Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا

شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا

The Inquilab 3 weeks ago

آر پی جی گروپ کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے بیرون ملک بعض ہندوستانیوں کے رویوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان عالمی طاقت بننا چاہتا ہے تو شہری شعور، نظم و ضبط اور دوسروں کے احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے سوئزرلینڈ کے ایک ہوٹل میں ہندوستانی مہمانوں کے لیے مخصوص قواعد دیکھنے اور حالیہ وائرل ویڈیوز، جن میں بیرون ملک عوامی مقامات پر گربا رقص اور شور شرابہ شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہندوستان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

معروف صنعتکار ہرش گوئنکا نے بیرون ملک بعض ہندوستانیوں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانیوں کے ''شہری شعور'' یا ''سوک سینس'' کو سنجیدگی سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر بیرون ملک عوامی مقامات اور ریستوراں میں گربا پرفارمنس اور دیگر سرگرمیوں کے ویڈیوز وائرل ہو رہے ہیں۔ گوئنکا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگرچہ ہندوستانی دنیا بھر میں کاروبار، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، لیکن بعض رویے غیر ضروری منفی توجہ بھی حاصل کر رہے ہیں اور ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

A group of happy and excited Gujaratis are receiving hate for playing garba at an airport in Vietnam.

Many Indians are outraging that it is because of them others have to face racism.

But hey, it is mostly Gujjus who go on a vacation. Not you guys! pic.twitter.com/UaxGz8CQEG

انہوں نے اپنے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سوئزرلینڈ کے مشہور ریزورٹ شہر گسٹاڈ میں ایک ہوٹل کے دورے کے دوران انہوں نے ایک ایسا نوٹس دیکھا جو صرف ہندوستانی مہمانوں کے لیے مخصوص تھا۔ ان کے مطابق ہوٹل نے مہمانوں کو ناشتے کے بوفے سے کھانا بعد میں استعمال کے لیے نہ لے جانے، راہداریوں اور بالکونی میں شور نہ مچانے، اور دیگر مہمانوں کے آرام کا خیال رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ گوئنکا نے کہا کہ اس نوٹس نے انہیں حیران کر دیا کیونکہ کسی خاص قومیت کے لیے الگ قواعد مرتب کرنا غیر معمولی بات تھی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ چند افراد کے رویے بعض اوقات پوری برادری کے بارے میں تاثر قائم کر دیتے ہیں۔

انہوں نے حالیہ وائرل ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا جن میں ہندوستانی گروپ بیرون ملک ریستوراں اور عوامی مقامات پر گربا رقص کرتے دکھائی دیے۔ اسی طرح انہوں نے ہوائی اڈوں اور پروازوں کے دوران بلند آواز میں گفتگو یا گھر سے لایا گیا کھانا اجتماعی انداز میں کھانے جیسے واقعات کا ذکر کیا۔ گوئنکا نے سوئزرلینڈ کے شہر داؤس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ایک ہندوستانی تاجر نے ایک کلب میں انتہائی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلائی جس کی آواز دور تک سنائی دے رہی تھی۔ اگرچہ بعض افراد نے اسے ہندوستانی ثقافت کی ''سافٹ پاور'' قرار دیا، تاہم گوئنکا کے مطابق اس سے مقامی لوگوں اور دیگر مہمانوں کو پریشانی ہوئی۔

اپنے پوسٹ میں انہوں نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جاپانی شہریوں کو ان کے نظم و ضبط، صفائی، شائستگی اور عوامی مقامات کے احترام کے لیے یاد رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی عالمی شناخت صرف اقتصادی ترقی یا آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی قائم ہونی چاہیے کہ ہندوستانی دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے رویوں کے ذریعے کیسا تاثر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ''اگر ہندوستان ایک حقیقی عالمی سپر پاور بننا چاہتا ہے تو دنیا کو ہندوستانیوں کو ان کی بہترین اقدار، دوسروں کے احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے لیے یاد رکھنا چاہیے۔''

گوئنکا کے بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بہت سے صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہری شعور، ٹریفک قوانین کی پابندی، صفائی اور عوامی آداب کی تعلیم بچپن سے دی جانی چاہیے۔ بعض صارفین نے اسکولوں میں اخلاقیات اور شہری ذمہ داریوں کے مضامین کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی۔ تاہم کئی افراد نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ چند افراد کے رویّوں کی بنیاد پر پوری قوم کو نشانہ بنایا جائے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے کروڑوں شہریوں میں سے چند مثالوں کو بنیاد بنا کر عمومی تاثر قائم کرنا مناسب نہیں اور غیر ملکی اداروں کو بھی مخصوص قومیتوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات سے گریز کرنا چاہیے۔

A Swiss hotel once displayed a list of special rules exclusively for Indian guests which I personally saw and was appalled.

Today, videos of garba in restaurants, loud conversations in airports, and turning aircraft cabins into picnic spots keep doing the rounds. Even in Davos,… pic.twitter.com/ccljdLmDfk

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سفر، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہری آداب اور ثقافتی حساسیت کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بیرون ملک افراد کا رویّہ نہ صرف ان کی ذاتی شناخت بلکہ ان کے ملک کے بارے میں تاثر کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بحث سوشل میڈیا سے نکل کر ایک وسیع سماجی موضوع بن چکی ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab