وزیراعظم نے نوجوان افسران سے کہا کہ وہ ملک کی تعمیر میں اپنے کردار کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور صرف عہدہ حاصل کرنے پر نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کے حصول پر اطمینان محسوس کریں اور ہمہ وقت پُر عزم رہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوان سول سروس افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ مضبوط عزم، اختراع اور شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کے جذبے کے ساتھ قوم کی تعمیر کیلئے خود کو وقف کریں۔ وزیراعظم نے منگل کو یہاں 'سیوا تیرتھ' میں انڈین سول سروس (آئی اے ایس)۲۰۲۴ء بیچ کے۱۸۳؍ تربیتی افسران سے گفتگو کی۔ ان افسران کو مختلف وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ نوجوان افسران نے فیلڈ ٹریننگ اور وزارتوں میں اپنی تعیناتی کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کا تبادلہ کیا۔افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو سال کے فیلڈ تجربے اور انتظامی تربیت کے بعد وہ اب ایک ایسے اہم مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے فیصلے نہ صرف ان کے اپنے کریئر بلکہ کروڑوں شہریوں کے مستقبل کو بھی متاثر کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی خدمت کا اصل امتحان دیانت داری، حساسیت اور عزم کے ساتھ حقیقی زندگی کے حالات سے نمٹنے سے شروع ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے نوجوان افسران سے کہا کہ وہ مضبوط ارادے، اختراعی سوچ اور شہری مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے ذریعے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر انتظامی فائل کے پیچھے موجود انسانی پہلو کو ہمیشہ یاد رکھا جائے کیونکہ ہر فائل بے شمار شہریوں کی امیدوں، خدشات اور زندگیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔'ناگرک دیوو بھو' کے منتر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ ہر فیصلے میں شہریوں کو مرکزیت دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکمرانی حساس، جوابدہ اور جامع رہے۔ وزیر اعظم نے پورے حکومتی نظام میں باہمی تعاون کے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی سے متعلق بڑے چیلنجز کو مختلف محکموں میں تقسیم کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی اور پائیدار نتائج حاصل کرنے کیلئے محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے۔وزیر اعظم نے 'وکست بھارت۲۰۴۷' کے ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی دہائیوں میں ہر پالیسی اور انتظامی فیصلہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے مقصد سے وابستہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی ترجیحات میں آتم نربھر بھارت، میک اِن انڈیا، مینوفیکچرنگ میں اضافہ، توانائی کا تحفظ اور نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی میں حکمرانی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اب 'عمل پر مبنی ماڈل' سے نکل کر نتائج پر مبنی نقطۂ نظر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو آسانی اور شفافیت کے ساتھ سہولیات فراہم کرنے میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا۔وزیرِ اعظم نے اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا کو صرف نمبروں کے طور پر نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی اجتماعی زندگی، چیلنجز اور امیدوں کے عکس کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ مسلسل اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ آیا ان کی پالیسیاں زمینی سطح پر مؤثر نتائج پیدا کر رہی ہیں یا نہیں۔ انہوںنے ملک کی تعمیر میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی زور دیا اور بتایا کہ موجودہ بیچ میں۴۰؍ فیصد سے زائد خواتین افسران شامل ہیں۔ وزیراعظم نے نوجوان افسران سے کہا کہ وہ ملک کی تعمیر میں اپنے کردار کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور صرف عہدہ حاصل کرنے پر نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کے حصول پر اطمینان محسوس کریں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی توانائی، صلاحیت اور لگن ملک کی ترقی کے سفر کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے عملہ جتیندر سنگھ، وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری پی کے مشرا، پرنسپل سیکریٹری شکتی کانت داس، کابینہ سیکریٹری ٹی وی سومناتھن، سیکریٹری (ڈی او پی ٹی) رچنا شاہ، لال بہادر شاستری اکیڈمی کے ڈائریکٹر شری رام ترنیکانتی اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

