فرانس کا کہنا ہے کہ اس سمندری راستے کو کھولنے کیلئے وہ جلد ہی اقوام متحدہ میں ایک جامع تجویز پیش کرے گا۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے طاقت کا استعمال خطے میں تنازع کی شدت میں اضافے کرے گا۔ فرانس نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک خطرناک نظیرہے۔ خاص طور پر اگر اس کا اثر دنیا بھر کی دیگر آبی گزرگاہوں تک پھیل جائے جس سے بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
پیرس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت فوجی اور سیاسی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں جن کا مقصد آبنائے کو پرامن طریقے سے کھولنے کیلئے کام کرنا ہے۔ پیرس نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کو تلاش کرنے کیلئے سلامتی کونسل کے اندر ایک تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضمانت فراہم کرے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال کا نہر سوئز سے گزرنا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں واضح سیاسی مفہوم رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ فرانس نے رواں ماہ کے شروع میں بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں طیارہ بردار بحری جہاز 'چارلس ڈی گال' کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنے کے مستقبل کے مشن کی تیاری کرے گا۔اس طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک وسیع تر بین الاقوامی اقدام کا حصہ ہے جس کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کیلئے ایک اہم شریان ہے اور اس کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

