گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے انسانی امدادی بیڑے پر حملہ کرتے ہوئے متعدد کشتیوں پر قبضہ کر لیا اور سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ ۵۴؍ کشتیوں پر مشتمل قافلہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہوا تھا اور اسرائیلی جنگی جہاز مسلسل اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ۳۰۰؍ کے قریب کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلانے منگل کو الزام عائد کیا کہ اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے اس کے انسانی امدادی بیڑے پر حملے اور سوار ہونے کی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ قافلہ غزہ پٹی کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔ فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ''انٹرسیپشن جاری ہے۔ اسرائیلی فوجی جہاز اس وقت غیر قانونی طور پر ہمارے بیڑے میں سوار ہیں۔ ہم ہائی الرٹ ہیں کیونکہ ہم غزہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم خوفزدہ ہونے سے انکار کرتے ہیں۔''
منتظمین کے مطابق ۵۴؍ کشتیوں پر مشتمل یہ بیڑا گزشتہ جمعرات کو ترکی کے ساحلی شہر مارمارس سے روانہ ہوا تھا تاکہ ۲۰۰۷ء سے غزہ پر نافذ اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔ فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اس میں ۴۲۶؍ کارکن شامل تھے، جن کا تعلق ۳۹؍ مختلف ممالک سے تھا، جن میں ترکی، انڈونیشیا، پاکستان، برطانیہ، آئرلینڈ، امریکہ، کنیڈا، جنوبی افریقہ، فرانس اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ فلوٹیلا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسیز نے ۱۰؍ امدادی کشتیوں پر حملہ کیا جبکہ اسرائیلی نیوز ویب سائٹ والا نے ایک نامعلوم سیکوریٹی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے ۵۴؍ میں سے ۴۰؍ سے زائد کشتیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور تقریباً ۳۰۰؍ کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
منتظمین کے مطابق، قافلہ اس وقت غزہ کے ساحل سے تقریباً ۱۲۱؍ سمندری میل کے فاصلے پر موجود تھا جب کارروائی کی گئی۔ یہ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران بحری بیڑے پر دوسرا اسرائیلی حملہ تھا۔ اپریل کے آخر میں بھی اسرائیلی فورسیز نے یونانی جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کشتیوں کو روکا تھا۔ اس کارروائی میں ۲۱؍ کشتیوں پر قبضہ کیا گیا تھا جبکہ ۱۷۵؍ کے قریب کارکنوں کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ اس مرتبہ بھی کئی ممالک نے اپنے شہریوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
Israels Kriegsmarine 🇮🇱 hat 23 Hilfsschiffe der Global Sumud Flotilla auf dem Weg nach Gaza 🇵🇸 illegal in internationalen Gewässern gestürmt. 180 Aktivisten wurden verschleppt, darunter auch Deutsche 🇩🇪. Was die Bundesregierung zu diesen Verbrechen sagt: Nichts. pic.twitter.com/jL65HhIHRN
انڈونیشیا کے وزیر برائے قانونی امور یسریل احزا ماہيندرانے کہا کہ جکارتہ اسرائیلی فورسیز کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے قانونی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''یہ معاملہ فوری وضاحت کا تقاضا کرتا ہے، اور ہم سخت قانونی اقدامات کریں گے کیونکہ ہمارے شہریوں کی آزادی اور حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔'' انڈونیشیا نے اس سے قبل بھی فلوٹیلا کو روکنے کی اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی تھی۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق دو صحافیوں سمیت نو انڈونیشی شہری اس مشن کا حصہ تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی اسلحہ اسمگلنگ روکنے کے لیے ضروری ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی جانب جانے والی تمام غیر مجاز بحری سرگرمیوں کو روکا جائے گا۔ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث امدادی بیڑوں کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں ۷۲؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ۱۷۲۷۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ شدید قحط، ادویات کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا سامنا کر رہا ہے۔
فلوٹیلا منتظمین نے کہا ہے کہ ان کا مشن ''خالصتاً انسانی'' ہے اور وہ غزہ تک خوراک، طبی امداد اور انسانی یکجہتی پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں، چاہے انہیں اسرائیلی رکاوٹوں کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

