امارات کی وزارت خارجہ نےفجیرہ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی ہے،ا یران نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ جوکچھ ہوا وہ ہرمز کے ممنوعہ راستوں سے غیر قانونی طور پر جہازوں کے گزرنے کیلئے امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا اور اس کیلئے امریکی فوج کو جوابدہ ہونا چاہئے
متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اس کے آئل ٹینکر پر دو ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والا جہاز سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک سے وابستہ تھا۔ کمپنی کی میری ٹائم لاجسٹک یونٹ کے مطابق بارکہ نامی جہاز اس وقت خالی تھا اور فیلنگ کیلئے جا رہا تھا، جبکہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امارات کا الزام ہےکہ ایران نے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کو بھی ڈرون حملوںکا نشانہ بنایا جس میں ۲؍افراد زخمی ہوئے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے بلا اشتعال حملوں کو فوری طور پر بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔دوسری جانب قطر نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ بنایا جانا چاہیے۔
ادھر پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسی روز امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر پسپائی پر مجبور کیا، جبکہ جنوبی کوریا کے ایک جہاز میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔تاہم سینٹکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی امریکی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور امریکی پرچم بردار دو جہاز بحفاظت اس گزرگاہ سے گزر چکے ہیں۔اس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے امریکی موقف کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کے ہیکروںکا فجیرہ بندرگاہ پرسائبرحملہ
اس دوران ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیکر گروپ حندلہ نے فجیرہ بندرگاہ کے خلاف سائبر آپریشن کرتے ہوئے بھی بڑی خفیہ معلومات حاصل کر لی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ سائبر آپریشن کے دوران شپنگ، مالیات اور انفرااسٹرکچر سے متعلق۴؍ لاکھ۳۰؍ ہزار سے زائد خفیہ دستاویزات حاصل کی گئیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معلومات فجیرہ بندرگاہ پر حملوں میں معاونت کے لیے استعمال کی گئی تھیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ہیکر گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعاون ان کی نگرانی میں ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایک روز قبل فجیرہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، جن کا تعلق ہندوستان سے بتایا گیا ہے۔
حملے ایران سے نہیںہوئے نہ ہی کوئی منصوبہ تھا : تہران
اس دوران ایرانی فورسیز کے ذرائع نے یو اے ای پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات پر حملے ایران سے نہیں ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز ذرائع نے یو اے ای پر حملوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پر حملے ایران سے نہیں ہوئے اور نہ ہی حملے کا کوئی منصوبہ تھا۔ایک ایرانی فوجی اہلکار نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس تیل کی تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے منصوبہ بند پروگرام نہیں تھا ۔ جو کچھ ہوا وہ ہرمز کے ممنوعہ راستوں سے غیر قانونی طور پر بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا جس کیلئے امریکی فوج کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ امریکہ کو سفارتی عمل میں طاقت کے استعمال کے بدصورت رویے کو ختم کرنا ہوگا۔

