Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ٹی ای ٹی پاس کرنے کی مہلت میں توسیع

ٹی ای ٹی پاس کرنے کی مہلت میں توسیع

The Inquilab 5 days ago

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کیخلاف نظرثانی پٹیشن خارج کردی لیکن ڈیڈ لائن میں مزید ایک سال یعنی ۲۰۲۸ء تک توسیع کردی۔

ملک بھرکے لاکھوں سرکاری اساتذہ کیلئے سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ تدریسی ملازمت میں برقرار رہنے اور ترقی حاصل کرنے کے لئے ٹیچرز اہلیتی امتحان (ٹی ای ٹی) پاس کرنا لازمی ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں بعض اساتذہ اور ان کی تنظیموں کی جانب سے ٹی ای ٹی سے استثنیٰ دینے کی مانگ کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے اصل میں اپنے ۲۰۲۵ء کے فیصلے کے خلاف داخل کی گئی نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا اور پٹیشن داخل کرنے والوں کو سخت سست بھی کہا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنےتازہ فیصلے میں کہا کہ ۲۰۰۹ء سے پہلے سرکاری اسکولوں میں تقرر پانے والے اساتذہ کیلئے بھی ٹی ای ٹی کی شرط لاگو ہوگی۔ عدالت کا ماننا ہے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ اہلیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ صرف اپنی ملازمت بچانے یا ترقی حاصل کرنے کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ بچوں کے بہتر مستقبل اور معیاری تعلیم کی فراہمی کو بھی اپنی ترجیح بنائیں۔ بنچ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اساتذہ کا کردار نئی نسل کی تشکیل میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ستمبر۲۰۲۵ء میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سرکاری اساتذہ کو اپنی ملازمت برقرار رکھنے اور ترقی کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی صورت میں مجموعی طور پر ۶۵؍ عرضیاں عدالت میں دائر کی گئی تھیں۔ ان درخواستوں میں مختلف ریاستوں کے اساتذہ کی تنظیمیں بھی شامل تھیں، جنہوں نے عدالت سے ٹی ای ٹی کی شرط میں نرمی یا استثنیٰ دینے کی اپیل کی تھی۔تاہم سپریم کورٹ نے نظرثانی کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے باوجود عدالت نے اساتذہ کو ایک اہم راحت بھی فراہم کی۔کورٹ نے کہا کہ چونکہ تعلیم دینا ایک اہم مقصد ہے اور ہمارے اس حکم کی وجہ سے محکمہ تعلیم میںکوئی افراتفری نہ مچے اس لئے پہلے ٹی ای ٹی پاس کرنے کی جو آخری تاریخ ۳۱؍ اگست۲۰۲۷ء مقرر کی گئی تھی، اب اسے بڑھا کر ۳۱؍اگست۲۰۲۸ء کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ایسے اساتذہ جنہوں نے ابھی تک ٹی ای ٹی امتحان کامیابی سے پاس نہیں کیا، انہیں مزید ایک سال کا اضافی وقت مل گیا ہے۔

جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس منموہن کی بنچ نے واضح کیا کہ ٹی ای ٹی صرف ایک رسمی شرط نہیں بلکہ معیاری تعلیم کے آئینی حق سے جڑی ضرورت ہے ۔عدالت نے ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ ٹی ای ٹی امتحانات باقاعدگی سے اور ترجیحاً سال میں دو مرتبہ منعقد کئےجائیںتاکہ اساتذہ کو امتحان پاس کرنے کے مناسب مواقع مل سکیں۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایک مرتبہ کی رعایت ہے اور آئندہ مدت میں مزید توسیع کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ عرضی گزاروں نے عدالت میں یہ دلیل دی تھی کہ حق تعلیم قانون اور اس میں ۲۰۱۷ء کی ترمیم کو اُن اساتذہ پر ماضی سے نافذ نہیں کیا جا سکتا جن کی تقرری ان قوانین کے نافذ ہونے سے پہلے ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اساتذہ پہلے ہی ملازمت میں آچکے تھے ان پر بعد میں نئی شرط عائد کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔لیکن عدالت نے یہ دلیل بھی قبول نہیں کی۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی مؤقف تھا کہ ملازمت کے دوران اچانک ٹی ای ٹی لازمی قرار دینا سروس شرائط میں غیر مجاز تبدیلی کے مترادف ہےکیونکہ جب ان اساتذہ کی تقرری ہوئی تھی اُس وقت ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھی لہٰذا سروس کے درمیان میں نئی اہلیت نافذ کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔تاہم، سپریم کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا ۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ تعلیمی معیار میں بہتری کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مشترکہ اہلیتی معیار اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا کہ ملک بھر کے طلبہ کو بہتر اور قابل اساتذہ میسر آئیں۔ یاد رہے کہ قومی کونسل برائے اساتذہ تعلیم نے ٹی ای ٹی کو ایک اہم معیار کے طور پر نافذ کیا تھا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab