار کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ سول سرجن ڈاکٹر ونے کمار شرما نے اے سی ایم او کی قیادت میں تفتیشی ٹیم کا قیام کر کے تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متاثرہ مریضوں کا علاج ایس کے ایم سی ایچ میں کرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

تیجسوی یادو نے اس معاملہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا، ''ملک کی سب سے بدحال اور فسڈی بہار کے نظام صھت کا ایک نظارہ دیکھئے۔ مظفرپور میں 65 لوگوں کی آکھنوں کا آپریشن کیا گیا، ایک ہی ٹیبل پر سب کا آپریشن، روشنی تو دور کی بات، سبھی کی آنکھیں نکالنی پڑیں۔ وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے وزیر صحت کو عوام سے کوئی لینا دینا نہیں۔''

اطلاعات کے مطابق 22 نومبر کو مظفر پور کے آئی ہسپتال میں 65 لوگوں کا موتیا بند کا آپریشن کیا گیا تھا۔ جس کے بعد بیشتر مریضون کی آنکھوں میں انفیکشن ہو گیا۔ 29 نومبر کو کچھ متاثرہ مریضوں کے رشتہ دار اسپتال پہنچے اور ہنگامہ کرنے لگے، جس کے بعد یہ معاملہ میڈیا کے علم میں آیا۔

اس معاملے پر سول سرجن ڈاکٹر ونے کمار شرما نے بتایا کہ جتنے بھی مریض آ رہے ہیں، ان کے علاج کے لیے ایس کے ایم سی ایچ میں انتظامات کیے گئے ہیں۔ حتمی رپورٹ ابھی نہیں آئی اس لیے کوئی ایک تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔ ڈاکٹر کے مطابق 11 مریضوں کا آپریشن کر کے متاثرہ آنکھ نکال دی گئی ہے۔ جبکہ اس کے بعد مزید 4 مریضوں کی آنکھیں بھی نکال دی گئیں۔

مزید پڑھیں

No Internet connection