نارویجین صحافی ہیلے لینگ نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مودی کو ناروے میں مشترکہ پریس بیان کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دیئے بغیر وہاں سے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو چلاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "آپ دنیا کی آزاد ترین پریس کے کچھ سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟"
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے افسران اور ایک نارویجین صحافی کے درمیان اس وقت شدید نوک جھونک ہوگئی جب وہاں کے میڈیا نمائندوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے نارویجین وزیرِ اعظم جوناس گہر اسٹورے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سوالات کے جوابات نہ دینے پر اعتراض کیا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک نارویجین روزنامے کی نمائندہ ہیلے لینگ (Helle Lyng) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مودی کو ناروے میں مشترکہ پریس بیان کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دیئے بغیر وہاں سے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو چلاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "آپ دنیا کی آزاد ترین پریس کے کچھ سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟"
Primeminister of India, Narendra Modi, would not take my question, I was not expecting him to.
Norway has the number one spot on the World Press Freedom Index, India is at 157th, competing with Palestine, Emirates & Cuba.
It is our job to question the powers we cooperate… pic.twitter.com/vZHYZnAvev
لینگ نے بعد میں ایک پوسٹ میں لکھا کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے سر فہرست ہے جبکہ ہندوستان ۱۵۷ ویں مقام پر فلسطین، متحدہ عرب امارات اور کیوبا جیسے ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حکومتوں سے سوال کریں جن کے ساتھ وہ تعاون کرتے ہیں۔
یہ معاملہ بعد میں مودی کے دورہِ یورپ پر وزارتِ خارجہ کی ایک پریس بریفنگ میں بھی اٹھا، جہاں اسی صحافی نے ہندوستانی حکام سے "اعتماد" اور ہندوستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سوالات کئے۔ صحافی نے پوچھا کہ "ہم آپ پر کیوں بھروسہ کریں؟" اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا کہ کیا مودی ہندوستانی پریس سے "تنقیدی سوالات" لینا شروع کریں گے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے ہندوستان کے جمہوری اور آئینی ڈھانچے کا دفاع کیا اور ہندوستان کو "۵۰۰۰ سال پرانی تہذیب کا حامل ملک" قرار دیا۔ جارج نے کووڈ-۱۹ وبائی مرض کے دوران دوسرے ممالک کو فراہم کی جانے والی امداد سمیت ہندوستان کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور جی۔۲۰ اور اے آئی سربراہی اجلاس جیسے فورمز میں ہندوستان کے کردار کا حوالہ دیا۔
یہ بحث اس وقت گرم ہوگئی جب صحافی نے انسانی حقوق کے تحفظات پر براہِ راست جوابات مانگتے ہوئے جارج کے بیان کے دوران میں بار بار مداخلت کی۔ جارج نے اس دوران کئی بار کہا کہ "براہِ کرم میری بات میں مداخلت نہ کریں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "کب جواب دینا ہے، کہاں جواب دینا ہے، کیسے جواب دینا ہے۔۔۔ یہ میرے اختیارات ہیں۔ آپ سوال پوچھیں، مجھ سے کسی خاص انداز میں جواب دینے کا مطالبہ نہ کریں۔"
Absolutely schooled. @MEAIndia just delivered a masterclass in diplomacy, completely shutting down the uninformed rhetoric from pompous hired gun @HelleLyngSvends with a much needed reality check. 🇮🇳
Courtesy @DDNewslive@narendramodi@PMOIndia@IndiainNorwaypic.twitter.com/wZgNk1PFjk
جارج نے ہندوستان پر ان رپورٹس کی بنیاد پر کی جانے والی تنقید کو بھی مسترد کر دیا جنہیں انہوں نے "جاہل این جی اوز" کی رپورٹس قرار دیا اور ہندوستان کے میڈیا ایکو سسٹم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہلی میں ہی متعدد زبانوں کے کم از کم ۲۰۰ ٹیلی ویژن چینلز موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنے آئین کے ذریعے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ خواتین کو ہندوستان میں ۱۹۴۷ء میں آزادی کے وقت سے ہی ووٹ کا حق حاصل ہے۔ جارج نے مزید کہا کہ "اگر کسی کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو انہیں عدالت جانے کا حق ہے۔ ہمیں جمہوریت ہونے پر فخر ہے۔"
جارج سے جب دوبارہ پوچھا گیا کہ مودی نے پریس سے سوالات کیوں نہیں لئے، تو جارج نے کہا کہ اس دورے کو سنبھالنے والے اہلکار کی حیثیت سے میڈیا کو بریف کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں یہ کرتا رہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا۔"
My colleague and I asked questions tonight both on why we should trust India given the human violations rights, and also about the visit.
I tried multiple times to get them to be specific on human rights, but I was unsuccessful. The representatives talked about India's effort…
نارویجین صحافی نے بعد میں ایکس پر پوسٹ کیا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھی نے انسانی حقوق اور اس دورے کے حوالے سے مخصوص سوالات پوچھنے کی کوشش کی لیکن براہِ راست جوابات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک اور پوسٹ میں، انہوں نے وضاحت کی کہ وہ "کسی بھی قسم کی غیر ملکی جاسوس نہیں ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ان کا کام صحافت ہے، جو "بنیادی طور پر ناروے میں" ہے۔

