جاپان میں تقریباً نصف معمر خواتین تعلقات کے مشورے کے لیے انسانوں کے مقابلے میںاے آئی کو ترجیح دیتی ہیں، یہ انکشاف ایک حالیہ سروے میں ہوا ہے جواے آئی کی صحبت اور مشاورت کی طرف بدلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
جاپانی نیوز ایجنسی کیوڈو کے مطابق، ''جاپان انسٹی ٹیوٹ فار پروموشن آف ڈیجیٹل اکانومی اینڈ کمیونٹی'' کی جانب سے کروائے گئے آن لائن سروے میں بتایا گیا کہ۶۰؍ اور۷۰؍ کی دہائی میں خواتین میں سے۴۷؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد نے کہا کہ وہ تعلقات سے متعلق مسائل پر انسانوں کے مقابلے میںاے آئی سے مشورہ لیں گی۔ اسی عمر کی صرف ۳۷؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد خواتین نے کسی انسان سے بات کرنے کو ترجیح دی۔تاہم، تمام عمر کے گروپوں اور صنفوں کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر انسانوں سے مشورہ لینا زیادہ عام انتخاب تھا۔۴۵؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد افراد نے انسانوں کو ترجیح دی، جبکہ ۳۶؍ اعشاریہ ۵؍فیصد نے اے آئی کو پسند کیا، ان کا کہنا تھا کہ اے آئی زیادہ معروضی (آزادانہ) اور غیر جانب دارانہ مشورہ دیتا ہے۔
بعد ازاں معمر مردوں میں سے۵۷؍ فیصد نے کہا کہ وہ کسی دوسرے انسان سے مشورہ کرنا پسند کریں گے، جبکہ۲۵؍ اعشاریہ۲؍ فیصد نےاے آئی کو ترجیح دی۔چیبا یونیورسٹی کے محقق اتسوشی ناکاگومی، جواے آئی اور انسانی صحت کے ماہر ہیں، نے کہا کہ بزرگ خواتین کے نتائج غیر متوقع تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی عوام کو اپنے دل کی بات کہنے میں زیادہ آسانی محسوس کراتا ہے، کیونکہ وہ اس فکر کے بغیر مشورہ لے سکتے ہیں کہ لوگ ان کی باتوں کوکس نظر سے دیکھیں گے۔''
واضح رہے کہ موجودہ دور میں اے آئی زندگی کے بیشتر پہلو میں اپنی موجودگی درج کرارہا ہے، جہاں ایک جانب ہر عمر کے افراد ، دوسری جانب ہر شعبہ سے منسلک افراد اسے اپنے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انسانی زندگی میں انسانی دخل بتدریج کم ہو رہا ہے، انسانی زندگی میں اے آئی کے بڑھتے استعمال کو یہ سروے بخوبی ظاہر کرتا ہے۔ یہ سروے جنوری کے وسط میں آن لائن کیا گیا تھا، جس میں جاپان بھر سے۱۸؍ سے ۷۹؍ سال کی عمر کے۱۴۴۹؍ افراد نے شرکت کی۔

