Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور کی تقریر میں کمیونزم کو 'دشمن' قرار دیا، 'سوشلسٹ ڈیموکریٹس' کو نشانہ بنایا

ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور کی تقریر میں کمیونزم کو 'دشمن' قرار دیا، 'سوشلسٹ ڈیموکریٹس' کو نشانہ بنایا

The Inquilab 1 week ago

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خود کو 'سوشلسٹ' کہنے والے ڈیموکریٹ لیڈران پر تنقید کررہے تھے، اس طرح ٹرمپ ۲۵۰ ویں یومِ آزادی کو وسط مدتی انتخابات کیلئے اپنی مہم کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن سیاست دانوں کا ذکر کر رہے تھے، لیکن حالیہ دنوں میں، پرائمری انتخابات میں 'ڈیموکریٹک سوشلسٹ' امیدواروں کی کامیابی پر وہ بے چین ہوگئے تھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یومِ آزادی سے قبل کی شب کو ماؤنٹ رشمور (Mount Rushmore) پر منعقدہ پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران، کمیونزم کو "امریکی آزادی کیلئے مہلک خطرہ"، امریکی آئین کا دشمن، ۴ جولائی ۱۷۷۶ء کا دشمن، اور مجموعی طور پر "دشمن" قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی شناخت کو "شدت پسندوں اور انتہا پسندوں" کی جانب سے حملے اور کمیونزم کے خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کمیونزم اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے ۹/۱۱ کے حملوں کے درمیان ایک مماثلت بھی قائم کی۔

July 3 was incredible but the best is yet to come!

President Donald J. Trump`s Full Speech on American Exceptionalism at Mount Rushmore on the eve of America`s 250th. pic.twitter.com/Zfa1jb5BFq

ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور پر اپنی نصف گھنٹے کی تقریر میں کہا: "آپ یا تو کارل مارکس کے وفادار ہو سکتے ہیں، یا پھر امریکہ کے وفادار ہو سکتے ہیں۔ آپ یا تو کمیونسٹ ہو سکتے ہیں، یا پھر محبِ وطن۔ آپ دونوں نہیں ہو سکتے۔" ٹرمپ نے اپنے یومِ آزادی کے خطبے کے حصے کے طور پر "کمیونزم کو جلد مٹانے" کا عہد کیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا، "انہیں اپنا زیادہ وقت نہ لینے دیں۔" یومِ آزادی کی شب کا پری پروگرام ژالہ باری اور بارش کی وجہ سے متاثر ہوا، جس کے باعث مہمانوں کو فوری طور پر پناہ لینی پڑی۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ "ہم اس خوبصورت پہاڑ پر آئے ہیں تاکہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کر سکیں جنہوں نے اسے ممکن بنایا، خاص طور پر ان چار شخصیات کا جو کسی بھی دوسرے شخص سے بڑھ کر اس سنگِ میل تک پہنچنے کے سب سے زیادہ ذمہ دار تھے۔"

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خود کو 'سوشلسٹ' کہنے والے ڈیموکریٹ لیڈران پر تنقید کررہے تھے، اس طرح ٹرمپ ۲۵۰ ویں یومِ آزادی کو وسط مدتی انتخابات کیلئے اپنی مہم کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن سیاست دانوں کا ذکر کر رہے تھے، لیکن حالیہ دنوں میں، پرائمری انتخابات میں 'ڈیموکریٹک سوشلسٹ' امیدواروں کی کامیابی پر وہ بے چین ہوگئے تھے۔

۳ جولائی کو امریکی یوم آزادی سے ایک دن قبل منعقدہ نہایت خصوصی نوعیت کی اس تقریب میں تقریباً ۴۸۰۰ ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی، جنہوں نے موسمِ بہار کے اوائل میں منعقدہ عوامی لاٹری کے ذریعے یہ ٹکٹ جیتے تھے۔ اس موقع پر دو فضائی مظاہرے بھی کئے گئے؛ ایئر فورس ون طیارے نے کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے دو بار ہجوم کے اوپر سے چکر لگایا۔ تقریب میں فوجی بینڈز کی پرفارمنس اور پریسجن ڈرل ٹیموں کے مظاہرے پیش کئے گئے۔ آخر میں، حاضرین نے گرینائٹ کے پہاڑ پر تراشے گئے صدارتی مجسموں کے اوپر آتش بازی کا شاندار نظارہ دیکھا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab