ریٹنگ فرم کریسل ریٹنگز کا اندازہ ہے کہ بیرونی شعبے کے چیلنجوں کے بعد بھی سرکاری سرمایہ کاری کے اخراجات، بجلی، کان کنی، تیل اور گیس، دھات اور گاڑیوں کے شعبے میں صلاحیت کی مسلسل توسیع سے ملک میں سرمایہ کاری کا سامان بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں موجودہ مالی سال کے دوران۱۲۔۱۴؍ فیصد کی شرح سے ترقی ہوگی۔
ریٹنگ فرم کریسل ریٹنگز کا اندازہ ہے کہ بیرونی شعبے کے چیلنجوں کے بعد بھی سرکاری سرمایہ کاری کے اخراجات، بجلی، کان کنی، تیل اور گیس، دھات اور گاڑیوں کے شعبے میں صلاحیت کی مسلسل توسیع سے ملک میں سرمایہ کاری کا سامان بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں موجودہ مالی سال کے دوران۱۲۔۱۴؍ فیصد کی شرح سے ترقی ہوگی۔
کریسل ریٹنگز کے جمعہ کو جاری کردہ ایک پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے لیے بنیادی ڈھانچے کی توسیع جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں سے سرمایہ کاری کے سامان کا کاروبار بڑھے گا۔ اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے، پچھلے مالی سال کی طرح اس مالی سال بھی کیپٹل گڈز انڈسٹری کے لیے۱۲۔۱۴؍ فیصد کی آمدنی کی ترقی یقینی لگتی ہے۔
ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری اشیاء کی صنعت کے کاروبار پر مغربی ایشیا میں جاری پیش رفتوں سے گروتھ پر کوئی خاص اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ مختلف قسم کی آرڈر بک اور مغربی ایشیا میں ہندوستانی کمپنیوں کی موجودگی محدود ہے، جس سے بچاؤ ہوا ہے اور زیادہ تر کمائی گھریلو بازار سے ہی آتی ہے۔
کریسل ریٹنگز کے مطابق سرمایہ کاری اشیاء کی صنعت کا آپریٹنگ مارجن اس مالی سال ۱۲۔۱۳؍ فیصد کے دائرے میں رہنے کی امید ہے۔ کریسل ریٹنگز کے ڈائریکٹر آدتیہ جھاور نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کیپٹل گڈز کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں اس مالی سال میں ۱۲؍ سے۱۴؍ فیصد کی ترقی درج ہوگی۔ اس کی اہم وجہ بجلی کے شعبے، خاص طور پر رینیوایبل انرجی ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے اخراجات میں مضبوط دوہرے ہندسوں والی ترقی ہے۔ اس ترقی کو ریلوے اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں حکومت کے بڑھے ہوئے اخراجات سے اور بھی سہارا مل رہا ہے۔ ان شعبوں میں اس مالی سال میں سرمایہ کاری کے اخراجات کی رقم بالترتیب ۱۱؍ فیصد اور پانچ فیصد بڑھی ہے۔

