اعتماد
اعتماد

حضورآباد کا ضمنی انتخاب۔رقم دینے کا مطالبہ، عوام کا احتجاج

حضورآباد کا ضمنی انتخاب۔رقم دینے کا مطالبہ، عوام کا احتجاج
  • 34d
  • 0 views
  • 1 shares

حیدرآباد28اکتوبر(یواین آئی)تلنگانہ کے حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے سلسلہ میں رقم کی تقسیم کامطالبہ کرتے ہوئے رائے دہندوں نے احتجاج کیا۔ ان احتجاجیوں کا کہنا کہ بعض افراد کو رقم دی گئی تاہم ان کو ہنوز رقم نہیں ملی ہے۔ حضورآبادمنڈل کے کاٹراپلی،رام پور میں عوام نے گرام سرپنچ کے مکان کے سامنے یہ احتجاج کیا۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
بی بی سی اردو
بی بی سی اردو

اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دنیا کا مہنگا ترین اور شام کا دارالحکومت دمشق سستا ترین شہر قرار

اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دنیا کا مہنگا ترین اور شام کا دارالحکومت دمشق سستا ترین شہر قرار
  • 2hr
  • 0 views
  • 0 shares

Reuters اسرائیل کی کرنس کے مضبوط ہونے کی وجہ سے بھی ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے

دنیا بھر میں مال تجارت کی نقل و حمل میں تعطل اور عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے دوران تل ابیب کو دنیا کا مہنگا ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔

اکانومسٹ اٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے سالانہ سروے میں اس سال تل ابیب دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں پیرس کو پیچھے چھوڑتا ہوا گذشتہ سال کے سروے میں پانچوں نمبر سے اس سال پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ پیرس اور سنگاپور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

خانہ جنگی سے متاثرہ ملک شام کا دارالحکومت دمشق اس فہرست میں بدستور دنیا کا سب سے سستا ترین شہر ہونے کی وجہ سے آخری نمبر پر برقرار ہے۔

اس سروے میں دنیا کے 173 ملکوں میں روز مرّہ کی اشیاء کی قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کا ڈالر میں تخمینہ لگا کر ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

ای آئی یو نے اس سال اگست اور ستمبر کے مہینوں میں دنیا بھر کے 173 شہروں مقامی کرنسی میں قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کے اعداد و شمار حاصل کر کے کہا ہے کہ اوسط قیمتوں میں تین اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ گذشتہ پانچ برس میں افراط زر کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

ٹرانسپورٹ یا نقل و حمل پر ہونے والے اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ جن شہروں میں سروے کیا گیا وہاں پیٹرول کی قیمتیں اوسطاً 21 فیصد بڑھیں۔

تل ابیب ای آیی یو کی 'کوسٹ آف لیونگ' یعنی رہنے کے اخراجات کی فہرست میں اس لیے اوّل نمبر پر آ گیا کیونکہ اسرائیل کی کرنسی شیکل ڈالر میں مقابلے میں مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ کم از کم 10 فیصد اشیا، خاص طور پر روز مرّہ کے استعمال اور کھانے پینے کی چیزوں کی جن کا شمار گھروں کے سودوں میں ہوتا ہے مقامی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔

سروے میں تل ابیب شراب اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کے حساب سے دوسرے نمبر پر، ذاتی فلاح و بہود میں پانچویں نمبر پر اور تفریحی سہولیات کے نرخوں کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھیے

'جب نوٹ چھاپیں گے تو افراطِ زر تو بڑھے گا'

تل ابیب کے میئر نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو میں خبردار کیا کہ جائیداد یا گھروں کی قیمتیں جو ای آئی یو کے سروے میں شامل نہیں ہوتیں اس کے لحاظ سے تل ابیب انتہائی مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ اب 'پھٹنے کے قریب' ہے۔

'تل ابیب اور زیادہ مہنگا ہوتا جائے گا کیونکہ پورا ملک ہی مہنگا ہو رہا ہے۔'

اُنھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس متبادل شہر نہیں ہیں جیسا کہ امریکہ میں نیویارک ہے، شکاگو ہے، میامی ہے اور بہت سے شہر ہیں۔ اس طرح برطانیہ میں لندن کے علاوہ مانچسٹر ہے، لیورپول ہے۔ ان ملکوں میں آپ دوسرے شہروں میں نقل مکانی کر سکتے ہیں جہاں رہائشی اخراجات اتنے زیادہ ناقابل برداشت نہ ہوں۔

گذشتہ سال پیرس، زیورخ اور ہانگ کانگ اس فہرست میں اول نمبر پر آنے والے تین ملک تھے۔ زیورخ اور ہانگ کانگ اس سال بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں جس کے بعد نیویارک، جنیوا، کوپن ہیگن، لاس اینجلس اور اوساکا کا نمبر آتا ہے۔

تہران نے اس فہرست میں سب سے بڑی چھلانگ لگائی ہے اور وہ 79 ویں نمبر سے 29 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے درآمدات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں کورونا وائرس کی وجہ سے اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بہت سے ملک نکل رہے ہیں لیکن بڑے شہروں میں اچانک مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مال تجارت کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے جس سے قیمتوں میں عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

کورونا کی وبا سے طلب میں اتر چڑھاؤ رہتا ہے اور سرمایہ کار اور تاجر بھی تذبذب کا شکار رہتے ہیں جس سے نہ صرف قیمتوں پر اثر پڑتا ہے بلکہ کرنسی کی قدر بھی بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔

ای آیی یو کے اندازوں کے مطابق قیمتوں میں آنے والے مہینوں اور سال میں معتدل اضافہ ہو گا کیونکہ بہت سے ملکوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شرح سود میں آہستہ آہستہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

source: bbc.com/urdu

Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

کسان احتجاج میں 700 سے زیادہ اموات کا حکومت ہند کے پاس کوئی ریکارڈنہیں ،پارلیمنٹ میں بولے مرکزی وزیر -معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

کسان احتجاج میں 700 سے زیادہ اموات کا حکومت ہند کے پاس کوئی ریکارڈنہیں ،پارلیمنٹ میں بولے مرکزی وزیر -معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
  • 19m
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسانوں کے احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں اور ان کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی کو مالی امداد یعنی معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یہ تحریری جواب لوک سبھا میں پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں دیا ہے۔پارلیمنٹ میں سوال پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے پاس ان کسانوں کا کوئی ڈیٹا ہے جو احتجاج کے دوران مر گئے اور کیا حکومت ان کے اہل خانہ کو مالی امداد دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ جس کے جواب میں وزیر زراعت کا یہ جواب آیا ہے۔ وزیر نے اس ایوان کو یہ بھی بتایا کہ مرکزی حکومت نے کسان لیڈروں کے ساتھ 11 دور کی بات چیت کی تھی لیکن یہ بات نہیں بن سکی۔ دوسری طرف کسان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ بتا دیں کہ 11 دن پہلے قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے کسانوں سے معافی مانگی تھی.

مزید پڑھیں

No Internet connection