مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل ۲۵؍ سے ۲۷؍ مئی تک کنیڈا کے دورے پر جائیں گے۔ اس دوران ان کے ساتھ تقریباً ۱۵۰؍ صنعت کاروں اور کاروباری لیڈروں کا ایک وفد بھی ہوگا۔
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل ۲۵؍ سے ۲۷؍ مئی تک کنیڈا کے دورے پر جائیں گے۔ اس دوران ان کے ساتھ تقریباً ۱۵۰؍ صنعت کاروں اور کاروباری لیڈروں کا ایک وفد بھی ہوگا۔ اس دورے کا مقصد ہندوستان اور کنیڈاکے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ہندوستان اورکینڈا اگلے پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو ۵۰؍ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ایک پریس بریفنگ میں گوئل نے کہا کہ ہندوستان کو امید ہے کہ کینڈا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کیا جائے گا، جس میں توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) جیسے شعبے بھی شامل ہوں گے۔ مذاکرات میں ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، صاف توانائی اور کریٹیکل منرلز میں تعاون پر بھی زور دیا جائے گا۔
وزیر کے مطابق، کینیڈین پنشن فنڈز اور کمپنیاں ہندوستان میں تقریباً ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً ۶۰۰؍ کینیڈین کمپنیاں ہندوستانمیں کام کر رہی ہیں اور دونوں ممالک اس تعداد کو بڑھا کر ۱۰۰۰؍ تک لے جانا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، توانائی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مضبوط تعلقات قائم ہیں اور جامع تجارتی معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔
گوئل ۲۵؍ مئی کو اوٹاوا اور۲۶۔۲۷؍مئی کو ٹورنٹو میں ہندوستانی صنعتکاروں کے وفد کے ساتھ مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔یہ دورہ مارچ۲۰۲۶ء میںکنیڈاکے وزیرِاعظم مارک کارنی کے دورۂ ہندوستان کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے طے کردہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور عوامی تعلقات کو نئی رفتار دینا ہے۔اس دورے کا بنیادی فوکس ہندوستان ۔کنیڈاجامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) کے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہوگا۔
مارچ ۲۰۲۶ء میں وزیرِاعظم کارنی کے دورۂ ہندوستان کے دوران اس معاہدے کے لیے ''ٹرمز آف ریفرنس'' پر دستخط کیے گئے تھے۔ مذاکرات کا پہلا دور مارچ میں آن لائن منعقد ہوا تھا، جبکہ دوسرا دور ۸؍ مئی کو مکمل ہوا۔ اس دورے کے دوران ۲۵؍ سے ۲۹؍ مئی تک اوٹاوا میں مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔ دونوں ممالک ۲۰۲۶ء کے اختتام تک متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند سی ای پی اے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ۲۰۳۰ء تک دوطرفہ تجارت کو۷۰؍ ارب کینیڈین ڈالر (تقریباً۶۵ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔فی الحال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال ۲۰۲۵ء میں ۵ء۸؍ ارب ڈالر پر ہے، جس میں کئی شعبوں میں توسیع کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ اس دوران، پیوش گوئل نے ہفتے کے روز کہا کہ کھادوں کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کسانوں پر نہیں ڈالا گیا اور اس کا پورا خرچ مرکزی حکومت نے برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہر شعبے میں ہندوستان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ وہ ایک پُراعتماد معیشت ہے، جو خود انحصاری کی راہ پر آگے بڑھ رہی ہے اور دنیا کے ساتھ مساوی اور منصفانہ بنیادوں پر تعلقات قائم کر رہی ہے۔''

