Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مودی کے اٹلی دورہ میں اسرائیل کاکنکشن!

مودی کے اٹلی دورہ میں اسرائیل کاکنکشن!

The Inquilab 22 hrs ago

پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایا ہے کہ مقصد اٹلی میں روکے گئے اُن ۴؍ جہازوں کو چھڑوانا تھا جن میں تل ابیب کیلئے ۸۰۰؍ ٹن اسٹیل بھیجا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ۱۵؍ سے ۲۰؍ مئی کے دوران متحدہ عرب امارات، نیدر لینڈس، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا تاہم اٹلی میں ان کی سرگرمیوں نے خاصی توجہ حاصل کی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی کیلئے ان کے''میلوڈی'' چاکلیٹ کے تحفے نے جہاں سوشل میڈیا پر دھوم مچادی وہیں اپوزیشن نے اس کو اوچھی حرکت قرار دیا اور حکومت کو نشانہ بنایا لیکن اب ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے وزیراعظم مودی کے اس دورے کو نیا رخ دے دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کے یورپ دورہ کا بنیادی مقصد اٹلی جانا اور وہاں روکے گئے ان جہازوں کو چھڑوانا تھا جن پرہندوستان سے اسرائیل کیلئے ملٹری گریڈ کا اسٹیل بھیجا گیاتھا۔ پرکاش امبیڈکر نے اس تعلق سے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں ناروے، سویڈن اور نیدر لینڈس کادورہ میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تھا،وزیراعظم کی اصل منزل اٹلی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ''اس وقت ملک میں، گیس، ڈیزل، پیٹرول ،کسانوں کیلئے سلفر اور کھاد کا مسئلہ دراصل وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔''

اس کی تفصیل فراہم کرتےہوئے انہوں نےبتایا کہ ''اٹلی میں بائیکاٹ ، ڈِس انویسٹ منٹ اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) اور موومنٹ نو ہار بر فار جینوسائڈ(این ایچ بی) نامی ۲؍ تنظیمیں ہیں جو اسرائیل اور فلسطین تنازع کے پس منظر میں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اٹلی کی بندر گاہوں سے ہوکرکوئی سامان اسرائیل نہ جائے۔'' پرکاش امبیڈکر نے بتایا کہ یہ تنظیمیں اٹلی کے ملازمین کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممبئی کے قریب جے این پی ٹی اور چنئی کی بندرگاہ سے نکلے ہوئے ۴؍ جہاز مذکورہ تنظیموں کی نشاندہی پر اٹلی میں روکے گئے ہیں جن میں تقریباً ۸۰۰؍ ٹن ملٹری گریڈ اسٹیل ہے۔ یہ اسٹیل اسرائیل جارہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز کو روکنےوالی تنظیموں کا الزام ہے کہ اگریہ اسٹیل اسرائیل پہنچ گیاتواس سے کم از کم ۱۷؍ ہزار بم گولے تیار ہوں گےجن کا استعمال فلسطین میں نسل کشی کیلئے کیا جائے گا۔'

اٹلی کی بندرگاہوں پر روکے گئے جہازوں کا معاملہ کیا ہے؟

مشرق وسطیٰ اور بطور خاص فلسطین کی خبروں کے پورٹل 'مڈل ایسٹ آئی' کے مطابق بائیکاٹ ، ڈِس انویسٹ منٹ اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) اور موومنٹ نو ہار بر فار جینوسائڈ(این ایچ بی) نے متنبہ کیا ہے کہہندوستان کی جانب سے اسرائیل کیلئے فوجی سپلائی کا ''سیلاب'' آگیا ہے۔ دونوں تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کے مطابق، اسرائیل کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کی جانب جانے والے مختلف جہازوں میں فوجی معیار کے اسٹیل کی ۶؍شپمنٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ ان میں تقریباً۸۰۶؍ ٹن فوجی معیار کا اسٹیل ہے، جس سے اسرائیلی فوج کیلئے ۱۵۵؍ ملی میٹر کے تقریباً ۱۷؍ ہزار ۴۵۸؍ گولے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ تنظیموں کے مطابق ان میں سے ۳؍ شپمنٹ جو جنیوا کی ایک کمپنی کے توسط سے بھیجی جارہی تھیںاٹلی میں روکی گئی ہیں۔ ان میں سے ۲؍کالابریا کے علاقے جیویا تاؤرو اور ایک سارڈینیا کے شہر کالیاری میں موجود ہے، جہاں حکام نے معائنے کیلئے سامان روک رکھا ہے۔تحریک نے کہا کہ مزید دو شپمنٹ جیویا تاؤرو میں روکی گئی ہیں، جہاں بندرگاہ کے ملازمین کی تنظیمیں حکام پر جہازوں کے معائنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ذہن نشین رہے کہ ان تمام دعوؤں کی جو پرکاش امبیڈکر کے الزامات کا بھی حصہ ہیں، سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اٹلی کی بندرگاہوں کی مذکورہ مزدور یونینوں نے ان جہازوں کو روک دیا ہے اور وزیراعظم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اٹلی پہنچے ہیں کہ یہ بات منظر عام پر نہ آسکے کہ ہندوستان اسرائیل کو اسٹیل بھیج رہا ہے ۔ پرکاش امبیڈکر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایپسٹین فائل میں نام آجانے کی وجہ سے دنیا کا ہر ملک وزیراعظم پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک وزیراعظم مودی کا نام ایپسٹین فائل میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔ پرکاش امبیڈکر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کو جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان اسرائیل کو اسٹیل بھیج رہا ہے،اس نے ہندوستان کو تیل اور گیس کی فراہمی کم کردی اس لئے ملک میں اس وقت ایندھن کا بحران ہے ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab